دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء تلنگانہ و آندھرا کے زیرِ اہتمام کریم نگر میں زون نمبر ۳ کا تربیتی و فکری ورکشاپ، اکابر علماء کے اہم خطابات
مؤثر مکاتب کا قیام وقت کی اہم ترین دینی ضرورت ہے، نسلِ نو کے ایمان کی حفاظت کے لیے سنجیدہ جدوجہد ناگزیر
دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء تلنگانہ و آندھرا کے زیرِ اہتمام کریم نگر میں زون نمبر ۳ کا تربیتی و فکری ورکشاپ، اکابر علماء کے اہم خطابات
13 اگست: دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء تلنگانہ و آندھرا کے زیرِ اہتمام زون نمبر ۳ کا تربیتی و فکری ورکشاپ جمعرات کے روز صبح 9 بجے تا 3:30 بجے مدرسہ اصلاح البنات، شاخ مدرسہ عربیہ حفظ القرآن، حسینی پورہ، کریم نگر میں منعقد ہوا۔ ورکشاپ حضرت مولانا شاہ جمال الرحمن صاحب مفتاحی دامت برکاتہم، امیر شریعت جمعیۃ علماء تلنگانہ و آندھرا کی سرپرستی اور حضرت مولانا محمد عبد القوی صاحب دامت برکاتہم، صدر دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء تلنگانہ و آندھرا کی صدارت میں منعقد ہوا۔
تلاوتِ کلام پاک اور نعتِ رسول ﷺ سے پروگرام کا آغاز ہوا، جس کے بعد مولانا فضیل صاحب نے مکاتب کے نظام اور اس کی بہتری کے حوالے سے مفصل پریزنٹیشن پیش کی۔ حضرت مولانا خواجہ کلیم الدین صاحب اسعدی دامت برکاتہم، نائب صدر دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء تلنگانہ، زون نمبر ۳ نے کلماتِ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور ورکشاپ کے مقاصد پر روشنی ڈالی۔اس کے بعد
حضرت مولانا احمد عبید الرحمن صاحب قاسمی دامت برکاتہم، نائب صدر دینی تعلیمی بورڈ نے مکتب کے بنیادی مقصد کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کو محض مشغول رکھنے کے لیے نہیں بلکہ ان کے اندر مسؤولیت، دینی شعور اور ذمہ داری کا احساس پیدا کرنے کے لیے تعلیم دی جائے۔ مکتب کو مشغولیت نہیں، مسؤولیت کا مرکز بنایا جائے تجوید کے اہتمام کے ساتھ ناظرہ قرآن اور اردو زبان پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے، کیونکہ اردو ہمارا اہم دینی و علمی لٹریچر ہے۔
بچیوں کی دینی تعلیم کو ملت کی تعمیر کا اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے بچوں کی ذہن سازی اور ان کو دینی ماحول سے مانوس کرنے پر زور دیا گیا۔ بچوں کی عمر اور ذہنی سطح کے مطابق قصے اور واقعات سنانے، لائبریری قائم کرنے اور مفید دینی کتابوں کے مطالعہ کی عادت پیدا کرنے کی ترغیب دی گئی۔ فضائلِ اعمال کے واقعات سے پیدا ہونے والی دینی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے سیرتِ انبیاء اور سیرتِ صحابہؓ کے مطالعہ کی طرف بھی توجہ دلائی گئی۔
خاص طور پر حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کی سیرت کو بچوں کے ذہن میں راسخ کرنے اور صور من حیاۃ الصحابہ جیسی کتب سے استفادہ کی اہمیت بیان کی گئی۔ موجودہ اسکولی ماحول میں پیدا ہونے والے ارتداد، الحاد اور شکوک و شبہات کے خطرات کے پیش نظر ایسا مضبوط مکتبی ماحول بنانے پر زور دیا گیا
جس سے بچے دسویں جماعت تک دین سے وابستہ رہیں۔ اس سلسلہ میں اساتذہ کو بچوں کی سطح پر اتر کر جدید اور مؤثر طریقۂ تعلیم اختیار کرنے کی تلقین کی گئی۔بعد ازاں مفتی محمد صادق حسین صاحب قاسمی، جنرل سیکریٹری جمعیۃ علماء کریم نگر نے اکابر علماء کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے مکاتب کی اہمیت اجاگر کی۔
مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ کی عیسائیت کے فتنے کے مقابل علمی جدوجہد، حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کی آریہ سماج کے مقابل خدمات اور حضرت مولانا انور شاہ کشمیریؒ کی قادیانیت کے خلاف علمی کاوشوں کا ذکر کیانیز موجودہ دور میں صدیق دیندار انجمن اور مہدویت کے فتنہ کا مقابلہ مولانا محمد عبد القوی صاحب دامت برکاتہم نے کیا،
ان کا کہنا تھا کہ آج کی نسل کو درپیش فکری و اعتقادی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں بھی انہی اکابر کی طرح علمی بصیرت اور دینی حمیت پیدا کرنی ہوگی۔ مکتب کی تعلیم دردِ دل کے ساتھ دی جائے تو اس کا اثر بچوں کی زندگی میں نمایاں ہوتا ہے۔اس کے بعد صدر دینی تعلیمی بورڈ مولانا محمد عبد القوی صاحب دامت برکاتہم نے وقت کی قدر و قیمت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وقت انسان کا قیمتی سرمایہ ہے اور جو کام وقت پر انجام پاتا ہے وہی مستقبل کی بنیاد بنتا ہے۔ اسلام کے اصولِ ترجیح کے تحت موجودہ حالات میں مکاتب کی مضبوطی کو ترجیحی ضرورت قرار دیتے ہوئے انہوں نے متنبہ کیا کہ صرف مکتب قائم کرنا کافی نہیں بلکہ مؤثر مکتب کا قیام اصل مقصد ہونا چاہیے۔
