مضامین

کرناٹک کانگریس کی نئی بساط شیوکمار کے سامنے اختیار، توازن اور اعتماد کی آزمائش

از: عبدالحلیم منصور

جمہوریت کی اصل روح صرف انتخابات میں نہیں، بلکہ اس اعتماد میں پوشیدہ ہوتی ہے جو عوام اپنے منتخب حکمرانوں کو فیصلے کرنے کے لیے دیتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کا منصب اسی لیے ریاستی انتظامیہ کا سب سے طاقتور آئینی عہدہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ عوامی مینڈیٹ کو مؤثر حکمرانی میں تبدیل کرے۔ مگر جب ہر بڑا فیصلہ ریاستی دارالحکومت کے بجائے دہلی کی منظوری کا محتاج دکھائی دینے لگے، جب کابینہ کی تشکیل سے لے کر قلمدانوں کی تقسیم تک غیر یقینی کیفیت مسلسل برقرار رہے، اور جب حکومت اپنی توانائی عوامی مسائل کے بجائے داخلی ناراضگیوں کو سنبھالنے میں صرف کرنے لگے، تو سوال صرف ایک حکومت کا نہیں بلکہ سیاسی قیادت کی قوتِ فیصلہ کا بھی بن جاتا ہے۔

 

کرناٹک میں ڈی کے شیوکمار کی حکومت اس وقت اسی تاریخی امتحان سے گزر رہی ہے۔ 3 جون 2026 کو جب ڈی کے شیوکمار نے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے حلف لیا تو کانگریس نے اسے سیاسی بلوغت کی علامت اور اقتدار کی مثالی و پُرامن منتقلی قرار دیا۔ سدارامیا نے استعفیٰ دیا، ہائی کمان نے نئی قیادت کا اعلان کیا اور یہ تاثر دیا گیا کہ ریاست میں استحکام کی نئی داستان لکھی جائے گی۔ لیکن محض دو ماہ بعد یہی حکومت مسلسل تاخیر، آخری لمحے کی تبدیلیوں، دہلی کے بار بار چکروں اور ناراض دھڑوں کی سیاست میں الجھ گئی۔ یوں محسوس ہونے لگا کہ اقتدار تو بنگلورو میں منتقل ہوا ہے، مگر اختیار ابھی تک دہلی کی راہداریوں میں گردش کر رہا ہے۔

 

سب سے زیادہ تشویش اس حقیقت پر ہے کہ بحران کسی ایک مرحلے تک محدود نہیں رہا۔ پہلے قیادت کی تبدیلی پر طویل مشاورت ہوئی، پھر محدود کابینہ تشکیل دی گئی، اس کے بعد تقریباً دو ماہ تک توسیع مؤخر رہی، پھر حلف برداری سے چند گھنٹے پہلے وزراء کی فہرست میں بار بار تبدیلی کی گئی، بعض یقینی سمجھے جانے والے امیدواروں کو آخری لمحے میں روک دیا گیا، اور انیس نئے وزراء کو حلف لینے کے باوجود کئی دن تک قلمدان نہیں دیے گئے۔ آخرکار اسمبلی اجلاس سے عین پہلے قلمدانوں کا اعلان ہوا، مگر اس کے ساتھ ہی دوبارہ معمولی ردوبدل کے اشارے بھی سامنے آنے لگے۔

 

یہ تمام واقعات کسی بالغ اور منظم سیاسی جماعت کی علامت نہیں سمجھے جا سکتے۔ حکومتیں اختلافات سے خالی نہیں ہوتیں، مگر مضبوط قیادت اختلافات کو فیصلے سے پہلے ختم کرتی ہے، فیصلے کے بعد نہیں۔ یہاں صورتِ حال اس کے برعکس دکھائی دی، جہاں ہر فیصلہ ایک نئے اختلاف کو جنم دیتا رہا۔کانگریس کے اندر اس بحران کا ایک اہم پہلو دہلی پر غیر معمولی انحصار بھی ہے۔ آئین کے مطابق کابینہ کی تشکیل اور قلمدانوں کی تقسیم وزیر اعلیٰ کا اختیار ہے، لیکن عملی طور پر ڈی کے شیوکمار کو بار بار دہلی جا کر اے آئی سی سی صدر ملکارجن کھرگے، راہل گاندھی اور تنظیمی قیادت سے منظوری لینا پڑی۔ سوال یہ نہیں کہ مشاورت کیوں ہوئی؛ سوال یہ ہے کہ کیا ایک اکثریتی حکومت کا وزیر اعلیٰ اپنی ہی کابینہ کے بارے میں آزادانہ فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا؟

