بنی اسرائیل تابوت سکینہ سے اکتساب فیض حاصل کیا کرتے قرآن حکیم میں موجود ہے اس کا تذکرہ ،موئے مبارک کے نظرانہ سے گنبد خواجہ غریب نوازؒ اور بلند دروازے کی تعمیر حضرت خواجہ غیاث چشتی و دیگر علماء کا محبوب نگر میں خطاب

محبوب نگر – 19 / اگست ( پریس نوٹ ) اولاد امجاد عطائے رسولؐ حضور سیدنا خواجہ معین الدین حسن سِجزی المعروف بہ حضرت خواجہ غریب النواز چشتیؒ پیر طریقت حضرت مولانا الحاج سید خواجہ غیاث الدین معینی چشتی اجمیری نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آج سرزمین محبوب نگر میں آثار شریفہ و تبرکات کثیرہ کی زیارت کی مجھے اسدالعلماء مولانا محمد محسن پاشاہ انصاری قادری نقشبندی کی بناء بار بار زیارت کی سعادت مل رہی ہے یہاں کے مسلمان اتنے خوش نصیب ہیں کہ کثرت سے آپؐ اور آپؐ کے خلفائے راشدین مہدئین رضوان اللہ علیہم اجمعین اور حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما و دیگر مقدس ہستیوں سے مناسب تبرکات کی زیارت کا شرف رفیق حاصل کر رہے ہیں
جو دونوں جہاں میں سرخرویء ونجات کا باعث ہے ان خیالات کا اظہار حضرت خواجہ غیاث الدین معینی نے کل بعد نماز مغرب ایچ این گارڈن فنکشن ہال محبوب نگر میں کل ہند سنی علماء مشائخ بورڈ اور نوجوانان اہل سنت و جماعت کے زیراہتمام منعقدہ سالانہ عظیم الشان مرکزی زیارت آثار شریفہ و تبرکات کثیرہ سے بحثیت مہمان خصوصی شرکت کرتے ہوئے خطاب کررہے تھے جو سیدا شباب اہل الجنۃ خلیفہء رسول اللہؐ امیرالمؤمنین حضرت سیدنا امام حسن مجتبیٰؓ کی یوم شہادت کے موقعہ پر ہر سال منعقد کیا جاتا ہے.
مقرر شعلہ بیان فاضل نبیل حضرت علامہ مفتی آصف رضا اشرفی بہار نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آثار مبارکؐ کے متعلق قرآنِ کریم ، صحیح احادیث اور معتبر تاریخی اصولوں کی روشنی میں کافی مضبوط اور مدلل مواد اہلسنت وجماعت کی تاریخی کتب میں موجود ہے یہاں پر میری حاضری قلبی سکون اور روحانی تسکین کا سامان فراہم کر رہی ہے مولانا رضا نے کہاکہ جب تک ہم اپنی جان ومال اور ہمارے مانباپ غرض کہ ساری کائینات کو آپؐ پر نچھاور نہ کریں ہمارا ایمان مکمل نہیں ہوسکتا ۔
بھارت سیوا رتن ایوارڈ یافتہ اسدالعلماء تنویر صحافت مولانا محمد محسن پاشاہ انصاری قادری نقشبندی مجددی مولوی کامل الحدیث جامعہ نظامیہ و جنرل سیکریٹری کُل ہند سنی علماء مشائخ بورڈ محبوب نگر نے کہاکہ تابوتِ سکینہ کے بارے میں قرآن کریم یہ ضرور ثابت کرتا ہے کہ اس میں حضرت سیدنا آدم علیہ السلام سے لے کر آلِ موسیٰؑ و آلِ ہارونؑ کے متروکہ مقدس چیزیں تھیں ، جس کو وسیلہ بناکر بارش کے لئے ، شادی بیاہ کے لئے ، اولاد کے لئے ، صحت و عافیت اور رزق میں کشادگی کے لئے قوم بنی اسرائیل دعائیں کرتی تو الحمدللہ دعائیں مستجاب ہوجایا کرتی تھیں ، مولانا نے یہ بھی کہاکہ آثارِ مبارکہؐ صحابہء کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور سلف صالحین سے تبرک کے قرآنی شواہد ہمیں عقیدہء اہل سنت وجماعت میں جگہ جگہ ملتے ہیں .
