مضامین

جب ہر پانچواں ووٹر مشتبہ ٹھہرے ایس آئی آر کے اعداد، بنگلورو کی تصویر اور جمہوریت کے سوالات

 

از: عبدالحلیم منصور

جمہوریت میں ووٹر فہرست محض ناموں کا ایک سرکاری رجسٹر نہیں ہوتی بلکہ یہ شہری کے اس بنیادی حق کی دستاویز ہوتی ہے جس کے ذریعے وہ ریاست کے اقتدار میں اپنی شرکت کا اظہار کرتا ہے۔ اسی لیے ووٹر فہرست سے جعلی، مردہ یا دوہرے اندراجات کی صفائی یقیناً ضروری ہے، لیکن اصلاح کے نام پر اگر اہل شہریوں کی ایک غیر معمولی بڑی تعداد ہی شک کے دائرے میں آ جائے تو معاملہ محض انتخابی انتظام کا نہیں رہتا بلکہ جمہوری اعتماد، انتظامی شفافیت اور حقِ رائے دہی کے تحفظ کا بنیادی سوال بن جاتا ہے۔

 

کرناٹک میں جاری خصوصی جامع نظرثانی کے دوران تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ سے زیادہ ووٹروں کو غیر حاضر، منتقل شدہ، متوفی، دوہرے اندراج یا دیگر زمروں میں نشان زد کیے جانے کی اطلاعات نے اسی سوال کو انتہائی اہم بنا دیا ہے کہ آخر ریاست کے تقریباً ہر پانچ میں سے ایک ووٹر ایسی فہرست میں کیسے پہنچ گیا جس میں اس کی انتخابی حیثیت پر دوبارہ سوال اٹھ کھڑا ہوا ہے؟ یہ بات اپنی جگہ واضح رہنی چاہیے کہ مذکورہ زمرے میں نشان زد ہونا حتمی اخراج کے مترادف نہیں؛ لیکن اتنی بڑی تعداد میں شہریوں کا مشتبہ دائرے میں پہنچ جانا بذاتِ خود ایک غیر معمولی صورت حال ہے، جس کی مکمل وضاحت انتخابی کمیشن پر عائد ہوتی ہے۔

 

اس معاملے کی سب سے تشویش ناک تصویر بنگلورو میں دکھائی دیتی ہے۔ انتخابی حکام کے جاری کردہ اعداد کے مطابق شہر کے تقریباً ایک کروڑ تین لاکھ رجسٹرڈ ووٹروں میں سے تقریباً نصف کو غیر حاضر، منتقل شدہ، متوفی، دوہرے اندراج یا دیگر زمروں میں نشان زد کیا گیا ہے۔ یعنی بنگلورو کے تقریباً نصف رجسٹرڈ ووٹر اس وقت مزید جانچ کے دائرے میں ہیں۔یہ محض ایک عدد نہیں بلکہ بنگلورو جیسے ملک کے سب سے بڑے شہری، صنعتی اور روزگار کے مراکز میں سے ایک کی مخصوص سماجی حقیقت سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ بنگلورو میں ملک کے مختلف حصوں اور خود کرناٹک کے اضلاع سے روزگار، تعلیم اور کاروبار کے لیے آنے والے لاکھوں افراد رہتے ہیں۔ کرائے کے مکانات تبدیل کرنا، ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں منتقل ہونا، عارضی طور پر آبائی گاؤں جانا یا ملازمت کی وجہ سے کچھ عرصے کے لیے گھر سے باہر رہنا یہاں معمول کی زندگی کا حصہ ہے۔ ایسے شہر میں کسی ووٹر کا گھر پر نہ ملنا لازماً اس بات کا ثبوت نہیں ہوسکتا کہ وہ ووٹر نہیں رہا۔

 

بلکہ بنگلورو کے اعداد نے ایک بنیادی سوال کو مزید نمایاں کردیا ہے: کیا نقل مکانی کو انتخابی عدم موجودگی کے برابر سمجھا جارہا ہے؟ اگر کسی شہری نے مکان بدلا ہے تو اس کے لیے انتخابی قانون میں رہائش کی منتقلی اور اندراج کی درستگی کا باقاعدہ طریقۂ کار موجود ہے۔ اگر کوئی شہری روزگار کے لیے دوسرے علاقے میں گیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اپنے حقِ رائے دہی سے محروم ہوگیا۔ اور اگر کوئی ووٹر گھر گھر جانچ کے وقت گھر پر موجود نہیں تھا تو اس عدم موجودگی کو مستقل طور پر ’’غائب‘‘ قرار دینے سے پہلے معقول تصدیق ضروری ہے۔بنگلورو کے اعداد میں ایک اور پہلو زیادہ تشویش پیدا کرتا ہے۔ بعض اسمبلی حلقوں میں مشتبہ قرار دیے گئے ووٹروں کا تناسب پچاس فیصد سے بھی تجاوز کرگیا ہے۔

