مضامین

دماغی نکسل: سانپ بھی مرے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے

تحریر: سید سرفراز احمد

 

دنیا میں سیاست دانوں سے ذیادہ شائد ہی کوئی چالاک ہو۔ یہ بات اس لیئے لکھی جارہی ہے کہ سیاست داں ہر وقت اپنے مفادات کو ملحوظ رکھے بناء کوئی بات کہہ ہی نہیں سکتا۔ لیکن سیاست دانوں میں وہ سیاست داں جو آئینی عہدے پر فائز ہو اور وہ اپنی اس کرسی سے انصاف تب ہی کرسکتے جب وہ اپنے عہدے کا پاس و لحاظ رکھتے ہوں ۔ اس کے برعکس اگر وہ اپنے عہدے کا کوئی پاس و لحاظ نہ رکھتے ہوۓ اپنے سیاسی مفادات کو ملحوظ رکھتا ہو تو ایک سیاست داں اور آئینی عہدے پر براجمان شخص میں کوئی امتیاز باقی نہیں رہ جاتا۔ ہم سے ہر کوئی یہ بات جانتا ہے کہ وزیر اعظم کا عہدہ یا اس کی کرسی کا مرتبہ یا پھر اس عہدے کے ذریعہ کی جانے والی گفتگو اس ملک کے لیئے بہت اہم معنی رکھتی ہے۔ لیکن اگر اس کے برعکس وہی وزیراعظم لال قلعہ کی فصیل سے متضاد گفتگو یا اپنے مفادات کی تکمیل کی منطقی باتیں کرتا ہو تو پھر لازمی ہے کہ ایسی گفتگو پر سوالات اٹھنا شروع ہوجاتے ہیں۔

 

15 اگست 2026 کو لال قلعہ سے قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ اس ملک کو مسلح نکسل ازم کے خلاف کامیابی حاصل ہوئی ہے، لیکن ملک میں ایسے ’’دماغی نکسل‘‘ موجود ہیں جن کی شناخت کرکے انہیں الگ تھلگ کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق نکسل ذہنیت رکھنے والے لوگ تشدد کے راستے تلاش کرتے ہیں اور ملک کو غلط سمت میں لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ حکومت کے مطابق 31 مارچ 2026 تک ملک نکسل ازم سے مؤثر طور پر آزاد ہوچکا ہے اور اس کامیابی میں سکیورٹی کارروائیوں کے ساتھ ترقی، بحالی، قبائلی بہبود اور بہتر حکمرانی کا بھی کردار رہا ہے۔ اس پس منظر میں وزیر اعظم کا یہ بیان بظاہر ایک ختم ہوتی ہوئی مسلح شورش کے باقی ماندہ نظریاتی اثرات کی طرف توجہ دلاتا ہے، لیکن ان کے الفاظ نے ایک بنیادی جمہوری سوال بھی پیدا کردیا ہے کہ آخر ’’دماغی نکسل‘‘ سے مراد کون ہے؟

 

نکسل ازم ایک حقیقی مسلح تحریک رہی ہے، جس نے ہندوستان کے کئی علاقوں میں تشدد، قتل، خوف اور ریاستی اداروں کے خلاف مسلح کارروائیوں کا راستہ اختیار کیا۔ اس کے خاتمے کے لیے ریاست کو سکیورٹی اقدامات کا حق بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ اگر کوئی شخص واقعی تشدد کی حمایت کرتا ہے، مسلح گروہوں کی مدد کرتا ہے، ملک کی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں میں شریک ہوتا ہے یا آئین کو مسلح طاقت سے ختم کرنا چاہتا ہے تو قانون کو اس کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔ لیکن ایک جمہوری ملک میں ’’نکسل ذہنیت‘‘ جیسی وسیع اور غیر واضح اصطلاح کو سیاسی، فکری یا صحافتی اختلاف رکھنے والوں کے خلاف استعمال کرنا خطرناک ہوسکتا ہے۔ حکومت کی طرف سے بعد میں وضاحت کی گئی کہ وزیر اعظم کا اشارہ اپوزیشن لیڈروں کو ’’دماغی نکسل‘‘ کہنا نہیں تھا، بلکہ ان لوگوں کی طرف تھا جو ماؤ نوازوں، علیحدگی پسندوں یا آئین مخالف سرگرمیوں کی حمایت کرتے ہیں۔ لیکن پھر سوال وہی اٹھتا ہے کہ کون ہے وہ جو ماؤ نوازوں اور علیحدگی پسندوں کی حمایت کرتے ہیں؟ جواب مختصر یہی ہے کہ نہ ایسے افراد کی نشان دہی کی گئی اور نہ اس کا جواب دیا گیا۔ پھر سوال وہی اٹھے گا کہ وزیر اعظم نے دماغی نکسل کہہ کر کس کو مخاطب کیا ہے؟