1۔ تابوتِ سکینہ — سورۂ بقرہ ، آیت نمبر 248 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فِیْهِ سَكِیْنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَبَقِیَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ آلُ مُوْسٰى وَآلُ هَارُوْنَ تَحْمِلُهُ الْمَلَائِكَةُ یعنی اس تابوت میں تمہارے رب کی طرف سے سکون و اطمینان تھا اور آلِ موسیٰؑ اور آلِ ہارونؑ کی چھوڑی ہوئی متبرک اشیاء تابوت سکینہ ( صندوق ) میں موجود تھیں ، اور اسے فرشتے اٹھا کر لاتے تھے ۔ قرآن مجید نے ان مقدس آثار کو بنی اسرائیل کے لئے اللہ جل مجدہ کی نشانی قرار دیا ۔ حضرت سیدنا یوسف علیہ السلام کا پیراہن مبارکہ کا تذکرہ خیر قرآنِ کریم میں ہمیں ملتا ہے حضرت سیدنا یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں سے فرمایا: اذْهَبُوا بِقَمِيْصِيْ هٰذَا فَأَلْقُوْهُ عَلٰى وَجْهِ أَبِيْ يَأْتِ بَصِيْرًا
میرا یہ قمیص لے جاؤ اور اسے میرے والد حضرت سیدنا یعقوب علیہ السلام کے چہرے پر ڈال دو ، وہ بینا ہوجائیں گے ۔ پھر جب قمیص حضرت سیدنا یعقوب علیہ السلام کے چہرے پر ڈالی گئی تو قرآن فرماتا ہے :
فَارْتَدَّ بَصِيْرًا تو ان کی بینائی واپس آگئی ۔ یہ آیت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مقبول بندوں سے منسوب کسی چیز کو ظاہری سببِ خیر و برکت بنا سکتا ہے تو آپؐ وجہہ تخلیق کائنات ہیں آپؐ کے تبرکات کا عالم کیا ہوگا چونکہ تمام انبیاء کرام و مرسلین عظام علیہم السلام کے امام ہیں کل بروز محشر گناہ گاروں کی شفاعت فرمائینگے ۔ حضرت مولانا حافظ الحاج مفتی سید شاہ امین الدین قادری البصری مولوی کامل جامعہ نظامیہ و سجادہ نشین بارگاہ محبوبیہ البصریہؒ رائچور نے کہاکہ احادیثِ صحیحہ سے آثارِ نبوی ﷺ کی برکت ثابت ہے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا رسول اللہ ﷺ کے آثار سے تبرک حاصل کرنا نہایت واضح طور پر صحیح احادیث سے ثابت ہے۔
حضرت عثمان بن عبداللہ بن موہب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ وہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے موئے مبارک نکال کر دکھائے ۔ صحیح بخاری ہی میں یہ بھی ہے کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس رسول اللہ ﷺ کے موئے مبارک محفوظ تھے ، لوگ کسی تکلیف یا نظرِ بد وغیرہ کے موقع پر پانی بھیجتے تھے؛ اس برتن میں موئے مبارک موجود ہوتے تھے ۔
اسی طرح حضرت عروہ رضی اللہ عنہ نے صلحِ حدیبیہ کے موقع پر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا حضور نبی کریم ﷺ کے لعابِ دہن ، وضو کے بچے ہوئے پانی وغیرہ سے تبرک حاصل کرنا اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اس کا ذکر صحیح بخاری میں بھی موجود ہے۔ پس آثارِ نبوی ﷺ سے تبرک کے ثبوت میں سب سے مضبوط اور غیر متنازع بنیاد یہی صحیح احادیث ہیں۔ امیر امارت امت اسلامیہ حضرت مولانا قاضی الحاج محمد عبدالرزاق نقشبندی مجددی قادری چشتی مداری سہروردی جامع السلاسل بانی و صدر کل ہند ایس ایس اُو نے بصیرت افروز خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آثارِ شریفہ سے برکت حاصل کرنا دراصل اللہ تعالیٰ سے برکت و رحمت خداوندی طلب کرنا ہے.