 

یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ یہ اعداد حتمی طور پر خارج کیے جانے والے ووٹروں کی تعداد نہیں ہیں بلکہ جانچ کے لیے نشان زد ووٹر ہیں۔ تاہم سوال اپنی جگہ برقرار ہے: اگر کسی اسمبلی حلقے میں ہر دو میں سے ایک سے زیادہ ووٹر ابتدائی طور پر مشتبہ زمرے میں آجاتے ہیں تو کیا اسے محض معمول کی انتخابی فہرست کی صفائی قرار دیا جاسکتا ہے؟ یا پھر انتخابی عمل کے طریقۂ کار، فیلڈ تصدیق اور شہریوں تک رسائی کے نظام کا ازسرنو جائزہ ضروری ہے؟

 

یہی وجہ ہے کہ بنگلورو کے غیر معمولی اعداد کو محض سیاسی نعرے کے طور پر نہیں بلکہ انتظامی تحقیق کے موضوع کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ انتخابی کمیشن کو بتانا چاہیے کہ ان حلقوں میں غیر معمولی شرح کی بنیادی وجوہ کیا ہیں۔ کیا یہاں نقل مکانی زیادہ ہے؟ کیا کرائے دار آبادی کا تناسب زیادہ ہے؟ کیا سابقہ فہرستوں میں بڑے پیمانے پر پرانے اندراجات موجود تھے؟ کیا گھر گھر جانچ کے دوران شہریوں تک رسائی میں دشواری ہوئی؟ یا مختلف زمروں کو نشان زد کرنے کے طریقۂ کار میں کوئی عملی خامی سامنے آئی؟ ان سوالات کا جواب اعدادوشمار کے ساتھ دیا جانا چاہیے، محض یقین دہانی سے نہیں۔

 

تقریباً بیس فیصد ووٹروں کے مشتبہ دائرے میں آنے کی مجموعی تصویر اور بنگلورو میں تقریباً نصف ووٹروں کی نشان دہی کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو تشویش مزید بڑھ جاتی ہے۔ اگر ریاست کے ہر پانچ میں سے ایک ووٹر اور ملک کے ایک بڑے شہری مرکز کے تقریباً ہر دوسرے ووٹر کی انتخابی حیثیت مزید جانچ سے مشروط ہوجائے تو یہ معمولی انتظامی تبدیلی نہیں رہتی۔ یہاں دو امکانات سامنے آتے ہیں: یا تو سابقہ انتخابی فہرستوں میں بہت بڑے پیمانے پر خامیاں موجود تھیں، یا موجودہ جانچ کے طریقۂ کار میں ایسی کمزوریاں ہیں جو بڑی تعداد میں حقیقی ووٹروں کو بھی مشتبہ بنا رہی ہیں۔ دونوں صورتوں میں جواب دہی اور شفاف وضاحت ضروری ہے۔

 

سب سے بنیادی سوال پھر وہی ہے: کیا خصوصی جامع نظرثانی کا مقصد غلط نام تلاش کرنا ہے یا شہریوں سے اپنے درست نام کا ثبوت مانگنا؟ ۔جعلی نام تلاش کرکے حذف کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے؛ مگر برسوں سے انتخابی فہرست میں درج ایک اہل شہری کو محض شبہے کی بنیاد پر اپنی اہلیت ثابت کرنے کے لیے سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنا انتظامی انصاف کا مثالی نمونہ نہیں ہوسکتا۔ انتخابی فہرست کی اصلاح کا بوجھ شہری کے بنیادی حق سے زیادہ بڑا نہیں ہوسکتا۔

 

یہاں کمزور طبقات کا سوال بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ یومیہ اجرت پر کام کرنے والا مزدور، کرائے کے مکان میں رہنے والا خاندان، روزگار کے لیے دوسرے شہر جانے والا نوجوان، شادی کے بعد رہائش تبدیل کرنے والی عورت، بزرگ شہری یا غیر رسمی بستی میں رہنے والا شخص سرکاری کارروائی کے ہر مرحلے میں یکساں سہولت نہیں رکھتا۔ بنگلورو میں یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہوجاتا ہے کیونکہ شہر کی بڑی آبادی مستقل اور عارضی نقل مکانی کے امتزاج سے تشکیل پاتی ہے۔

