ہاتھوں میں ہتھکڑیاں، ابان کی نمازِ جنازہ بھائی عمر نے پڑھائی؛ اشرف کے بیٹے کو گود میں لے کر ماتھا چوما
سابق رکن پارلیمنٹ مرحوم عتیق احمد کے بیٹے ابان کو سپردِ خاک کرنے سے قبل ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے وہاں موجود لوگوں کو جذباتی کردیا۔ ابان کی نمازِ جنازہ کسی مولوی نے نہیں بلکہ عتیق کے بڑے بیٹے عمر نے پڑھائی۔ ہفتہ کو کساری مساری قبرستان میں نمازِ جنازہ کے لئے مولوی کو بھی بلایا گیا تھا، تاہم نماز پڑھانے کے وقت عتیق کے تیسرے بیٹے احضم نے بڑے بھائی عمر سے کہا، ’’بھائی، آپ نماز پڑھائیں۔‘‘
عمر نے بھائی کی بات مانتے ہوئے قبر کے قریب سب سے آگے کھڑے ہوکر نمازِ جنازہ پڑھائی۔ اس کے پیچھے بھائی علی، احضم اور خاندان کے دیگر افراد موجود تھے۔ نمازِ جنازہ عام طور پر مقامی مسجد کے امام پڑھاتے ہیں، تاہم خاندان کا کوئی فرد بھی یہ نماز پڑھا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق عتیق، اشرف اور اسد کی تدفین سے قبل بھی نمازِ جنازہ مقامی امام نے ہی پڑھائی تھی۔ اس وقت عمر اور علی جیل میں تھے۔
گزشتہ چار برس میں عتیق کے بڑے بیٹے عمر کی وضع قطع بھی کافی بدل گئی ہے۔ جیل جانے سے پہلے عموماً کلین شیو یا ٹرِم داڑھی میں نظر آنے والے عمر نے اب داڑھی بڑھا لی ہے۔ چونکہ تدفین میں شرکت کے لئے ہائی کورٹ نے چند گھنٹوں کے لئے پیرول منظور کی تھی اس لئے عمر کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں تھیں اور ان کے قریب میں پولیس جوان بھی تھے
ابان کی تدفین کے موقع پر ایک اور جذباتی منظر دیکھنے کو ملا۔ تدفین کے بعد علی اور احضم بڑے بھائی عمر سے لپٹ کر رونے لگے۔ اسی دوران مرحوم چچا اشرف کا سات سالہ بیٹا ولید وہاں پہنچا۔ علی نے اسے گود میں اٹھا کر اس کے سر پر ہاتھ پھیرا، جبکہ عمر نے بھی ولید کا ماتھا چوما اور اسے گود میں لے کر اپنے سے لپٹا لیا۔ اس دوران ولید بھی بلک بلک کر روتا نظر آیا۔



