مضامین

ایران کا اقتصادی محاصرہ اور اس کے اثرات

ایران کا اقتصادی محاصرہ اور اس کے اثرات

عادل فراز

adilfarazlko@gmail.com

۲۸فروری 2026 کو ایران پر امریکی حملے کے بعد حالات مسلسل تبدیل ہورہے ہیں۔ امریکہ ایران کے سپریم لیڈر کو شہید کرکے اقتدار کی تبدیلی اور ’ولایت فقیہ‘ کے نظام کو ختم کرنے کے خواب دیکھ رہا تھا، مگر یہ ’دیوانے کا خواب‘ ثابت ہوا۔ ٹرمپ کے بلند بانگ دعوے مجذوب کی بڑ سے زیادہ نہیں تھے۔ امریکہ جب ایران میں اپنے ہدف تک پہنچنے میں ناکام ہوا تو اس نے اقتصادی محاصرہ کرکے ایران کو جھکانے کی کوشش کی، مگر اس میدان میں بھی اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ سمندر میں جس طمطراق سے امریکی بحری بیڑے نمودار ہوئے تھے،

 

اُنہیں اسی طرح مسلسل پسپائی اور رسوائی کا سامنا ہے۔ ایران سمندر میں بتدریج تیل فروخت کررہا ہے اور امریکی محاصرے کو توڑ کر اپنی بحری طاقت کا اعلان بھی کررہا ہے۔اس جنگ نے جہاں امریکی طاقت کی قلعی کھول دی، وہیں اس کے حلیف ملکوں کو بھی شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ خاص طور پر عرب ملکوں کی معیشت متزلزل ہے اور علاقے میں موجود تجارتی ماڈل متاثر ہورہا ہے۔

 

عربوں کی معیشت تیل برآمد پر منحصر ہے، جسے بحران کا سامنا ہے۔ بندرگاہوں پر جنگ سے پہلے جیسی ہلچل نہیں۔ متحدہ عرب امارات کو اربوں ڈالر کی تجارت کا نقصان جھیلنا پڑرہا ہے۔ ایسے حالات میں ٹرمپ کا اقتصادی محاصرہ تنہا ایران کو متاثر نہیں کرسکتا، بلکہ خلیج کے تمام ملک اس کا شکار ہوں گے۔ عرب ملک ہرگز اس نقصان کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔قطری وزیر اعظم کے تہران دورے کے مختلف اسباب بیان ہوسکتے ہیں، مگر خطے میں تجارتی ماڈل کو پہنچنے والے نقصان پر بھی ضرور گفتگو ہوئی ہوگی۔ قطر سمیت خلیج کے تمام ملکوں کے لئے تجارت ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر تجارت متاثر ہوئی تو معیشت کو زمین پر آنے میں ذرا بھی وقت نہیں لگے گا۔

 

امریکہ اقتصادی محاصرے کے ذریعے ایران کو جھکاناچاہتاہے ۔جو کام جنگ نہیں کرسکی وہ اقتصادی محاصرے سے بھی ممکن نہیں۔کیونکہ ایران گزشتہ ۴۸ سال سے پابندیوں کی زد میں ہے ۔اس کے لئے نئی اور پرانی پابندیوں میں زیادہ فرق نہیں ۔ایرانی قوم نے پابندیوں کے ساتھ جینااور اقتصادی مشکلات سے نکلنے کا ہنر سیکھ لیاہے ۔ٹرمپ کو یہ سمجھناہوگاکہ جس قوم نے مسلسل اقتصادی پابندیوں کے باجود ترقی کی نئی راہیں تلاش کی ہوں ،اس کو جھکاناممکن نہیں۔دراصل امریکی صدر اب تک ایران کی ترقی کے اسباب اور ایرانی قوم کی نفسیات کو نہیں سمجھ سکے ۔انہیں پہلے ایرانی قوم کی تاریخ اور پابندیوں میں ان کی مسلسل پیش رفت پر غورکرناچاہیے ۔اگر اقتصادی بائیکاٹ اور نئی نئی پابندیوں سے ایران کو جھکایاجاسکتاتو یہ بہت پہلے ہوچکاہوتا۔پابندیوں نے ایران کو ترقی کی نئی راہوں کی طرف متوجہ کیا۔

 