 

اگر ایسے شہری کو پہلے ووٹر فہرست میں شامل کیا جائے، پھر اسے مشتبہ قرار دیا جائے اور آخرکار اپنی موجودگی ثابت کرنے کے لیے پیچیدہ انتظامی کارروائی سے گزرنا پڑے تو کاغذ پر موجود حق اور عملی حق کے درمیان خطرناک فاصلہ پیدا ہوسکتا ہے۔انتخابی فہرست کی غلطی کا نقصان ریاست اور شہری میں برابر تقسیم نہیں ہوتا۔ اگر کوئی جعلی نام فہرست میں رہ جاتا ہے تو اسے بعد میں جانچ کے ذریعے درست کیا جاسکتا ہے؛ لیکن اگر ایک حقیقی شہری کا نام حتمی فہرست سے نکل جاتا ہے اور وہ بروقت اعتراض درج نہیں کراسکا تو انتخاب کے دن اس کا حق واپس نہیں آسکتا۔ اس لیے انتخابی انتظامیہ کا بنیادی فلسفہ زیادہ سے زیادہ نام نکالنا نہیں بلکہ غلط اخراج کو کم سے کم کرنا ہونا چاہیے۔

 

یہی وجہ ہے کہ ان شکایات کو محض سیاسی اعتراض قرار دے کر مسترد کرنا درست نہیں ہوگا جن میں موجودہ ووٹر فہرست میں نام برقرار ہونے کے باوجود شمار کا فارم فراہم نہ کیے جانے، غلط طور پر منتقل شدہ قرار دیے جانے یا گھر پر عدم موجودگی کو مستقل حیثیت دینے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ ایسی شکایات اگر محدود انتظامی غلطیاں ہیں تو انہیں فوراً درست کیا جائے، لیکن اگر یہ وسیع پیمانے پر سامنے آرہی ہیں تو انتخابی کمیشن کو ان کا آزادانہ جائزہ لینا چاہیے۔

 

نچلی سطح پر کام کرنے والے اہلکاروں پر اگر فارم کی تقسیم، اندراج اور تصدیق مکمل کرنے کا غیر معمولی دباؤ رہا ہو تو یہ بھی ایک اہم انتظامی سوال ہے۔ انتخابی فہرست کی درستگی کسی ہدف کی تکمیل سے زیادہ اہم ہے۔ اگر کارکردگی کا پیمانہ رفتار بن جائے اور تصدیق ثانوی حیثیت اختیار کرلے تو غلط نشان دہی کا امکان بڑھ سکتا ہے۔ ایسی صورت میں صرف نچلے درجے کے اہلکاروں کو ذمہ دار قرار دینا کافی نہیں؛ پورے انتظامی طریقۂ کار کا جائزہ ضروری ہے۔

 

سال 2002 ء کے پرانے انتخابی ریکارڈ سے مطابقت بھی اس نظرثانی کا ایک اہم پہلو ہے۔ تقریباً چوبیس سال پرانے ریکارڈ سے کسی موجودہ شہری کی تفصیلات کا مکمل طور پر نہ ملنا بذاتِ خود اس کی موجودہ اہلیت کے خاتمے کا ثبوت نہیں ہوسکتا۔ پرانا ریکارڈ تصدیق میں مددگار ہوسکتا ہے، لیکن موجودہ شہری کی شناخت اور اہلیت کا واحد پیمانہ نہیں بننا چاہیے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں رہائش، خاندان، نام، دستاویزات اور معاشرتی حالات میں وسیع تبدیلیاں آئی ہیں؛ انتخابی انتظام کو اس حقیقت کا لحاظ رکھنا ہوگا۔

اس پس منظر میں گھر گھر جانچ کی مدت میں 17 اگست تک توسیع اہم پیش رفت ہے۔ نئے شیڈول کے مطابق مسودہ ووٹر فہرست 24 اگست کو شائع ہوگی، دعووں اور اعتراضات کے لیے 24 اگست سے 23 ستمبر تک وقت ہوگا، جبکہ حتمی فہرست 27 اکتوبر کو شائع کی جانی ہے۔یہ توسیع محض انتظامی مہلت نہیں ہونی چاہیے بلکہ ایک اصلاحی موقع بننی چاہیے۔ خصوصاً بنگلورو میں جہاں لاکھوں ووٹر مشتبہ زمرے میں پہنچ گئے ہیں، ہر اسمبلی حلقے میں خصوصی عوامی سہولت مراکز، واضح معلومات، مقامی زبان میں رہنمائی اور شکایات کے فوری ازالے کا نظام قائم کرنا ضروری ہے۔ شہری کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس کا نام کس زمرے میں کیوں آیا، اسے کس افسر سے رابطہ کرنا ہے اور اگر غلط نشان دہی ہوئی ہے تو اسے کیسے درست کرانا ہے۔

