نیشنل

طلاق دیے بغیر دوسری شادی پر 20 فیصد تنخواہ کاٹ لی جائے گی

نئی دہلی: کثرتِ ازدواج کیلئے ریاست آسام کی حکومت نے ایک اور بڑا فیصلہ کیا ہے۔

 

اب پہلی بیوی کو قانونی طور پر طلاق دیے بغیر دوسری شادی کرنے والے سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں کٹوتی کی جائے گی۔ ریاست کے وزیرِ اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما نے پیر کے روز یہ اہم اعلان کیا۔

 

وزیرِ اعلیٰ نے کہا”اگر کوئی سرکاری ملازم قانونی طور پر اپنی بیوی سے طلاق لیے بغیر اسے چھوڑ کر کسی دوسری خاتون سے شادی کرتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ایسے ملازم کی تنخواہ سے 20 فیصد کٹوتی کرکے یہ رقم براہِ راست پہلی بیوی کے بینک اکاؤنٹ میں جمع کرائی جائے گی۔

 

تاہم اس کے لیے پہلی بیوی کو حکومت کے پاس درخواست دینا ہوگی۔”ہمنتا بسوا سرما نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں ایسے کچھ معاملات سامنے آئے ہیں جن میں سرکاری ملازمین نے طلاق کا قانونی عمل مکمل ہونے سے پہلے ہی دوسری خاتون کے ساتھ رہنا شروع کر دیا تھا، جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔

 

انہوں نے واضح کیا کہ اگر طلاق کا معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت بھی ہو، تب بھی تنخواہ میں کٹوتی جاری رہے گی۔ ان کے مطابق حکومت کا مقصد یہ ہے کہ قانونی کارروائی مکمل ہونے کا انتظار کیے بغیر پہلی بیوی کو مالی مدد فراہم کی جائے۔

 

اس کے علاوہ ہمنتا بسوا سرما نے کہا کہ والدین کو نظرانداز کرنے والے سرکاری ملازمین کی تنخواہ سے 10 فیصد کٹوتی بھی کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button