موجودہ دور میں بعض والدین محض اسٹینڈرڈ تعلیم کے نام پر بچوں کو ایسی جگہوں سے وابستہ کر رہے ہیں جہاں ان کے ایمان و عقیدہ کی حفاظت کا اہتمام نہیں۔ اس لیے مضبوط، منظم اور معیاری مکاتب کا قیام وقت کا اہم تقاضا ہے۔ قرآن مجید کی بنیادی تعلیم، جس سے نماز درست طور پر ادا ہوسکے، ہر مسلمان بچے کے لیے ضروری قرار دیتے ہوئے مکاتب میں ایمان و یقین، اللہ کی معرفت، محبتِ رسول ﷺ اور فکرِ آخرت پیدا کرنے کو بنیادی ہدف بتایا گیا۔
سورۂ مطففین اور معارف القرآن کے حوالے سے امانت و ذمہ داری کی اہمیت بیان کرتے ہوئے معلمین کو متوجہ کیا گیا کہ جس کام کے لیے وہ بیٹھے ہیں، اس میں بھی امانت کا تقاضا پورا کریں۔ بچوں کے لیے دینی و اخلاقی واقعات پہلے سے منتخب اور مرتب کرکے لانے کی تلقین کی گئی۔ مکاتب کی مضبوطی کے لیے مدارس کے وسائل میں سے مناسب حصہ اس شعبہ پر صرف کرنے کی ضرورت بھی اجاگر کی گئی۔اس کے بعد مولانا عمر صاحب بنگلور دامت برکاتہم، پی ایم او ادارۃ التنفیذ جمعیۃ علماء ہند نے اس بات کو نمایاں کیا کہ مقصد صرف مکاتب کی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ انہیں مؤثر، منظم اور مثالی بنانا ہے،
مؤثر مکتب ہی اصل کامیابی ہے نیز کہا کہ اضلاع میں بھی تربیتی و تشکیلی پروگرام منعقد کرنے اور مثالی مسجد کے لیے متعین اوصاف کو عملی طور پر اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔اس کے بعد حضرت مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی دامت برکاتہم، ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند نے نسلِ نو کے ایمان کی حفاظت کے موضوع پر تفصیلی خطاب کیا۔ موجودہ فکری، تعلیمی اور معاشرتی ماحول میں بچوں کے ایمان و عقیدہ کو لاحق خطرات کا ذکر کرتے ہوئے علماء، ائمہ، معلمین اور ذمہ داران کو اپنی ذمہ داری محسوس کرنے کی دعوت دی اور کہا کہ نسلِ نو کے ایمان کی حفاظت ہماری بنیادی ذمہ داری ہے اس کے بعد
مفتی انعام الحق صاحب قاسمی دامت برکاتہم، ناظم عمومی دینی تعلیمی بورڈ تلنگانہ و آندھرا نے تنظیمی امور پر توجہ دلاتے ہوئے باہمی ربط، تعاون اور مسلسل رابطہ برقرار رکھنے کی ضرورت بیان کی۔ زیادہ سے زیادہ مکاتب قائم کرنے کے ساتھ اکتوبر تک دو منظم مکاتب، دو مثالی مساجد اور اسکولی طلبہ کے لیے ٹیوشن کے سلسلہ میں عملی پیش رفت کا ہدف مقرر کیا گیا۔ اس سلسلہ میں مولانا فضیل صاحب کے تربیتی و جائزہ دوروں کا بھی ذکر کیا گیا۔
صدرِ محترم مولانا محمد عبد القوی صاحب دامت برکاتہم نے مالی معاملات اور بینک ٹرانزیکشن میں مکمل شفافیت برقرار رکھنے کی تاکید کی۔ تعلیم کو حقوقِ اطفال سے مربوط قرار دیتے ہوئے طلبہ کی صحت اور بنیادی ضروریات کا خیال رکھنے کی ضرورت پر بھی توجہ دلائی گئی، تاکہ ادارے انتظامی اور قانونی اعتبار سے مضبوط رہیں۔
مدارس کو امت کا قیمتی سرمایہ قرار دیتے ہوئے ان کے تحفظ اور استحکام کو اجتماعی ذمہ داری بتایا گیا اور واضح کیا گیا کہ موجودہ حالات میں مزید غفلت کی گنجائش نہیں؛ دینی تعلیم، مکاتب اور مدارس کے تحفظ کے لیے منظم اور عملی جدوجہد ناگزیر ہے۔
آخر میں حضرت مولانا خواجہ کلیم الدین صاحب اسعدی دامت برکاتہم نے کلماتِ تشکر پیش کیے اور تمام علماء، ذمہ داران، معلمین و شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ دعا کے ساتھ ورکشاپ اختتام پذیر ہوا۔
ورکشاپ میں مولانا زکریا فہد صاحب قاسمی ناظم ریاستی دینی تعلیمی بورڈ مفتی عبد الرحمن محمد صاحب قاسمی ناظم۔ریاستی دینی تعلیمی بورڈ مفتی محمد عبد الملک انس رکن عاملہ ریاستی دینی تعلیمی بورڈ،مفتی محمد یونس القاسمی صاحب دامت برکاتہم صدر جمعیۃ علماء کریم نگر اور شہر کریم نگر کے علماء و حفاظ کرام اور زون نمبر ۳ سے وابستہ علماء، ائمہ، دینی تعلیمی بورڈ کے ذمہ داران، معلمینِ مکاتب اور دیگر متعلقہ احباب نے شرکت کی اور مکاتب کے نظام کو مزید مؤثر، منظم اور نتیجہ خیز بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔




