تلنگانہ

کونڈا سریکھا کو بی آر ایس میں شامل کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا: بی آر ایس

حیدرآباد: تلنگانہ کے سابق وزیر جگدیش ریڈی نے کہا ہے کہ پارٹی تبدیل کرنے والے بعض ارکان اسمبلی دوبارہ بی آر ایس میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں تاہم ان میں سے ایک یا دو ارکان کو چھوڑ کر کسی کو بھی پارٹی میں واپس نہیں لیا جائے گا۔

 

انہوں نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کے دوران سابق وزیر کونڈا سریکھا کے معاملے پر بھی ردعمل ظاہر کیا۔جگدیش ریڈی نے کہا کہ پارٹی تبدیل کرنے والے ارکان اسمبلی کو بی آر ایس میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ کئی قائدین کو پہلے ہی واضح کردیا گیا ہے۔

 

کونڈا سریکھا کو بھی پارٹی میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ اگر کانگریس کے رکن اسمبلی کومٹ ریڈی راج گوپال ریڈی بی آر ایس میں شمولیت کے لیے درخواست دیتے ہیں تب بھی انہیں پارٹی میں شامل نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ انتخابات سے قبل جب کومٹ ریڈی برادران نے

 

بی آر ایس میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی تھی تب بھی پارٹی نے ان کی پیشکش مسترد کردی تھی۔ اگر راج گوپال ریڈی کو وزارت کا عہدہ دیا جاتا ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ وہ پیسوں کے عوض فروخت ہوگئے ہیں۔

 

جگدیش ریڈی نے مزید کہا کہ راج گوپال ریڈی کے خلاف الزامات کونڈا سریکھا نے نہیں بلکہ ان کی بیٹی نے عائد کیے ہیں۔ ماضی میں راج گوپال ریڈی سمیت کئی رہنماؤں نے

 

براہِ راست بی آر ایس پر الزامات عائد کیے تھے اور کانگریس کی اعلیٰ قیادت اور اے آئی سی سی انچارجیس کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button