اثر کو مستقل مؤثر یعنی بندہ یہ عقیدہ رکھے کہ برکت اللہ تعالیٰ عطا فرماتا ہے اور مقدس آثار کو اللہ تعالیٰ نے خیر و برکت کا ذریعہ بنایا ہے یہی اہل سنت و جماعت کا عقیدہ ہے ۔ حضرت خواجہ غیاث الدین معینی چشتی نے اپنے خطاب کے دوران یہ بھی کہاک حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کے مزارِ اقدس کا گنبد موئے مبارکِ مصطفیٰ ﷺ کی وساطت سے حضرت خواجہ حمید الدین ناگوری رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ حضرت حسین احمدؒ نے بنوایا ہے ، یہ ایک تاریخی/ روایتی دعویٰ ہے۔ ” اہلِ محبت و سلاسل کی روایات میں منقول ہے کہ خواجۂ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کے مزارِ اقدس کے گنبد کی تعمیر کا تعلق موئے مبارکِ مصطفیٰ ﷺ کی برکت سے حضرت خواجہ حمید الدین ناگوری رحمۃ اللہ علیہ خلیفہء دوم سے بیان کیا جاتا ہے- صدر کل ہند سنی علماء مشائخ بورڈ حضرت قاضی سید شاہ غوث محی الدین قادری چشتی صدرقاضی ضلع محبوب نگر و سجادہ نشین و متولی بارگاہ حضرت پیراں شاہ صاحبؒ نے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہاکہ
قرآن → تابوتِ سکینہ → آثارِ آلِ موسیٰؑ و آلِ ہارونؑ → قمیصِ یوسف علیہ السلام → صحابۂ کرام کا موئے مبارکِ مصطفیٰ ﷺ سے تبرک → آثارِ اولیاء و صالحین → اللہ تعالیٰ کو مؤثرِ حقیقی ماننا۔
اس ترتیب سے یہ بات بہت خوبصورتی سے واضح ہوجائے گی کہ آثارِ شریفہ و تبرکات کی زیارت ، ان کی تعظیم اور ان سے اکتسابِ برکت کا تصور محض جذباتی یا ثقافتی معاملہ نہیں بلکہ داخل ایمان ہے اس کی اصل قرآن و سنت کے متعدد شواہد میں موجود ہے ہم مولانا محسن پاشاہ انصاری قادری نقشبندی کے شکر گذار ہیں کہ وہ آثار شریف کو مختلف جگہوں پر لے جاکر زیارت بھی کرواتے ہیں تاکہ ان کے ایمان میں پختگی اور عقیدہ میں مضبوطی آسکے ۔ اس موقعہ پر شہزادہء جگر گوشہء پیران پیرؓ عمدۃ الحکمت حضرت علامہ الحاج سید شاہ نعمت اللہ قادری بانی مدرسہ عربیہ انوارالعلوم ملحقہ جامعہ نظامیہ بھوانی نگر حیدرآباد دکن ، اولاد حضرت بندہ نوازؒ حضرت سید شاہ رحمت محمد محمد الحسینی المعروف رحمت بابا بندہ نوازی چشتی قادری نقشبندی سہروردی جامع السلاسل ، مفسر قرآن حکیم حضرت علامہ محمد محی الدین قادری محمودی مولوی کامل الحدیث جامعہ نظامیہ و خازن کل ہند انجمن طلباء قدیم جامعہ نظامیہ ، برادر سجادہ نشین بارگاہ جلالیہؒ گوگی شریف کرناٹک حضرت علامہ مفتی سید شاہ چندا حسینی زبیر بابا مولوی کامل الفقہ جامعہ نظامیہ ، حضرت الحاج شیخ محمد رفیق جنیدی