جنرل نیوز

اطہر عزیز: خاموشی سے اردو صحافت، ادب اور اشاعت کی خدمت کرنے والا ایک عہد ساز نام

ممبئی: اردو صحافت، شاعری، ترجمہ اور اشاعت کے میدان میں خاموشی مگر مستقل مزاجی کے ساتھ اپنی شناخت بنانے والے اطہر عزیز 82 برس کی عمر میں احمد آباد میں انتقال کرگئے۔ وہ گزشتہ کچھ عرصے سے اپنے بیٹے کے یہاں مقیم تھے۔ 8 اگست کو گھر میں گرنے کے نتیجے میں ان کے سر پر شدید چوٹ آئی تھی، جس کے بعد وہ کوما میں چلے گئے۔ انہیں فوری طور پر اسپتال میں داخل کرایا گیا، تاہم مختصر علالت کے بعد 10 اگست کو ان کا انتقال ہوگیا۔

 

اطہر عزیز کی وفات کی خبر اردو صحافت و ادب کے حلقوں میں گہرے رنج و غم کے ساتھ سنی گئی۔ وہ ان اہلِ قلم اور صحافیوں میں شامل تھے جنہوں نے کسی شور، تشہیر یا عہدے کی طلب کے بغیر اپنی صلاحیتوں کو اردو زبان اور اس سے وابستہ مختلف شعبوں کے لیے وقف کیے رکھا۔ صحافت سے اشاعت تک ان کا سفر کئی دہائیوں پر محیط تھا اور اس دوران انہوں نے ادارتی کام، کتابوں کی تیاری، تدوین، اشاعت، شاعری اور ترجمے کے شعبوں میں اپنی الگ پہچان قائم کی۔

 

اطہر عزیز 1944ء میں اڑیسہ کے شہر کٹک میں پیدا ہوئے۔ ملازمت کے سلسلے میں انہیں دہلی، بھونیشور، الہ آباد اور دیگر شہروں میں قیام کا موقع ملا۔ بعد ازاں ممبئی ان کا مستقل مسکن بن گیا اور یہی شہر ان کی صحافتی، ادبی اور اشاعتی سرگرمیوں کا مرکز بنا۔ ممبئی میں قیام کے دوران وہ روزنامہ ’’انقلاب‘‘ سے وابستہ ہوئے اور بعد میں روزنامہ ’’قومی آواز‘‘ میں بھی خدمات انجام دیں۔ ہندوستانی پرچار سبھا، ممبئی سے شائع ہونے والے معروف اردو رسالے ’’ہندوستانی زبان‘‘ کی ادارت بھی ان کے صحافتی سفر کا ایک اہم مرحلہ تھا۔

 

ان کی شخصیت کا نمایاں پہلو یہ تھا کہ وہ صحافت کو محض ملازمت کے طور پر نہیں دیکھتے تھے۔ کتاب، زبان، ادب اور صحافت کے باہمی رشتے کو سمجھنے والے اطہر عزیز نے مختلف میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لایا۔ ان کی شاعری کا مجموعہ ’’سود و زیاں‘‘ شائع ہوا، جس سے ان کے تخلیقی مزاج کا اندازہ ہوتا ہے۔ انہوں نے ادبی و سماجی موضوعات سے متعلق متعدد کتابوں کی ترتیب و تدوین بھی کی۔

 

میرا روڈ کی معروف سماجی شخصیت سید نذر حسین کی حیات و خدمات پر مبنی کتاب ’’مردِ آہن: سید نذر حسین‘‘ ان کی اہم تصنیفی و تدوینی کاوشوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ’’حنیف کیفی: ذات اور جہات‘‘ اور ’’مسلم پرسنل لا اور ملت بیداری‘‘ جیسی کتابوں کی تیاری اور ترتیب میں بھی ان کی شرکت رہی۔ ان کاموں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی دلچسپی محض شاعری یا صحافت تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ اردو کے علمی، ادبی اور سماجی سرمایے کو محفوظ کرنے اور اسے قارئین تک پہنچانے کے عمل میں بھی سرگرم تھے۔

 

اشاعت کے میدان میں اطہر عزیز کی خدمات خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے متعدد کتابیں شائع کیں اور کتاب کی تیاری کے تقریباً ہر مرحلے—مواد کی ترتیب، تدوین، طباعت، پیش کش اور اشاعتی امور—میں اپنی فنی بصیرت کا استعمال کیا۔ ان کا اپنا اشاعتی ادارہ ’’ایڈشاٹ‘‘ بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی تھا۔ وہ کتاب کو محض چھپنے والی چیز نہیں بلکہ ایک مکمل ادبی و فنی پیش کش سمجھتے تھے اور اس کے معیار پر خصوصی توجہ دیتے تھے۔