 

اگر وزیر اعظم کا یہ کہنا تھا کہ جو لوگ حکومت پر سوال اٹھاتے ہیں یا اختلاف کرتے ہیں یا پھر تنقید کا نشانہ بناکر سڑکوں پر احتجاج کرتے ہیں انھیں اگر دماغی نکسل کہا جارہا ہے تو یہ بات آئینی اور جمہوری طریقے سے پوری طرح ٹکراتی ہے۔ چوں کہ جمہوریت کی خوبصورتی ہی یہ ہے کہ حکومت سے اختلاف کرنے کا حق شہریوں کو حاصل ہوتا ہے۔ سوال پوچھنا، پالیسیوں پر تنقید کرنا، حکومت کی کارکردگی کا احتساب کرنا، احتجاج کرنا، عدالت سے رجوع کرنا اور انتخابات میں حکمران جماعت کو مسترد کرنا جمہوری نظام کے بنیادی طریقے ہیں۔ اگر کوئی شہری مہنگائی، بے روزگاری، غربت، تعلیم، صحت، اقلیتوں کے حقوق یا حکومتی پالیسی پر سوال اٹھاتا ہے تو اسے محض اختلاف کی بنیاد پر کسی خطرناک نظریے سے جوڑ دینا جمہوری مکالمے کو کمزور کرے گا۔ ہندوستان جیسے کثیر مذہبی، کثیر لسانی اور کثیر نظریاتی ملک میں اختلاف کو دشمنی سمجھنے کے بجائے جمہوریت کی طاقت سمجھنا چاہیے۔

 

وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ مسلح نکسل ازم کے بعد بھی اس کی نظریاتی باقیات ملک کو غلط سمت میں لے جاسکتی ہیں۔ یہ خدشہ اپنی جگہ زیر بحث آسکتا ہے، لیکن اس کا جواب ’’الزام‘‘ نہیں بلکہ "دلیل” ہونی چاہیے۔ اگر کوئی نظریہ ملک کے آئین، جمہوری اداروں یا شہری آزادیوں کے خلاف ہے تو حکومت اور دانشور طبقہ اس کی نشان دہی دلیل، شواہد اور قانون کے ذریعے کریں ۔ کسی شخص کو صرف اس لیے ’’دماغی نکسل‘‘ قرار دینا کہ وہ حکومت کی مخالفت کرتا ہے، ایک ایسی سیاسی فضا پیدا کرسکتا ہے جہاں اختلاف رائے کو غداری کے قریب سمجھا جانے لگے۔ ایسی صورت حال کسی بھی جمہوری نظام کے لیے صحت مند نہیں ہوسکتی۔

 

یہ بھی قابلِ غور ہے کہ ہندوستان نے نکسل ازم کے خلاف صرف بندوق سے کامیابی حاصل نہیں کی۔ خود سرکاری وضاحت کے مطابق سکیورٹی کارروائیوں کے ساتھ سڑکوں، ڈیجیٹل رابطے، بنیادی سہولتوں، فلاحی منصوبوں، بحالی اور ریاستی اداروں کی رسائی کو بھی اہمیت دی گئی۔ اس سے ایک اہم سبق ملتا ہے کہ دیرپا امن صرف طاقت سے نہیں بلکہ انصاف، ترقی، اعتماد اور مواقع سے پیدا ہوتا ہے۔ اگر حکومت واقعی نظریاتی نکسل ازم کو ختم کرنا چاہتی ہے تو اسے نوجوانوں کو روزگار، تعلیم اور باعزت مستقبل فراہم کرنے کے ساتھ ایسے تمام محرکات کو بھی سمجھنا ہوگا جن سے انتہا پسند نظریات جنم لیتے ہیں۔

 

وزیر اعظم جیسے منصب پر فائز شخص کے الفاظ عام سیاسی بیان سے کہیں زیادہ وزن رکھتے ہیں۔ لال قلعہ کی فصیل سے دیا جانے والا خطاب پوری قوم سنتی ہے، اس لیے وہاں استعمال ہونے والی ہر اصطلاح کے نتائج بھی دور تک جاتے ہیں۔ اگر ’’دماغی نکسل‘‘ کی اصطلاح کسی واضح قانونی معیار کے بغیر استعمال ہوتی رہی تو کل یہ اصطلاح صحافی، دانشور، طالب علم، سماجی کارکن یا سیاسی مخالف، کسی کے لیے بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حکومت کو خاص کر وزیر اعظم کو اپنے الفاظ کے ساتھ غیر معمولی احتیاط کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ احتیاط پچھلے بارہ سالوں میں کہیں بھی نظر نہیں آیا۔ ہم نے دیکھا 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں اقلیتوں کو "درانداز” کہا گیا۔ کیا ایک وزیر اعظم کو زیب دیتا ہے کہ وہ اس طرح کی زبان کا استعمال کرے۔