نقشبندی قادری چشتی سہروردی سجادہ نشین بارگاہ اعلی حضرت سیدی شیخ عبدالوھاب شاہ صدیق نماں کوتنے پلی ، حضرت علامہ حافظ سید شرف الدین چشتی قادری مرزائی قلندری سجادہ نشین بارگاہ حضرت خواجہ سید محمد امیر الدین صاحب قادریؒ چشتی ، حضرت عبداللہ بایمین چشتی قادری نقشبندی سہروردی جامع السلاسل ، جناب قاضی سید شاہ مجیب بابا چشتی قادری جانشین سجادہ نشین بارگاہ حضرت پیراں شاہ صاحبؒ ، الحاج محمد عبد الضمیر طاہری قادری متولی شہنشاہ ولایت حضرت سید محمد عبدالقادر باباؒ ، حضرت مولانا حافظ الحاج محمد الیاس نقشبندی مولوی کامل جامعہ نظامیہ و امام و خطیب مکہ مسجد محبوب نگر،
ممتاز سینیئر صحافی الحاج محمد عبدالرافع ذکی قادری نائب صدر ریاستی ٹی یو ڈبلیو جے یو ، حضرت سیدشاہ نور الدین حسینی صادق نقشبندی نعمت نگر پرگی ، جناب محمد یونس طاہری قادری ، جناب محمد ارشد طاہری رضوی قادری ، ڈاکٹر محمد احتشام طاہری قادری اسیسٹنٹ پروفیسر ملاریڈی یونیورسٹی ، جناب سید محمد حسینی عزیزی قادری ، جناب محمد عبدالکلیم نیازی ، جناب محمد نواز ، مولانا حافظ محمد برہان محبوب وارث پاشاہ قادری شرفی سجادہ نشین بارگاہ اتمؔ شرفیؒ ، حضرت محمد عبد القدوس بابا مجذوب ، الحاج محمد عبدالمبین انصاری قادری ابوالعلائ ، الحاج محمد عبد العلیم انصاری قادری ، الحاج محمد عبدالنعیم نقشبندی نائب معتمد مکہ مسجد انتظامی کمیٹی ، جناب محمد عبدالکلیم انصاری قادری ، الحاج محمد عبدالباری انصاری نقشبندی مجددی قادری چشتی سہروردی جامع السلاسل ۔ جناب صوفی شاہ محمد ابراھیم شرفی قادری نقشبندی چشتی سہروردی ، جناب محمد احمد خان ، جناب صوفی خواجہ خان چشتی قادری مرزائی قلندری شطاری سجادہ نشین و متولی بارگاہ حضرات پیرلہ مری رحمہما اللہ، مولانا محمد عبدالقدیر عزیزی قادری برادر سجادہ نشین بارگاہ شہنشاہ ولایتؒ ، جناب محمد عبداللہ سنی ایڈوکیٹ ، جناب سید اشفاق علی شاہ قادری ، جناب محمد عبدالقدوس
جناب قاری عقیل احمد ، حضرت سید پاشاہ چشتی قادری نقشبندی سہروردی جامع السلاسل ، جناب محمد خلیل چشتی قادری کے علاوہ سینکڑوں مرد و خواتین نے شرکت کی – جناب محمد عبدالغفور نیازی و ہمنواؤں نے کلام سناکر خوب داد تحسین حاصل کی – اس موقعہ پر خدام آثار شریفہ و تبرکات کثیرہ جناب محمد اسماعیل انصاری مکین جامع السلاسل، جناب محمد حسان انصاری حسنین پاشاہ جامع السلاسل اور جناب محمد معین مازن انصاری جامع السلاسل و ہمنواؤں نے مرد و خواتین کو آثار شریفہ و تبرکات کثیرہ کی رآت دیر گئے تک زیارت کروائی۔




