مضامین

کمانڈمنٹس آف لیڈرشپ ۔ 3 – لائف اسٹائیل شاندار ، دینی اسٹائیل ناقص ۔ ایسا کیوں؟

تیسرا کمانڈمنٹ ایک موٹی گولی ہے جسے حلق سے اتارنا ذرا مشکل ہے۔ دنیا میں جو آدمی جتنا زیادہ ذہین یعنی clever, genius, smart ہوتاہے اتنا زیادہ وہ اپنی دنیا بنانے پر لگارہتا ہے اور اس کے نتیجے میں شاندار عہدے، کاروبار میں اضافہ، عالیشان گھر، پراپرٹیز، شادیاں، دعوتیں ، شوق، اور دوست حاصل کرتا چلا جاتا ہے۔ لیکن کیا بات ہے کہ بات جب دین کی آتی ہے تو اس کی دینی ترقی کا معیار وہی رہتا ہے جو ایک لیبر، ٹیلر، وظیفہ یاب کلرک یا مولوی کا ہوتا ہے؟َ یعنی بس نمازیں، چند دعائیں، عمرے اور زکٰوۃ و خیرات۔یہ لوگ عہدوں یا کاروبار سے ریٹائر ہوتے ہی سب سے پہلے داڑھی اور ٹوپی میں محلے کی مسجد میں نظرآنے لگتے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ دنیاوی طور پر تو ان کی پہچان سابق کمشنر، سفیر، ڈاکٹر یا انجینئر، یعنی ان کے قابلِ رشک Achievements کے حوالے سے ہوتی ہے۔ لیکن ان کی دینی شناخت محض پنج وقتہ نمازی، حاجی صاحب یا پھر بڑا چندہ دینے والے کی حد تک محدود رہتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ لوگ کوئی خدمتِ خلق کا گروپ قائم کرکے صدر نائب صدر یا سرپرست بن جاتے ہیں۔

 

حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اتنے بڑے بڑے لوگ ہوتے ہوئے آج اسلام اور مسلمانوں کی صورتِ حال کیا ہے۔ دینداری کی موجودہ پراکٹس تو ہمارے شاہوں کے دور سے لے کر آج تک جوں کی توں باقی ہے لیکن قوم کی اخلاقی، سیاسی، معاشی، اور سماجی حالت دلتوں سے زیادہ گِرچکی ہے۔ لوگوں نے اپنی اپنی ذہانت اور قابلیت کے بل بوتے بڑے بڑے گھر تو بنالئے، لیکن قوم کی عمارت اتنی بوسیدہ ہوگئی ہے کہ ہر روز کوئی نہ کوئی حصہ منہدم ہورہا ہے، بلڈوزر چلائے جارہے ہیں،دشمنوں کے ساتھ مل کر خود فرزندانِ قوم ، اِس عمارت پر قبضہ کرکے بیچ رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اِن ترقی کرجانے والے لوگوں کو قوم کی اِس حالت کا خیال کیوں نہیں آتا۔انہوں نے تو اپنے باپ دادا کے دو تین کمروں والے کویلو کے گھروں سے ترقی کرکے عالیشان آرسی سی کے گھروں کی تعمیر کرلی۔ اس کے لئے کیا کیا پاپڑ نہیں بیلے۔پروموشن کے لئے نئے نئے کورس کئے، پارٹ بھی خوب کیا اورر ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کام کرتے رہے، اپنی ترقی اور ایوارڈزکے لئے جدوجہدکی، اعلیٰ عہدیدواروں تک رسائی کی، سفارشیں کروائیں، مقدمے بھی لڑے، اور مستقل اسی سوچ میں جدوجہد کرتے رہے کہ اپنے بیٹیوں اور دامادوں اور ان کی اولادوں کا مستقبل شاندار ہو۔ لیکن انہیں کبھی یہ خیال کیوں نہیں آیا کہ کیا نمازوں ، روزوں، میلاد کی تائید یا مخالفت کے جلسوں ، اور عمرے کرلینے سے امت کے نوجوانوں کا مستقبل سنور جائے گا؟ جس غلامی کے دور میں جہاں ان کی قوم کےحقوق اور پہچان مٹائی جارہی ہے، کیا خود ان کی کل کی نسلیں اس سے زیادہ غلام ابنِ غلام نہیں ہوجائیں گی؟ اپنی قوم کی عمارت کھڑی کرنے کے لئے یہ لوگ وہی ذہانت اور IQ استعمال کیوں نہیں کرتے جو اپنی ذاتی عمارت کی تعمیر کے لئے کرتے ہیں؟ اپنی ترقی کے راستے کسی نے انہیں نہیں بتائے، بلکہ انہوں نے اپنی قابلیت اور ٹیالنٹ سے خود ہی ڈھونڈھے لیکن جب بات امت کو پستی سے نکالنے کے لئے آئی تو اُس وقت تک بالکل اندھے، بہرے اور گونگے بنے رہے جب تک ریٹائرمنٹ کی عمر نہ آئی۔ دنیا کا ہر کام آگے بڑھ کر خود کیا اور اس کا کریڈٹ بھی خود اپنے سر لیا، لیکن امت کو کھڑا کرنے کی بات جب بھی آئی بھونڈے حیلے اور بہانے بناتے رہے۔ان کے پاس اپنے لئے وقت تھا ، دین کے لئے نہیں۔ بے شمار وہ آفیسر رہے جن کو دورانِ ملازمت یہ خوف تھا کہ اگر اسلام یا مسلمانوں کے حق میں غلطی سے بھی کوئی کام ہوجائے توان پر فرقہ پرستی کا الزام آجائے گا۔ یہ لوگ آج بھی ساری ذمہ داریاں علما، مفتیوں، مرشدوں یا دینی جماعتوں پر ڈال دیتے ہیں، اور زیادہ سے زیادہ یا تو یہ کرتے ہیں کہ انہیں چِرمِ قربانی، یا چندے دے کر جان چھڑاتے ہیں یا پھر دانشور بن جاتے ہیں، اور لیڈروں اور علما کو تنقید کا نشانہ بنا کر اپنی ذمہ داریوں سے فرار حاصل کرتے ہیں۔