اقتصادی بائیکاٹ نے ’خودکفیل ایران‘کی بنیاد رکھی ۔اگر ٹرمپ ایرانی قوم کی نفسیات اور تاریخ سے ذرابھی واقف ہوتے تو یہ جنگ امریکی رسوائی کا سبب نہیں بنتی ۔ٹرمپ نے دعویٰ کیاکہ ہم نے ایران کا سمندری محاصرہ بڑھادیاہے ،جس کے بعد ایران عالمی منڈی میں اپنا تیل فروخت نہیں کرسکے گا۔جب کہ ایران مسلسل سمندر میں تیل فروخت کررہاہے ۔حال ہی میں ایران کے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سکریٹری میجر جنرل محسن رضایی نے لبنان کے المنار چینل کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی سمندری محاصرے کاتمسخر کرتے ہوئے کہاکہ:’ ہم نے جنگ بندی کے دوران اسّی ملین بیرل تیل برآمد کیا۔اگر اقتصادی محاصری اسی طرح جاری رہاتو ہم امریکی اقتصادی مفادات پر مزید کاری ضربیں لگائیں گے ۔‘انہوں نے کہاکہ :’ایران نے جنگ بندی کے دوران سمندری محاصرہ کو توڑتے ہوئے ستّر سے اسّی ملین بیرل تیل فروخت کیا۔سمندر میں تیل کے ذخائر بیچنے کے علاوہ ایران نے تیل بیچنے کے نئے راستے بھی تلاش کرلئے ہیں،جس سے تیل برآمدکرنے کے حجم میں بتدریج اضافہ ہورہاہے ۔اس طرح تیل کی فروخت پابندیوں سے پہلے کی سطح پر واپس آگئی ہے ‘۔اس بیان سے واضح ہوجاتاہے کہ امریکہ ایران کے سمندری محاصرے میں بھی ناکام ہوچکاہے ۔جنگ اب نئے مرحلے میں داخل ہورہی ہے ۔امریکہ اس جنگ کا نقشہ ایران کی مرضی کے مطابق تشکیل دینے پر مجبور ہے ۔شاید اسی بنیاد پر ایرانی صدر پزشکیان نے کہاکہ تھا:’ایران سے بڑا شطرنج کا کھلاڑی کوئی نہیں‘ ،جس کا مظاہرہ بتدریج ہورہاہے ۔

ایران کے خلاف امریکی پابندیاں قطعی بے اثر بھی نہیں ہیں ۔پابندیوں نےمہنگائی کو ہوادی اور عوام کو مشکلات درپیش ہیں ۔اس کے باوجود ایرانی عوام کی استقامت نے دشمن کے اقتصادی محاصرے کو شکست دی ۔البتہ امریکی پابندیوں کا اثر ایران تک محدود نہیں ۔اس کا دائرہ عرب ملکوں کے ساتھ مشرق وسطیٰ تک پھیل رہاہے ۔امریکی پابندیوں نے متحدہ عرب امارات کی اکیس ارب ڈالر کی تجارت کو متاثر کیاہے ۔واشنگٹن نے ایران کے خلاف عائد پابندیوں کو ’اقتصادی تنہائی ‘ کا عنوان دیاتھامگر اس کا دائرہ خلیج تک پھیل گیا۔امریکی وزارت خزانہ نے نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے ایران کے ڈیجیٹل اثاثوں ،تکنیک ،سونے ،ہوابازی اور بحری نقل وحمل کے پانچ شعبوں کو نشانہ بنایا ۔امریکہ نے دنیا کو الٹی میٹم دیاکہ جو بھی ایران کے ساتھ مذکورہ شعبوں میں تعاون کرے گااس کو بھاری قیمت اداکرنی پڑے گی ۔امریکی وزیر خزانہ ا سکاٹ بیسنٹ نے واضح طور پر کہا کہ اس پالیسی کا مقصد ایران کی ’ہرقسم کی معاشیاتی اور حیاتیاتی شہ رگ کو کاٹنا‘ ہے ۔انہوں نے کہاکہ ان پابندیوں کے ذریعہ ایران کے خلاف ’ڈی ڈے ‘ کا آغاز ہورہاہے ۔ایران نے امریکی پابندیوں کو ریاستی اور اقتصادی دہشت گردی سےتعبیر کرتے ہوئے واضح اعلان کیاکہ’ جوبھی ملک ایران کے خلاف امریکہ کی اقتصادی جنگ میں شامل ہوگا تہران اسے اپنا دشمن سمجھے گا۔محسن رضایی نے کہاکہ ایران پہلے ایسے ملکوں سے گفت وشنید کرےگااور انہیں اس تنازع سے دور رہنے کے لئے کہے گا۔لیکن اگر وہ باز نہیں آئے تو ایران ان کے مفادات کو بھی نشانہ بنائے گا۔انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہاکہ اگر ہمسایہ ملک امریکہ کے ساتھ اقتصادی محاصرے میں شامل ہوتے ہیں تو ہم آبنائے ہرمز تیل کی برآمد کو بند کردیں گے ۔‘محسن رضایی نے گویاتمام ہمسایہ ملکوں کو انتباہ دیاہے تاکہ وہ امریکہ کے ساتھ تعاون سے پرہیز کریں ۔آبنائے ہرمز پر ایران کا دعویٰ ہوائی نہیں ہے ۔اس دعوے کو حقیقت بنتے ہوئے دنیانے دیکھاہے ۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو مکتوب روانہ کرکے امریکی پابندیوں کو ریاستی اور معاشی دہشت گردی سے تعبیرکیا۔البتہ اقوام متحدہ کومکتوب روانہ کرناایک اخلاقی اور قانونی قدم ضرور ہے مگر اس کا بظاہر کوئی فائدہ نہیں ۔اقوا م متحدہ زندہ لاش کی مانند ہے جس نے پوری دنیا کو اپنی سڑاند سے متاثر کیاہے۔ایسے اداروں کی انسانیت کو کوئی ضرورت نہیں جو اپنا فرض ادانہیں کرسکتے۔

