اسپشل اسٹوری

مرد ہو تو ایسا 

 

حیدرآباد کے ایک نوجوان محمد عماد علی ولد محمد واجد علی، میکانیکل انجینئر نے سنّت نبوی ﷺ کے پیروی کرتے ہوئے انتہائی سادگی سے شادی کی ایک شاندار مثال قائم کی۔

 

آج جب کہ کہیں لڑکے والے بھکاری بنے ہوئے ہیں اور کہیں لڑکی والے خود پیسہ لٹانے پر تلے ہوئے ہیں، سنّت کے مطابق سادگی سے شادی کرنا ناممکن ہوتا جارہا ہے، ایسے وقت میں اِس نوجوان نے ہمّت دکھائی، جب کہ اگر وہ چاہتے تو بے شمار لوگ ان کو بیٹی دے کر لاکھوں کا خرچ بھی کرسکتے تھے، لیکن انہوں نے سنّت کے آگے ہر خرافات کا خاتمہ کیا، اور مکہّ مسجد میں نکاح کیا اور اِسی شام ولیمہ بھی منعقد کیا تاکہ لڑکی والوں سے کھانا لینے کی بدعت کا خاتمہ ہوسکے۔ ایسی شادی جس میں نہ کوئی جہیز اور نہ لڑکی والوں سے کھانا اور نہ کسی اور غیراسلامی رسومات شامل ہوں ، ایسے ہی نکاح کو نبیﷺ نے اعظم النکاح فرمایا یعنی سب سے بہترین نکاح۔

 

قابلِ ستائش دلہن کے والد شیخ ارشاد احمد اور ان کی اہلیہ بھی ہیں، جنہوں نے ’’لوگ کیا کہیں گے‘‘ کے خوف سے ڈرے بغیر سادگی سے بیٹی کو وداع کیا۔ آج اگرچہ کہ کئی نوجوان ہیں جو سادگی سے شادی کرنا تو چاہتے ہیں لیکن لڑکی والے بغیر جہیز اور کھانے کے راضی نہیں ہوتے، اور لوگوں کے لئے شریعت کو پسِ پشت ڈالتے ہیں۔

 

عماد علی اور ان کے والد واجد علی صاحبان اپنی کئی دینی اور ملّی خدمات کے لئے معروف ہیں۔ مکہّ مسجد کے امام و خطیب نے خطبۂ نکاح پیش کیا۔ اس نکاح میں ابوایمل، علیم خان فلکی، ظفرمسعود، محمد فاروق، سمیع نصرت صاحبان کے علاوہ شہر کے کئی اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔

Oplus_131072

متعلقہ خبریں

Back to top button