 

یہاں کمانڈمنٹ ۔3 کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔دو باتیں اچھی طرح یا د رہیں ۔ پہلی بات یہ کہ حشر میں آپ کا حساب انفرادی ہوگا نہ کہ اجتماعی۔ وہاں لیڈروں، علما یا جماعتوں پر الزام لگا کر بری ہونے کا موقع نہیں ہوگا، اور نہ کوئی دوست یا رشتہ دار مدد کو آئے گا۔

 

دوسری بات یہ کہ حشر میں یہی سوال ہوگا کہ جتنی صلاحیتیں آپ نے اپنی دنیا وی پوزیشن کو قائم کرنے کے لئے استعمال کیں، وہی صلاحیتیں دین کو قائم کرنے کے لئے کیوں نہیں کیں، کیوں غریب، مسکین، اور غیرتعلیم یافتہ لوگوں کی طرح صرف نماز روزے اور عمروں پر اٹکے رہے۔ اپنے لائف اسٹائیل کو دوسروں سے بہتر بنانے کی تو پوری پوری کوشش کرتےرہےلیکن اپنے دینی اسٹائیل کو وہی Stereotype بناکر کیوں رکھا؟

 

یہی تیسرا کمانڈمنٹ ہے کہ دین کو قائم کرنے کے لئے اپنی اُسی عقل کو استعمال کرو جو عقل یا IQ دنیا بنانے کے لئے استعمال کرتے رہے۔ کیونکہ آخرت میں پہلی جوابدہی سب سے نمازوں، یا عمروں، یا چندوں کی نہیں ہوگی، نہ داڑھی ٹوپی کی نہ میلادالنبی کی تیائد یا مخالفت کی۔ وہاں کسی کا حساب نہ دیوبندی یا سلفی کے نام پر ہوگا نہ بریلوی یا شیعہ سنّی کے حوالے سے ہوگا۔وہاں تو ہر شخص اسی حیثیت میں پیش ہوگا جس حیثیت میں وہ زندگی گزار کر آیا ہوگا۔ کوئی لیڈر تھا تو کوئی کاروباری، کوئی دینداری سے کماتا تھا تو کوئی ڈگریاں حاصل کرکے۔ جس کو جتنی عقل، ذہانت، Intellect or IQ ملی تھی، اس کے استعمال کا حساب پہلے ہوگا کہ کتنا اپنی ذات پر استعمال کیا اور کتنا دین کو قائم کرنے کے لئے۔

 

نیچے پیش کی گئی آیات اور احادیث کے ایک ایک لفظ کو غور سے پڑھئے، آپ کی سمجھ میں آجائیگاکہ آپ کا آخرت میں حساب صرف چند عبادات سے متعلق ہوگا یا آپ کی عقل سے متعلق:

 

1.يُحاسَبُ الناسُ يومَ القيامةِ على قدرِ عقولِهم یعنی قیامت کے دن لوگوں کا حساب ان کی عقلوں کے بقدر ہوگا) حدیث)

 

2۔ إِنَّمَا أُجَازِي الْعِبَادَ عَلَى قَدْرِ عُقُولِهِمْ یعنی میں بندوں کو ان کی عقلوں کے بقدر جزا دیتا ہوں۔(حدیث)

 

3۔ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۚ “اللہ کسی جان کو اس کی استطاعت سے بڑھ کر مکلف نہیں کرتا۔ (قرآن)

 

4۔۔ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ “کہہ دیجیے: کیا علم رکھنے والے اور نہیں رکھنے والے دونوں برابر ہوسکتے ہیں؟

 

حاصلِ کلام: اسلام انسان کو صرف اس بات پر نہیں پرکھتا کہ اس نے کتنی عبادتیں گن کر ادا کیں؛ بلکہ قرآن کا پورا نظام علم، شعور، نیت، استطاعت، اختیار، عمل اور اس کے نتائج کو سامنے رکھتا ہے۔

 

اگر دنیا میں ہم ایک ڈاکٹر، انجینئر، استاد، جج، تاجر اور عام مزدور سے ان کی قابلیت اور ذمہ داری کے لحاظ سے مختلف معیار قائم کرتے ہیں، تو کیا یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کے علم، شعور، مواقع، اختیار اور استطاعت سے بے خبر ہوکر سب کا ایک ہی پیمانے سے حساب لے گا؟

 

کمانڈمنٹ یہ ہے کہ سب سے بڑی عبادت وہ نہیں جو آپ اکثریت کو دیکھ کر کررہے ہیں، اصل عبادت یہ ہے کہ جس قابلیت کی بنیاد پر آپ نے اپنا دنیاوی لائف اسٹائیل بنایا ہے ، اسی قابلیت کو دینی اسٹائیل کو بلند کرنے کے لئے استعمال کیجئے،

 

ڈاکٹر علیم خان فلکی

صدر سوشیوریفارمس سوسائٹی، حیدرآباد

9642571721

Oplus_131072

متعلقہ خبریں

Back to top button