 

اب اصل امتحان مسودہ فہرست کی اشاعت کے بعد ہوگا۔اگر ایک کروڑ سے زائد مشتبہ قرار دیے گئے افراد میں بڑی تعداد دوبارہ تصدیق کے بعد فہرست میں شامل ہوجاتی ہے تو یہ ظاہر ہوگا کہ ابتدائی نشان دہی کا بڑا حصہ احتیاطی جانچ کا نتیجہ تھا۔ لیکن اگر ان میں سے قابلِ ذکر تعداد مسودہ یا حتمی فہرست سے باہر رہ جاتی ہے تو موجودہ طریقۂ کار، زمینی تصدیق اور انتظامی نگرانی پر کہیں زیادہ سنجیدہ سوال اٹھیں گے۔

اور یہی معاملہ آنے والے انتخابات کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ کسی انتخابی حلقے میں چند ووٹ بھی نتیجہ تبدیل کرسکتے ہیں۔ بنگلورو کے بعض حلقوں میں اگر مشتبہ ووٹروں کی موجودہ شرح کا صرف ایک حصہ بھی حتمی اخراج میں تبدیل ہوجاتا ہے تو انتخابی مقابلے کا توازن متاثر ہوسکتا ہے۔ یہاں یہ دعویٰ کرنا درست نہیں ہوگا کہ اس عمل سے لازماً کسی مخصوص سیاسی جماعت کو فائدہ یا نقصان ہوگا، کیونکہ مشتبہ ووٹروں کی سیاسی وابستگی کا کوئی مستند ریکارڈ موجود نہیں۔ لیکن یہ بات پوری وضاحت سے کہی جاسکتی ہے کہ بڑے پیمانے پر اہل ووٹروں کا اخراج انتخابی نتائج کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، خصوصاً ان حلقوں میں جہاں کامیابی اور شکست کا فیصلہ چند ہزار ووٹوں سے ہوتا ہے۔

 

بنگلورو میں یہ خطرہ مزید اہم ہے کیونکہ شہر کے مختلف اسمبلی حلقوں میں ووٹروں کی تعداد بہت بڑی ہے اور مقابلہ اکثر معمولی فرق سے بھی متاثر ہوسکتا ہے۔ اگر ایک حلقے میں لاکھوں ووٹر مشتبہ دائرے میں ہوں تو حتمی فہرست میں چند ہزار یا دسیوں ہزار ناموں کا فرق بھی انتخابی ریاضی کو تبدیل کرسکتا ہے۔ اس لیے بنگلورو کے اعداد کو محض شہری انتظام کا مسئلہ سمجھنا غلط ہوگا؛ یہ مستقبل کے انتخابی منظرنامے سے براہِ راست جڑا ہوا مسئلہ ہے۔

اس کا ایک اور سیاسی اثر بھی ہوسکتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کی توجہ اب ووٹ مانگنے کے ساتھ ساتھ ووٹر فہرست کی نگرانی، ناموں کی تصدیق اور دعووں و اعتراضات کے عمل تک پھیل سکتی ہے۔ اگر کسی جماعت کو محسوس ہوا کہ اس کے روایتی حمایت یافتہ علاقوں میں غیر معمولی تعداد میں ووٹر مشتبہ یا خارج ہورہے ہیں تو وہ اسے انتخابی مسئلہ بنائے گی۔ اس سے انتخابی ماحول مزید سیاسی اور متنازع ہوسکتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ خطرناک صورت وہ ہوگی جب شہریوں میں یہ احساس پیدا ہوجائے کہ انتخاب لڑنے اور ووٹ ڈالنے سے پہلے ہی ان کے سیاسی حق کا فیصلہ انتظامی فہرست کررہی ہے۔

 