 

حلف برداری سے پہلے پیش آنے والے واقعات اس سوال کو اور بھی گہرا کرتے ہیں۔ متعدد معتبر سیاسی ذرائع کے مطابق وزراء کی فہرست کئی مرتبہ تبدیل ہوئی۔ بعض ایسے امیدوار جنہیں تقریباً یقینی وزیر سمجھا جا رہا تھا، آخری لمحے میں روک دیا گیا، جبکہ چند نئے نام اچانک شامل ہوئے۔ یہ تبدیلیاں محض ناموں کا ردوبدل نہیں تھیں بلکہ انہوں نے حکومت کے آغاز ہی میں یہ تاثر پیدا کیا کہ فیصلہ سازی کا عمل آخری لمحے تک غیر مستحکم رہا۔ کسی بھی بڑی سیاسی جماعت کے لیے یہ صورتِ حال امیدواروں کی سیاسی ساکھ اور تنظیمی وقار دونوں کو متاثر کرتی ہے۔

 

یہاں تین امکانات سامنے آتے ہیں، اور تینوں پر سنجیدگی سے غور ضروری ہے۔پہلا امکان یہ ہے کہ کانگریس کی مرکزی قیادت پہلے کے مقابلے میں فیصلہ سازی کی قوت کھو چکی ہے۔ اگر ایک ریاست میں وزیر بنانا، فہرست کو حتمی شکل دینا اور قلمدان تقسیم کرنا بھی کئی ہفتوں کی مشق بن جائے تو یہ تنظیمی کمزوری کی علامت سمجھی جا سکتی ہے۔ ایک مضبوط ہائی کمان اختلافات کو طول نہیں دیتی بلکہ بروقت فیصلہ کر کے واضح سیاسی پیغام دیتی ہے۔

 

دوسرا امکان یہ ہے کہ قیادت کمزور نہیں بلکہ مجبور ہے۔ کانگریس اس وقت مختلف برادریوں، علاقائی دھڑوں، سابق و موجودہ قیادت اور مستقبل کی سیاسی صف بندیوں کے درمیان ایسا توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس میں ہر فیصلہ کسی نہ کسی طاقتور حلقے کو ناراض کرتا ہے۔ اس صورت میں تاخیر ایک حکمت عملی بھی ہو سکتی ہے، اگرچہ اس کی سیاسی قیمت حکومت کو اپنی ساکھ سے ادا کرنا پڑ رہی ہے۔

 

تیسرا اور شاید سب سے اہم امکان یہ ہے کہ پارٹی کی ترجیحات بدل چکی ہیں۔ کرناٹک خود کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کی آبائی ریاست ہے۔ اگر اسی ریاست میں بار بار دہلی مداخلت کرے، نگران رہنما متفقہ فہرست تیار نہ کر سکیں، آخری لمحے میں نام بدلتے رہیں اور اسمبلی اجلاس تک غیر یقینی برقرار رہے، تو یہ سوال بجا ہے کہ کیا ریاستی امور پر پارٹی کی اعلیٰ قیادت پہلے جیسی توجہ دینے میں ناکام ہو چکی ہے؟ یا پھر قومی سیاست کی مصروفیات نے ریاستی حکمرانی کو ثانوی حیثیت دے دی ہے؟ . یہ تینوں امکانات ایک دوسرے کی نفی نہیں کرتے؛ ممکن ہے حقیقت انہی کا مجموعہ ہو۔

 

اسمبلی اجلاس نے بھی کئی علامتی پیغامات دیے۔ پہلے دن سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا کی غیر حاضری نے سیاسی حلقوں میں چہ میگوئیاں پیدا کیں، جبکہ دوسرے دن ان کا ایوان کی پچھلی نشستوں پر بیٹھنا، محدود گفتگو کرنا اور نمایاں خاموشی اختیار کرنا مختلف تعبیرات کا باعث بنا۔ پارلیمانی روایت میں سابق وزیر اعلیٰ عام رکن اسمبلی کی حیثیت سے پچھلی نشست پر بیٹھ سکتے ہیں، اس لیے اسے آئینی بحران نہیں کہا جا سکتا، لیکن سیاست میں علامتیں ہمیشہ معنی رکھتی ہیں۔ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ سدارامیا بغاوت کر رہے ہیں، کیونکہ اس کا کوئی مستند ثبوت موجود نہیں؛ البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ان کی خاموشی مکمل اطمینان کی علامت بھی نہیں ہے۔