 

ہم یہ بھی دیکھتے آرہے ہیں کہ موجودہ حکومت ہند پر اگر کوئی تنقید کرتا ہے یا حکومت کے خلاف جاتا ہے تو اس کو اپنی سیاسی طاقت کی بناء پر سرکاری تفتیشی اداروں کے ذریعہ اس سے انتقام لیا جاتا رہا۔ بلکہ مسلم نوجوانوں کو ملک سے بغاوت کا ٹھپہ بھی لگایا گیا۔ لیکن جمہوری ملک میں تنقید کا مطلب ملک دشمنی نہیں اور حکومت سے اختلاف کا مطلب نکسل ازم کی حمایت بالکل بھی نہیں ہے۔ اگر ہم ہندوستان کی آزادی کی تاریخ پر نظر ثانی کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اختلاف، سوال، احتجاج اور مختلف سیاسی خیالات کی تاریخ ہے۔ جمہوریت میں مضبوط حکومت وہ نہیں جو صرف اپنے حامیوں کی آواز سنے، بلکہ وہ ہے جو اپنے ناقدین کی بات بھی تحمل سے سنے اور غلط ثابت کرنے کے لیے دلیل پیش کرے۔ اگر حکومت کی پالیسی اچھی ہے تو اسے ’’دماغی نکسل‘‘ جیسے الزام کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ بلکہ اس کی کامیابی کے اعداد و شمار، عوامی فلاح اور زمینی نتائج خود اس کے حق میں دلیل بن سکتے ہیں۔

 

وزیر اعظم نے دماغی نکسل کی جو اصطلاح استعمال کی ہے۔ وہ کوئی واضح اصطلاح نہیں ہے۔ اور نہ یہ واضح کیا گیا کہ وہ کس کے لیئے استعمال کی گئی ہے۔ لیکن یہ بات تو واضح ہوچکی ہے کہ وزیراعظم نے اس نئی اصطلاح کو "سانپ بھی مرے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے” کے مصداق استعمال کرلیا ہے۔ واقعی اگر ملک سے نکسل ازم کا مکمل خاتمہ ہوچکا ہے تو یہ اچھی ہی بات ہے۔ لیکن اگر دماغی نکسل کی نئی اصطلاح اپوزیشن جماعتوں یا دیگر کے لیئے استعمال ہوئی ہے جو حکومت سے سوال کرتے اور حکومت کو آئینہ دکھاتے ہوں تو، پھر یہاں ضروری ہوجاتا ہے کہ اس ملک کو نکسل ازم کے خاتمے کے بعد جمہوری اصولوں کو مضبوط بنانا ہوگا۔ یہاں دو بنیادی سوال اٹھیں گے کہ اگر کوئی سوال کرنے سے خوف کھا رہا ہے تو اس کے ذمہ دار کون ہوں گے؟ اور کون ایک فرد کی جمہوری آزادی پر قدغن لگانا چاہتے ہیں؟۔

 

نکسل ازم اگر بندوق اٹھانے کا نام ہے تو اس کے خلاف قانون پوری قوت سے نافذ ہونا چاہیے۔ لیکن اگر ’’دماغی نکسل‘‘ کا مطلب صرف مختلف سوچ رکھنے والا شخص ہے تو یہ اصطلاح خود جمہوری ذہن کے لیے خطرناک بن سکتی ہے۔ ملک کو آج ایسے شہریوں کی ضرورت ہے جو سوچیں، سوال کریں، اختلاف کریں اور بہتر ہندوستان کا تصور پیش کریں۔ حکومت کو بھی تنقید سے خوفزدہ ہونے کے بجائے اسے اپنی اصلاح کا ذریعہ سمجھنا چاہیے۔ ہندوستان کی اصل طاقت صرف اس کی فوج، پولیس یا حکومت نہیں بلکہ اس کے آزاد شہری، آئینی ادارے اور اختلاف کے باوجود ساتھ رہنے کی صلاحیت ہے۔ اگر ہم واقعی ایک مضبوط اور ترقی یافتہ ہندوستان چاہتے ہیں تو ہمیں بندوق والے نکسل ازم کے ساتھ ساتھ نفرت، تشدد اور انتہا پسندی کا مقابلہ ضرور کرنا ہوگا، چاہے اس کا تعلق کہیں سے بھی ہو۔ لیکن آزاد سوچ کو دشمن قرار دینا یہ جمہوریت کے مغائر ہوگا۔ جمہوریت میں ذہن کو خاموش نہیں کیا جاتا، بلکہ ذہن کو دلیل سے قائل کیا جاتا ہے۔ یہی ہندوستانی آئین کی روح اور ایک مضبوط جمہوری ہندوستان کی اصل پہچان ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button