اسی لیے انتخابی کمیشن کو اب صرف یہ بتانا کافی نہیں ہوگا کہ کتنے نام مشتبہ قرار دیے گئے۔ اسے زمرہ وار، ضلع وار اور حلقہ وار اعدادوشمار شفاف انداز میں سامنے لانے چاہئیں؛ یہ واضح کرنا چاہیے کہ کتنے غیر حاضر تھے، کتنے منتقل شدہ، کتنے متوفی، کتنے دوہرے اندراج والے اور کتنے دیگر زمروں میں آئے؛ کتنے نام دوبارہ شامل کیے گئے اور کتنے حقیقی طور پر خارج کرنے کی سفارش ہوئی۔ بنگلورو کے ہر اسمبلی حلقے کے غیر معمولی اعداد کی الگ وضاحت بھی ہونی چاہیے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہر ایسے شہری کو مؤثر اطلاع اور آسان اعتراض کا موقع ملے جس کا نام مسودہ فہرست میں موجود نہیں ہے۔ شہری کو اپنے ہی ووٹ کے حق کے لیے ریاست کے سامنے ملزم کی طرح کھڑا نہیں ہونا چاہیے۔

 

علامہ اقبال کا معروف شعر ہے:

؀ جمہوریت اک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں

بندوں کو گنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے

 

یہ شعر یہاں محض سیاسی طنز کے طور پر نہیں بلکہ ایک بنیادی جمہوری اصول کی یاد دہانی کے طور پر سامنے آتا ہے۔ ووٹر فہرست میں شہریوں کی گنتی ضروری ہے، مگر ہر شہری کو محض ایک عدد سمجھ لینا جمہوریت کی روح سے انصاف نہیں۔ ہر نام کے پیچھے ایک انسان، ایک شہری اور ایک آئینی حق موجود ہے۔

لہٰذا کرناٹک میں جاری خصوصی جامع نظرثانی کے بارے میں واضح موقف یہی ہونا چاہیے کہ جعلی، مردہ اور دوہرے اندراجات کی صفائی ضرور ہو، مگر اس کی قیمت کسی ایک بھی اہل شہری کے حقِ رائے دہی کی قربانی کی صورت میں نہیں ہونی چاہیے۔ ایک کروڑ دس لاکھ سے زیادہ شہریوں کا مشتبہ دائرے میں پہنچ جانا بذاتِ خود اتنا بڑا عدد ہے کہ اسے معمول کی انتخابی کارروائی کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اور جب اسی عمل میں بنگلورو جیسے شہر کے تقریباً نصف ووٹر بھی مشتبہ نشان دہی کے دائرے میں آ جائیں تو معاملہ مزید سنگین ہوجاتا ہے۔

 

تقریباً بیس فیصد ووٹروں کے ممکنہ اخراج کا خدشہ اگر بڑے پیمانے پر حتمی اخراج میں تبدیل ہوا تو یہ صرف ووٹر فہرست کی تبدیلی نہیں ہوگی؛ یہ انتخابی نمائندگی، سیاسی توازن اور عوام کے انتخابی اعتماد میں ایک بڑی تبدیلی ہوگی۔ اس کے برعکس اگر مسودہ اور حتمی فہرست کے مراحل میں بڑی تعداد میں حقیقی ووٹر دوبارہ شامل ہوجاتے ہیں اور ہر اخراج قابلِ اعتماد زمینی تصدیق کے بعد ہوتا ہے تو یہی عمل انتخابی نظام کی اصلاح اور صفائی کا مؤثر ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے۔

اب ذمہ داری انتخابی کمیشن پر ہے کہ وہ اس خدشے کو محض یقین دہانیوں سے نہیں بلکہ شفاف اعدادوشمار، قابلِ تصدیق جانچ، مؤثر اعتراضات اور بروقت اصلاح کے ذریعے ختم کرے۔ انتخابی فہرست کو پاکیزہ بنانا جمہوریت کی خدمت ہے، لیکن اہل شہری کو فہرست میں محفوظ رکھنا اس سے بھی بڑی جمہوری ذمہ داری ہے۔

 

آخرکار اصل کامیابی یہ نہیں ہوگی کہ کتنے نام فہرست سے نکالے گئے؛ اصل کامیابی یہ ہوگی کہ کتنے غیر مستحق نام درست طور پر خارج کیے گئے اور کتنے اہل شہریوں کا حق پوری ذمہ داری کے ساتھ محفوظ رکھا گیا۔ کرناٹک اور خصوصاً بنگلورو کا موجودہ تجربہ اسی بنیادی سوال کا جواب دے گا کہ خصوصی نظرثانی واقعی انتخابی فہرست کو زیادہ درست بناتی ہے یا شہری کو اپنے ہی جمہوری حق کے حصول کے لیے ایک نئی آزمائش سے گزارتی ہے۔

haleemmansoor@gmail.com

متعلقہ خبریں

Back to top button