اب آتے ہیں ایران اور عرب ملکوں کی سیاست کی طرف!ایران نے ہمیشہ اسلامی اخوت اور وحدت کو ترجیح دی ہے ۔آج بھی ایران اسلامی اتحاد کا سب سےبڑا داعی ہے ۔مسلم ملکوں پر ہوئے حملوں میں ایران نے صرف امریکی اور اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنایا۔خاص طورپراُن امریکی فوجی مراکز کو ہدف قراردیاگیاجنہیں ایران کے خلاف استعمال کیاجارہاتھا۔ایران کی جنگ مسلم ملکوں کے خلاف نہیں تھی ۔اگر ایساہوتاتو عرب ملکوں پر اُسی طرح حملے ہوتے جس طرح اسرائیل پر کئے گئے تھے ،مگر ایران نے ایسانہیں کیا۔عرب ملکوں کو بھی چاہیے کہ وہ امریکی غلامی سے باہر نکلیں اور اسلامی اتحاد تشکیل دے کر خطے میں نئی طاقت کا سنگ بنیاد رکھیں ،البتہ یہ بہت مشکل عمل ہے ۔

مسلم حکمرانوں کو یہ باورکرناہوگاکہ اگر وہ امریکہ کے ساتھ اقتصادی محاصرے میں شامل ہوئے تو اس کا خمیازہ ان کی معیشت کو بھگتناپڑے گا۔انہیں سمجھناہوگاکہ امریکہ کے لئے اپنے مفاد سے اوپر کچھ نہیں ۔ایران کے ساتھ جنگ میں اب تک عرب ملکوں کو جتنانقصان پہنچاہے کیاامریکہ اس کی تلافی کرےگا؟ہرگز نہیں!کیونکہ امریکہ نے یہ اڈے اُنہیں ملکوں کی حفاظت کے دعوئوں کے ساتھ قائم کئے تھے ،جنہیں وہ اپنے دفاع کے لئے بھی استعمال نہیں کرسکا۔اگر امریکہ کے ساتھ ایران کی پنجہ آزمائی اسی طرح جاری رہی تو اس کا خمیازہ امریکہ کے حلیف ملکوں کو بھی بھگتناپڑے گا،جس کا اشارہ ایرانی قیادت دے چکی ہے ۔عرب ملکوں کی معیشت تیل کی برآمدگی پر زیادہ منصر ہے ۔اگر تیل کی برآمد متاثر ہوئی تو عرب میں نیااقتصادی بحران جنم لے گا ۔لہذا اب بھی وقت ہے عرب حکمران ہوش کے ناخن لیں ۔امریکی حمایت انہیں ہرگز تحفظ فراہم نہیں کرسکتی۔البتہ عرب عوام کو بھی بیداری کا مظاہرہ کرناہوگا۔اس کے آثار بحرین سمیت دیگر ملکوں میں نظر بھی آرہے ہیں ۔اگر عوام بیدار ہوئے تونظام بدلنے میں دیر نہیں لگے گی۔حکمرانوں کواقتدار کی تبدیلی سے زیادہ کسی بات کا خوف نہیں ہوتا!

 

…… عادل فراز

7355488037

متعلقہ خبریں

Back to top button