ایجوکیشن

یومِ آزادی پر علم، اتحاد، تعلیم اور قومی تعمیر کا عزم،گورنمنٹ ہائی اسکول دارالشفاء میں طلبہ و طالبات کا شاندار ثقافتی و تہذیبی پروگرام

یومِ آزادی پر علم، اتحاد، تعلیم اور قومی تعمیر کا عزم،گورنمنٹ ہائی اسکول دارالشفاء میں طلبہ و طالبات کا شاندار ثقافتی و تہذیبی پروگرام

حیدرآباد، 16 اگست (پریس ریلیز): یومِ آزادی ہندوستان کی تاریخ کا وہ عظیم اور یادگار باب ہے جو ہمیں آزادی کے لیے دی گئی بے مثال قربانیوں، لازوال جدوجہد، عزم و حوصلہ اور حب الوطنی کی یاد دلاتا ہے۔ یہ دن محض جشن اور قومی پرچم لہرانے کا دن نہیں بلکہ اپنے اسلاف کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے، آزادی کی قدر و منزلت کو سمجھنے اور ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے نئے عزم کے ساتھ آگے بڑھنے کا پیغام دیتا ہے۔ آزاد ہندوستان کی سلامتی، ترقی، خوشحالی، امن و امان، قومی یکجہتی، باہمی اخوت اور احترامِ انسانیت کا فروغ ہر شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جبکہ نئی نسل کو تعلیم، کردار، نظم و ضبط، محنت اور خدمتِ وطن کے جذبے سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

موجودہ دور علم و تحقیق، سائنس و ٹیکنالوجی، جدید ایجادات، کمپیوٹر اور مصنوعی ذہانت کا دور ہے۔ آج دنیا میں وہی قومیں ترقی کی منازل طے کررہی ہیں جو تعلیم کے ساتھ تحقیق، سائنسی فکر، ہنرمندی، تخلیقی صلاحیت اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھ رہی ہیں۔ اس لیے تعلیمی اداروں کی ذمہ داری صرف نصابی تعلیم تک محدود نہیں بلکہ طلبہ و طالبات کی فکری، علمی، اخلاقی، تہذیبی، ثقافتی، تخلیقی اور قائدانہ صلاحیتوں کو بھی نکھارنا ہے۔ بچوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے تعلیمی، ادبی، ثقافتی اور ہم نصابی سرگرمیوں کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنا ان کی شخصیت سازی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

 

اسی جذبۂ حب الوطنی اور قومی یکجہتی کے ساتھ طلبہ و طالبات میں علمی، فکری، تہذیبی اور ثقافتی شعور کو فروغ دینے کے مقصد سے گورنمنٹ ہائی اسکول دارالشفاء، بہادرپورہ منڈل، حیدرآباد میں یومِ آزادی کی تقریب نہایت جوش و خروش اور ملی جذبے کے ساتھ منعقد ہوئی۔ اس موقع پر اسکول کے ہیڈماسٹر مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے قومی پرچم ترنگا لہرایا۔ پرچم کشائی کے بعد قومی ترانہ پیش کیا گیا اور وطنِ عزیز کی سلامتی، ترقی، خوشحالی، امن و امان اور قومی یکجہتی کے لیے دعائیہ کلمات ادا کیے گئے۔

طلبہ و طالبات کی شاندار ثقافتی و تہذیبی پیشکش

یومِ آزادی کی تقریب کا نمایاں حصہ طلبہ و طالبات کا شاندار ثقافتی، تہذیبی اور کلچرل پروگرام تھا، جس میں بچوں نے غیر معمولی جوش، اعتماد، نظم و ضبط اور تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ طلبہ و طالبات نے مختلف ملی، قومی، ادبی، تہذیبی اور ثقافتی پروگرام پیش کرتے ہوئے اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کیا اور حب الوطنی، قومی یکجہتی، اخوت و بھائی چارہ اور ہندوستان کی متنوع تہذیبی روایات کو خوبصورت انداز میں پیش کیا۔

بچوں کی جانب سے ملی نغمے، قومی ترانے، تقاریر، اشعار، مکالمے، مختلف ثقافتی مظاہرے اور دیگر تعلیمی و تخلیقی سرگرمیاں پیش کی گئیں، جنہیں حاضرین نے بے حد سراہا۔ طلبہ و طالبات کی اسٹیج پر پُراعتماد انداز میں پیشکش، زبان و بیان کی روانی، نظم و ضبط اور اجتماعی کارکردگی نے تقریب میں ایک نئی روح پیدا کردی۔

اس موقع پر یہ حقیقت بھی نمایاں ہوئی کہ سرکاری تعلیمی ادارے صرف نصابی تعلیم فراہم کرنے تک محدود نہیں بلکہ طلبہ کی ہمہ جہت شخصیت سازی پر بھی خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ بچوں کو کتابی علم کے ساتھ تقریر، ادب، ثقافت، تہذیب، تخلیقی اظہار، اجتماعی سرگرمیوں اور مختلف ہم نصابی پروگراموں میں حصہ لینے کے مواقع فراہم کیے جارہے ہیں تاکہ ان میں خود اعتمادی، قائدانہ صلاحیت، اظہارِ خیال، ٹیم ورک اور تخلیقی فکر پروان چڑھے۔

گورنمنٹ ہائی اسکول دارالشفاء کے طلبہ و طالبات کی یومِ آزادی کے موقع پر پیش کردہ ثقافتی و تہذیبی پروگرام اس بات کا مظہر تھا کہ مناسب رہنمائی، حوصلہ افزائی اور سازگار تعلیمی ماحول فراہم کیا جائے تو سرکاری اسکولوں کے بچے بھی اپنی صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ کرسکتے ہیں اور علمی و عملی میدان میں نمایاں مقام حاصل کرسکتے ہیں۔ ایسی سرگرمیاں بچوں کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو سامنے لانے کے ساتھ ساتھ انہیں مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کرتی ہیں۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی جناب محمد مسعود الدین احمد، سابق صدر مدرس، نے خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر جناب محمد عقیل، جناب ظہیر الدین، جناب وجئے کمار ریڈی، جناب محمد زعیم الدین، جناب محمد اعجاز کے علاوہ دیگر معلمات بھی موجود تھیں۔ اسکول کے موجودہ طلبہ و طالبات کے ساتھ قدیم طلبہ کی شرکت نے تقریب کو مزید یادگار اور بامقصد بنادیا۔

یومِ آزادی کی یہ تقریب اس عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی کہ گورنمنٹ ہائی اسکول دارالشفاء طلبہ و طالبات کو معیاری تعلیم کے ساتھ علمی، ادبی، تہذیبی، ثقافتی، سائنسی اور تخلیقی سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرتے ہوئے ان کی ہمہ جہت شخصیت سازی کا سلسلہ مزید مؤثر انداز میں جاری رکھے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button