20 ہزار کیلئے حیدرآباد میں گولی مار کر قتل نعش ضلع میدک میں دفن ۔ 3 مجرموں کو عمر قید کی سزا

حیدرآباد: شہر کے کوکٹ پلی کورٹ کے تیسرے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ایم. وینکٹیشور راؤ نے 16 سال قبل ہوئے قتل کے مقدمے میں تین مجرموں کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔
پولیس کے مطابق کے پی ایچ بی کے فیز-4 سے تعلق رکھنے والے موہن نائیڈو کی دوستی سدی پیٹ ضلع کے بونالا ناگاچاری، کاماریڈی ضلع کے وینکٹاچاری اور مغربی بنگال کے پراوین منڈل سے تھی۔
موہن نائیڈو نے راجیو گروہا کلپ اسکیم کے تحت گھر دلانے کا وعدہ کرکے ناگاچاری سے 20 ہزار روپے لیے تھے لیکن گھر نہیں دلایا اور رقم بھی واپس نہیں کی اور رقم طلب کرنے پر وہ اسے دھمکانے لگا۔14 دسمبر 2010 کی رات ناگاچاری، وینکٹاچاری اور پراوین منڈل، موہن نائیڈو کو شراب پینے کے لیے کے پی ایچ بی فیز-4 لے گئے۔
شراب پینے کے دوران ان کے درمیان جھگڑا ہوا۔ پراوین اور وینکٹاچاری نے موہن نائیڈو کو پکڑ لیا جبکہ ناگاچاری نے پستول سے اس کے سر میں گولی مار کر قتل کر دیا۔بعد ازاں ملزمین نعش کو کار کی ڈکی میں رکھ کر میدک ضلع کے ولّور کے قریب جنگلاتی علاقے میں لے گئے اور دفن کر دیا۔
موہن نائیڈو کے لاپتہ ہونے پر اس کے بھائی نے پولیس میں شکایت درج کروائی۔ اس معاملہ کی تحقیقات کارتے ہوئے پولیس نے ملزمین کو گرفتارکیا اور یہ مقدمہ مقامی عدالت میں زیر دوراں تھا اور عدالت نے ملزمین کو مجرم قرار دیتے ہوئے سزا سنائی۔



