کرانہ دکان سے کالے دھندے کی سلطنت تک،منشیات کی دنیاکی لیڈی ڈان حیدرآباد کی نیتو بائی

حیدرآباد: کبھی گڑمبا کی فروخت سے شروع ہونے والا غیر قانونی کاروبار بعد میں گانجے کی تجارت تک پہنچ گیا۔ معمولی پیمانے پر شروع کیا گیا یہ غیر قانونی دھندا آہستہ آہستہ ایک بڑے نیٹ ورک میں تبدیل ہوگیا اور کئی علاقوں تک پھیل گیا۔
گانجہ فروخت کرنے والوں اور اس کے استعمال کرنے والوں کے لیے نیتوبائی ایک اہم مرکز بن گئی۔ دھیرے دھیرے ترقی کرتے ہوئے دھول پیٹ میں کرانہ کی دکان کی آڑ میں گانجہ فروخت کرنے والی نیتوبائی کروڑوں روپے کی غیر قانونی کاروباری سلطنت کی ڈان بن گئی۔
نیتوبائی نے آئی ٹی ملازمین، طلبہ اور ڈیلیوری عملے کو اپنا ہدف بناتے ہوئے اپنا نیٹ ورک وسیع کیا۔ اس کے خلاف مسلسل مقدمات درج ہوئے کئی مرتبہ اسے گرفتار کیا گیا اور پی ڈی ایکٹ کے تحت بھی حراست میں لیا گیا لیکن اس کے باوجود اس کا غیر قانونی کاروبار جاری رہا۔
گانجے کی فروخت سے شروع ہونے والا یہ کاروبار بعد میں حوالہ کے کاروبار تک پہنچ گیا۔ اسی سلسلے میں اب انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے حکام بھی میدان میں اتر گئے ہیں۔اگرچہ نیتوبائی کا آبائی علاقہ حیدرآباد شہر کا دھول پیٹ ہے
لیکن آئی ٹی ملازمین، طلبہ اور ڈیلیوری بوائز کو نشانہ بنانے کے لیے اس نے نانک رام گوڑہ کے لودھا بستی میں ایک چھوٹی سی کرانہ کی دکان قائم کی۔ وہ انگوری بائی (ارونا بائی) کے ساتھ مل کر اڈیشہ اور آندھرا پردیش کی سرحدی علاقوں سے گانجہ منگوایا کرتی تھی۔
ایک کلو گانجہ 8 ہزار روپے میں خرید کر اسے 5 گرام کے چھوٹے پیکٹوں میں تقسیم کیا جاتا اور ہر پیکٹ 500 روپے میں فروخت کیا جاتا تھا۔ اس طرح ایک کلو گانجے پر تقریباً 50 ہزار روپے تک خالص منافع حاصل کیا جاتا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ نیتوبائی کے خاندان کے افراد بھی اس غیر قانونی کاروبار میں شامل تھے۔
ایکسائز حکام کی جانب سے کی گئی کارروائیوں کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ نیتوبائی کے نیٹ ورک میں روزانہ اوسطاً 5 لاکھ سے 10 لاکھ روپے تک کی فروخت ہوتی تھی۔ نیتوبائی کے خلاف این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت 18 سے زائد مقدمات درج ہیں۔
ماضی میں گچی باؤلی پولیس نے اس کے خلاف پی ڈی ایکٹ بھی نافذ کیا تھا۔ 2024 میں پولیس نے اس کے قبضے سے 22.6 کلو گانجہ اور 22.10 لاکھ روپے نقد رقم ضبط کی تھی۔نیتوبائی کی مبینہ مجرمانہ آمدنی سے متعلق انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے فی الحال انسدادِ منی لانڈرنگ ایکٹ (پی ایم ایل اے) کے تحت منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کیا ہے اور نانک رام گوڑہ میں واقع اس کے گھر پر تلاشی لی ہے۔
ایکسائز حکام کے مطابق نیتوبائی نے گچی باؤلی اور فینانشل ڈسٹرکٹ کے علاقوں میں ہزاروں آئی ٹی ملازمین اور زیادہ آمدنی والے طبقے کو نشانہ بناتے ہوئے اپنا کاروبار وسیع کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ علاقے کی نائٹ لائف نے بھی اس غیر قانونی کاروبار کے فروغ میں مدد کی۔
اب تازہ طورپر اس کے خلاف انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کی جانب سے منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات کی جارہی ہے۔