 

یہاں ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ سدارامیا نے اقتدار ضرور چھوڑا، لیکن انہوں نے اپنی سیاسی حیثیت نہیں چھوڑی۔ "اہندا” سیاست کے معمار کی حیثیت سے ان کا اثر آج بھی دلت، پسماندہ طبقات، اقلیتوں اور کانگریس کے ایک بڑے تنظیمی حلقے میں برقرار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی خاموشی بھی سیاسی معنی اختیار کر لیتی ہے۔ اگرچہ کھلی بغاوت کا کوئی ثبوت موجود نہیں، مگر خاموش ناراضگی مستقبل کی صف بندیوں کا پیش خیمہ ضرور بن سکتی ہے۔

 

کابینہ کی سماجی ساخت بھی شدید بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ کانگریس خود کو سماجی انصاف کی علمبردار جماعت قرار دیتی ہے، مگر نئی کابینہ میں ووکالیگا اور لنگایت برادریوں کی مضبوط موجودگی برقرار رہی، جبکہ متعدد پسماندہ طبقات محدود نمائندگی پر اکتفا کرنے پر مجبور رہے۔ اگر وزیر اعلیٰ خود ووکالیگا برادری سے تعلق رکھتے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسی برادری کی غیر معمولی نمائندگی سیاسی ضرورت تھی یا سماجی توازن کے خلاف ایک فیصلہ؟

 

اس سے بھی زیادہ تشویش ناک حقیقت یہ ہے کہ تینتیس رکنی وزارتی کونسل میں ایک بھی خاتون وزیر شامل نہیں۔ یہ صرف عددی کمی نہیں بلکہ ایک نظریاتی تضاد ہے۔ پارلیمنٹ میں خواتین ریزرویشن کی حمایت کرنے والی جماعت اپنی ہی ریاستی کابینہ میں خواتین کو نمائندگی نہ دے سکے تو اس کے سماجی انصاف کے دعوے کمزور پڑ جاتے ہیں۔ بعد میں ایک نشست خواتین کے لیے محفوظ رکھنے کی بات ضرور سامنے آئی، مگر سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ دو ماہ تک جاری مشاورت میں کسی خاتون امیدوار پر اتفاق کیوں نہ ہو سکا؟

 

قلمدانوں کی تقسیم نے بھی اختلافات ختم نہیں کیے۔ رام لنگا ریڈی، کے ایچ منی اپا اور دیگر سینئر رہنماؤں کی ناراضگی نے واضح کر دیا کہ مسئلہ صرف وزارت نہیں بلکہ اختیارات کی تقسیم بھی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے مالیات سمیت کئی اہم محکمے اپنے پاس رکھے، جبکہ متعدد قلمدانوں میں ردوبدل کر کے علاقائی اور سیاسی توازن پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، مگر یہ توازن ابھی بھی مکمل اتفاقِ رائے میں تبدیل نہیں ہو سکا۔

 

ضمیر احمد خان اور بی ناگیندر کی دوبارہ شمولیت نے حکومت کو ایک اور اخلاقی بحث میں مبتلا کر دیا۔ ایک طرف احتساب کی بات کی جاتی ہے، دوسری طرف متنازع شخصیات کی واپسی پر سوال اٹھتے ہیں۔ اسی دوران کئی سینئر رہنما، جو اپنے آپ کو زیادہ اہل سمجھتے تھے، کابینہ سے باہر رہ گئے۔ یوں ناراضگی صرف محرومی کی نہیں بلکہ معیارِ انتخاب کی بھی بن گئی.