 

ان کے ساتھ کام کرنے والے بزرگ شاعر و صحافی ندیم صدیقی نے ان کی وفات پر تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ اطہر عزیز ان لوگوں میں شمار ہوں گے جنہوں نے خاموشی سے اپنی ساری توجہ کام پر مرکوز رکھی اور کسی بیساکھی کے سہارے کے بجائے اپنی محنت اور صلاحیت سے اپنا تشخص بنایا۔ ان کے بقول اطہر عزیز کی شخصیت کا یہی پہلو انہیں دوسروں سے ممتاز کرتا تھا۔

 

ندیم صدیقی نے اطہر عزیز کے صحافتی اور اشاعتی کاموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ روزنامہ ’’قومی آواز‘‘ کا ’’بک سیلرز اور پبلشرز نمبر‘‘ ان کے اہم کاموں میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ یہ خصوصی شمارہ اب اگرچہ دستیاب نہیں، لیکن اس کی تیاری میں اطہر عزیز کی انفرادی محنت ان کے کام کرنے کے انداز کی عکاس تھی۔ کتابوں کی اشاعت میں بھی انہوں نے اپنی صلاحیتوں کو سلیقے اور سنجیدگی کے ساتھ بروئے کار لایا۔ اسی طرح ان کی ادارت میں ’’ہندوستانی زبان‘‘ کے شائع ہونے والے شمارے ان کی ادارتی صلاحیتوں کی مثال تھے۔

 

ندیم صدیقی نے اطہر عزیز کے انتقال کو انتہائی دردناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی موت کا واقعہ بھی دل گرفتہ کرنے والا ہے۔ انہوں نے مرحوم کے لیے مغفرت اور پسماندگان کے لیے صبر کی دعا کی۔

 

اردو جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے صدر اور ’’اردو ٹائمز‘‘ کے مدیر فاروق انصاری نے بھی اطہر عزیز کے انتقال پر گہرے رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خاموشی کے ساتھ صحافت، ادب اور اشاعت کے میدان میں جو خدمات انجام دیں، وہ اردو دنیا میں ان کی شناخت کو طویل عرصے تک قائم رکھیں گی۔ ان کے مطابق اطہر عزیز ایک ملنسار، خوش اخلاق اور محبت کرنے والے انسان تھے۔

 

اردو جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے سکریٹری اور روزنامہ ’’ہندوستان‘‘ کے ایڈیٹر سرفراز آرزو نے بھی ان کے انتقال پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا کہ اطہر عزیز کی ادبی اور صحافتی خدمات اردو کے حلقوں میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

 

اطہر عزیز کے ساتھ طویل عرصے تک مختلف حوالوں سے کام کرنے والے سینئر صحافی، مصنف اور روزنامہ سہارا ممبئی کے سابق ریزیڈنٹ ایڈیٹر جاوید جمال الدین نے کہا کہ اطہر عزیز ایک عرصے تک روزنامہ ’’انقلاب‘‘ سے وابستہ رہے۔ معروف شاعر و ادیب ظ۔ انصاری کے دورِ ادارت میں انہوں نے ’’انقلاب‘‘ میں سب ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کیا۔ بعد میں وہ روزنامہ ’’قومی آواز‘‘ سے منسلک ہوگئے۔

 

جاوید جمال الدین کے مطابق اطہر عزیز کے ساتھ ان کی ایک اہم اور یادگار وابستگی ’’عبدالحمید انصاری: انقلابی صحافی اور مجاہدِ آزادی‘‘ کی اشاعت کے سلسلے میں رہی۔ انہوں نے بتایا کہ جب 2000ء میں انہیں روزنامہ ’’انقلاب‘‘ کے بانی عبدالحمید انصاری کی سوانح عمری تحریر کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تو اس وقت کے مدیر فضیل جعفری نے انقلاب انتظامیہ کے ذریعے اطہر عزیز کے اشاعتی ادارے ’’ایڈشاٹ‘‘ کو کتاب کی طباعت کی ذمہ داری دلوائی تھی۔

 

جاوید جمال الدین نے کہا کہ اس کتاب کی تیاری کے دوران اطہر عزیز نے اشاعتی امور میں بھرپور تعاون کیا اور کتاب کو بہتر سے بہتر انداز میں شائع کرنے کی کوشش کی۔ وہ نہ صرف کتاب کی طباعت اور اشاعت کے سلسلے میں رہنمائی کرتے رہے بلکہ بعض مواقع پر صحافتی اور ادبی اسلوب کے حوالے سے بھی مفید مشورے دیتے تھے۔ ان کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ ان کے لیے خوشگوار اور یادگار رہا۔

 

