جرائم و حادثات

تلنگانہ کی سرکاری ملازمتوں میں بڑا اسکام – ایک ہی آدھار پر دو نام اور دو نوکریاں، 80 ڈپلیکیٹ ملازمین کی نشاندہی

حیدراباد –  تلنگانہ میں سرکاری ملازمتوں کے نظام میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ محکمہ فینانس کی جانب سے سرکاری ملازمین کے آدھار کارڈ کی تفصیلات کی جانچ کے دوران تقریباً 40 مشتبہ معاملات میں 80 ڈپلیکیٹ ملازمین کی نشاندہی کی گئی ہے۔ الزام ہے کہ یہ افراد ایک ہی آدھار نمبر پر مختلف ناموں سے دو الگ الگ سرکاری ملازمتیں کرتے ہوئے دو محکموں سے لاکھوں روپے کی تنخواہیں وصول کر رہے تھے۔

 

ذرائع کے مطابق یہ مشتبہ ڈپلیکیٹ ملازمین ریونیو، پنچایت راج، پولیس، صحت اور تعلیم سمیت مختلف سرکاری محکموں میں ملازمت کر رہے ہیں۔ بعض معاملات میں ایک ہی آدھار نمبر پر ایک محکمے میں ملازم کا اندراج مرد کے طور پر، جبکہ دوسرے محکمے میں خاتون کے طور پر کیا گیا ہے۔ اسی طرح بعض ریکارڈ میں ایک ہی آدھار نمبر پر مختلف ناموں اور مختلف مذہبی شناختوں کے ساتھ ملازمت کا اندراج پایا گیا ہے۔

 

جانچ کے دوران محکمہ صحت میں ڈی۔ پرمیلا رانی اور کے۔ پرمیلا کے نام سے ایک ہی آدھار نمبر پر دو ملازمتیں سامنے آئیں۔ محکمہ تعلیم میں کندنٹی موہن ریڈی اور باسی ریڈی موہن ریڈی کے نام سے ایک ہی آدھار نمبر پر دو ملازمتوں کا پتہ چلا۔ رجسٹرار آف کوآپریٹو محکمہ میں ڈی۔ لاونیا اور رامادیوی کے نام سے ایک ہی آدھار نمبر پر ملازمتیں پائی گئیں۔

 

اسی طرح ریونیو محکمہ میں اناپورنا اور ڈی جی پی دفتر میں بھی اناپورنا کے نام سے ایک ہی آدھار نمبر پر دو ملازمتیں اور دو تنخواہیں حاصل کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ پنچایت راج محکمہ میں سنتوش کمار نیل کنٹھ اور بیرا ستیش ریڈی کے نام سے ایک ہی آدھار نمبر پر دو ملازمتیں پائی گئیں، جبکہ اسی محکمہ میں چلوکوری سدرشن اور پلاسا موتیالو کے نام سے بھی ڈپلیکیٹ ملازمین کی نشاندہی کی گئی ہے۔

 

حکام کا کہنا ہے کہ بعض افراد نے مبینہ طور پر فرضی دستاویزات تیار کرکے مختلف محکموں میں ملازمتیں حاصل کیں اور سرکاری خزانے سے لاکھوں روپے کی تنخواہیں وصول کیں۔ ابتدائی جانچ میں صرف مارچ، اپریل اور مئی کے تین ماہ کے دوران بعض ڈپلیکیٹ ملازمین کی جانب سے تقریباً 5 لاکھ روپے تک تنخواہ حاصل کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔

 

محکمہ فینانس نے معاملہ کی مزید تفصیلی جانچ شروع کردی ہے۔ ڈپلیکیٹ ملازمین کی شناخت، ان کی تقرری کے طریقہ کار، استعمال کئے گئے دستاویزات اور اب تک وصول کی گئی تنخواہوں کی تفصیلات کی جانچ کی جا رہی ہے۔ معاملے کی سنگینی کے پیش نظر چیف سکریٹری نے متعلقہ حکام کو مکمل تحقیقات کرکے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت دی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button