 

اصل مسئلہ شاید کابینہ کی تشکیل نہیں، بلکہ فیصلہ سازی کے طریقۂ کار کا ہے۔ کانگریس کی سب سے بڑی تاریخی قوت ہمیشہ اجتماعی مشاورت اور بروقت اتفاقِ رائے رہی ہے، مگر کرناٹک میں یہی روایت کمزور دکھائی دی۔ اگر وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار، سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا، اے آئی سی سی صدر ملکارجن کھرگے، تنظیمی جنرل سکریٹری اور ریاستی سینئر قیادت پہلے ہی بنگلورو میں بیٹھ کر ایک حتمی اور متفقہ فہرست تیار کر لیتے تو دہلی کی منظوری محض آئینی و تنظیمی رسم رہ جاتی۔ اس کے برعکس بار بار بدلتی فہرستوں، آخری لمحے کے فیصلوں اور مسلسل نظرثانی نے یہ تاثر پیدا کیا کہ حکومت سے زیادہ خود فیصلہ سازی کا عمل غیر یقینی کا شکار ہے، اور یہی اس پورے بحران کا بنیادی سبب بن گیا.

 

یہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ اسمبلی اجلاس ختم ہونے سے پہلے ہی دوبارہ معمولی کابینہ ردوبدل کی قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔ بعض ناراض رہنماؤں کو شامل کرنے، چند قلمدان تبدیل کرنے اور ایک نشست کو خواتین کے لیے محفوظ رکھنے کی باتیں گردش کرتی رہیں۔ اگر حکومت اپنی پہلی مکمل کابینہ کو بھی مستحکم شکل نہ دے سکے تو یہ انتظامی اعتماد کے لیے نیک شگون نہیں سمجھا جا سکتا

 

تاریخ گواہ ہے کہ کانگریس نے کرناٹک میں اپنی مضبوط ترین حکومتیں اسی وقت چلائیں جب قیادت واضح، فیصلہ بروقت اور نمائندگی متوازن رہی۔ دیوراج ارس نے سماجی انصاف کو نظریہ بنایا، سدارامیا نے "اہندا” کو سیاسی قوت دی، اور ڈی کے شیوکمار تنظیمی مہارت کے باعث وزیر اعلیٰ بنے۔ اب ان کے سامنے اصل امتحان یہی ہے کہ آیا وہ تنظیمی مہارت کو مؤثر حکمرانی میں تبدیل کر سکتے ہیں یا نہیں

 

یہ بھی حقیقت ہے کہ کانگریس کے لیے سب سے بڑا سہارا اس وقت کمزور اپوزیشن ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اپنی اندرونی مشکلات سے دوچار ہے، اس لیے حکومت کو فوری سیاسی خطرہ کم محسوس ہوتا ہے۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ مضبوط اپوزیشن نہ ہونے سے حکومت کی کمزوریاں ختم نہیں ہوتیں؛ بلکہ وہ اندر سے زیادہ نمایاں ہونے لگتی ہیں۔ جب احتساب باہر سے کمزور ہو تو اندرونی اختلافات زیادہ طاقتور ہو جاتے ہیں۔

 

حکومتوں کی کامیابی نعروں، اکثریت یا طاقتور عہدوں سے نہیں بلکہ بروقت فیصلوں، شفاف معیار، سماجی انصاف اور عملی حکمرانی سے متعین ہوتی ہے۔ ڈی کے شیوکمار کے سامنے آج سب سے بڑا چیلنج اپوزیشن نہیں بلکہ اپنی ہی جماعت کا اعتماد ہے۔ اگر دہلی اور بنگلورو کے درمیان فیصلہ سازی کی یہ کشمکش ختم نہ ہوئی، اگر خواتین اور محروم طبقات کی نمائندگی محض وعدوں تک محدود رہی، اگر وزیر اعلیٰ انتظامیہ سے زیادہ ناراض لیڈروں کی دلجوئی اور دہلی کی منظوری کے منتظر رہے، تو یہ حکومت آئینی طور پر مضبوط ہونے کے باوجود سیاسی طور پر کمزور دکھائی دے گی۔

 

کرناٹک آج صرف ایک کابینہ کے بحران سے نہیں گزر رہا؛ وہ اس بنیادی سوال کا جواب تلاش کر رہا ہے کہ کیا ہندوستان کی سب سے قدیم سیاسی جماعت اپنی ہی حکمرانی والی ریاست میں بروقت، خودمختار اور فیصلہ کن قیادت فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں۔ آنے والے مہینوں میں اس سوال کا جواب صرف ڈی کے شیوکمار کی حکومت نہیں بلکہ خود کانگریس کی تنظیمی ساکھ بھی طے کرے گی۔

haleemmansoor@gmail.com

متعلقہ خبریں

Back to top button