جاوید جمال الدین کے مطابق ’’ایڈشاٹ‘‘ کے بند ہونے کے بعد اطہر عزیز ہندوستانی پرچار سبھا کے سہ ماہی رسالے ’’ہندوستانی زبان‘‘ کی ادارت سے وابستہ ہوگئے۔ اس دوران بھی انہوں نے اردو زبان و ادب سے اپنا تعلق برقرار رکھا۔ بعد میں میرا روڈ کے بانی اور معروف سماجی شخصیت سید نذر حسین کی حیات و خدمات پر مبنی کتاب مرتب کی، جس میں خود جاوید جمال الدین کا مضمون بھی شامل تھا۔ یہ کتاب بھی اہلِ علم و ادب میں توجہ کا مرکز بنی۔

 

اطہر عزیز کی زندگی کا ایک نمایاں وصف یہ تھا کہ انہوں نے اردو کے بدلتے ہوئے حالات کے باوجود اپنے کام سے رشتہ نہیں توڑا۔ صحافت کا وہ دور جب اخبار اور رسالے صرف خبریں فراہم کرنے کے ذرائع نہیں بلکہ زبان و ادب کی تربیت گاہیں بھی ہوا کرتے تھے، اطہر عزیز نے اسی ماحول میں اپنی صحافتی شناخت بنائی۔ بعد میں جب اشاعت کا شعبہ ان کی عملی زندگی کا اہم حصہ بنا تو انہوں نے کتاب کو اردو معاشرے کے علمی و فکری تسلسل کا وسیلہ سمجھ کر کام کیا۔

 

وہ ایسے وقت میں اردو صحافت سے وابستہ ہوئے جب اخبارات کے ادارتی شعبے میں زبان، پروف ریڈنگ، ترجمہ، تدوین اور خبر کی تہذیب کو خاص اہمیت حاصل تھی۔ ان کی تربیت بھی اسی ماحول میں ہوئی اور اسی لیے ان کے کام میں زبان کے ساتھ ساتھ اداراتی نظم و ضبط کا احساس نمایاں تھا۔ انہوں نے مختلف اداروں میں کام کرتے ہوئے نہ صرف اپنے فرائض انجام دیے بلکہ اپنے گرد موجود ادبی اور صحافتی ماحول سے بھی مسلسل رشتہ قائم رکھا۔

 

گزشتہ تقریباً ایک دہائی سے علالت کے باعث اطہر عزیز عملی سرگرمیوں سے بتدریج دور ہوتے گئے تھے۔ صحت کی خرابی نے ان کی نقل و حرکت اور فعال زندگی کو محدود کردیا تھا، تاہم اردو صحافت، ادب اور اشاعت سے وابستہ پرانے ساتھیوں اور دوستوں کے درمیان ان کا ذکر ہمیشہ احترام کے ساتھ ہوتا رہا۔ ان کا اچانک اور حادثاتی طور پر انتقال ان تمام لوگوں کے لیے ایک صدمہ ہے جنہوں نے ان کے ساتھ کسی نہ کسی مرحلے پر کام کیا یا ان کی علمی و ادبی خدمات سے استفادہ کیا۔

 

اطہر عزیز کی زندگی کو اگر ایک جملے میں بیان کیا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ وہ خاموشی سے کام کرنے والے ان اہلِ قلم میں سے تھے جنہوں نے اپنی ذات کو نمایاں کرنے کے بجائے اپنے کام کو نمایاں ہونے دیا۔ صحافت میں ان کی خدمات، شاعری میں ان کا تخلیقی اظہار، ترجمے اور تدوین میں ان کی دلچسپی اور اشاعت کے میدان میں ان کی محنت اردو کے ایک ایسے عہد کی یاد دلاتی ہے جس میں اخبار، رسالہ اور کتاب محض تجارتی مصنوعات نہیں بلکہ زبان و تہذیب کے فروغ کا ذریعہ بھی سمجھے جاتے تھے۔

 

ان کے پسماندگان میں اہلیہ ممتاز اطہر، بیٹے شہزاد، بیٹی سیمی رخسار، بہو، داماد، پوتی اور نواسے نواسیاں شامل ہیں۔

 

اطہر عزیز کی وفات سے اردو صحافت، ادب اور اشاعت کی دنیا نے ایک ایسے خاموش کارکن کو کھو دیا ہے جس نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ اردو زبان کی خدمت میں صرف کیا۔ ان کی یاد ان کتابوں، رسائل اور اشاعتی کاموں کے ذریعے باقی رہے گی جنہیں انہوں نے اپنی محنت اور صلاحیت سے وجود بخشا۔ اردو صحافت اور ادب سے وابستہ حلقوں نے مرحوم کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لیے مغفرت اور پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی ہے۔

 

متعلقہ خبریں

Back to top button