اسپشل اسٹوری

جگتیال میں آج بیلٹ باکس کھلیں گے، دو سال کے لیے مسلمانوں کی قیادت کا فیصلہ ہوگا

 

نہ اسمبلی کا انتخاب، نہ پارلیمنٹ کی جنگ… 25 مساجد میں آج ووٹ ڈالیں گے ہزاروں مسلمان، چھ امیدواروں کی قسمت بیلٹ باکس میں بند ہوگی

 

تلنگانہ کے جگتیال شہر میں آج کا دن سیاسی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ شہر کے مسلم علاقوں کی سڑکوں پر عام انتخابات جیسا ماحول ہے، شہر کی ہر مسجد میں ووٹرس اپنی باری کا انتظار کرتے نظر آئیں گے، پولنگ اسٹیشنوں پر انتخابی عملہ موجود ہوگا، بیلٹ باکس رکھے جائیں گے اور امیدواروں کی نظریں ووٹرس کے فیصلے پر مرکوز ہوں گی۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کسی ایم پی، ایم ایل اے، میئر یا کارپوریٹر کا انتخاب نہیں ہے۔

 

یہ انتخاب ہے جگتیال شہر کے مسلمانوں کی اجتماعی قیادت کے لیے صدرِ امارات ملت اسلامیہ سنٹرل کمیٹی کے انتخاب کا۔

 

جگتیال کے مسلمانوں میں ہر دو سال بعد ہونے والا یہ انتخاب اب شہر کی ایک منفرد جمہوری روایت بن چکا ہے۔ یہاں قیادت کا فیصلہ کسی بند کمرے میں نہیں بلکہ ووٹ کے ذریعے کیا جاتا ہے اور 18 سال کی عمر مکمل کرنے والا ہر مسلمان نوجوان اپنے ووٹ کے ذریعے اپنی پسند کے امیدوار کا انتخاب کرسکتا ہے۔

 

آج جمعہ کے روز شہر کی 25 مساجد میں بیک وقت ووٹنگ ہوگی۔ جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے ساتھ ہی کئی مساجد میں بیلٹ باکس کھل جائیں گے اور ووٹر اپنے پسندیدہ امیدوار کے انتخابی نشان پر مہر ثبت کرکے اپنا ووٹ ڈالیں گے۔

 

اس پورے انتخابی عمل کو باقاعدہ طریقہ کار کے تحت انجام دیا جاتا ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے پہلے انتخابی نوٹیفکیشن جاری کیا جاتا ہے۔ امیدواروں سے پرچہ نامزدگی وصول کئے جاتے ہیں، دستبرداری کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد امیدواروں کو انتخابی نشانات الاٹ کئے جاتے ہیں۔ اس کے بعد امیدوار انتخابی مہم چلاتے ہیں اور ووٹرس سے اپنے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کرتے ہیں۔

 

اس مرتبہ انتخابی میدان میں چھ امیدوار آمنے سامنے ہیں۔ موجودہ صدر ایم اے باری کے علاوہ محمد عبدالرحمن کمال، محمد آصف خان، محمد جاوید، محمد محمود علی افسر اور محمد صلاح الدین منا اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔

 

گزشتہ ایک ہفتے سے شہر میں انتخابی سرگرمیاں اپنے عروج پر رہیں۔ امیدواروں نے اپنے اپنے انتخابی منشور جاری کئے، ووٹرس سے ملاقاتیں کیں اور رات دن انتخابی مہم چلا کر اپنی ترجیحات اور پروگرام عوام کے سامنے رکھے۔ کہیں امیدواروں کی ملاقاتیں جاری رہیں تو کہیں ان کے حامی ووٹرس کو اپنے امیدوار کی حمایت پر آمادہ کرتے نظر آئے۔

 

اب مہم ختم، فیصلہ ووٹرس کے ہاتھ میں ہے۔

آج صبح سے ہی 25 مساجد میں انتخابی عملہ بیلٹ پیپر، بیلٹ باکس اور دیگر ضروری سامان کے ساتھ موجود رہے گا۔ ہر مسجد کو ایک پولنگ مرکز کی شکل دی جائے گی، جہاں ووٹرس اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کریں گے۔

 

ووٹنگ کا عمل عصر کی نماز سے قبل مکمل کرلیا جائے گا۔ اس کے بعد تمام مساجد کے بیلٹ باکس پولیس کی نگرانی میں الیکشن کمیشن کے عملہ کے ذریعے جگتیال کے کمیونٹی ہال منتقل کئے جائیں گے۔

 

اصل سنسنی اس وقت پیدا ہوگی جب کمیونٹی ہال میں ایک ایک کرکے بیلٹ باکس کھولے جائیں گے اور ووٹوں کی گنتی شروع ہوگی۔ ہر ووٹ کے ساتھ امیدواروں اور ان کے حامیوں کی دھڑکنیں بھی تیز ہوں گی۔ گنتی مکمل ہونے کے بعد سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے امیدوار کے نام کا اعلان کیا جائے گا اور یوں اگلے دو برس کے لیے جگتیال کے مسلمانوں کی قیادت کا فیصلہ ہوجائے گا۔

 

یہ انتخاب اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ یہاں شہر کی مسلم برادری اپنی قیادت کا انتخاب براہِ راست ووٹ کے ذریعے کرتی ہے۔ انتخابی منشور، انتخابی مہم، امیدوار، انتخابی نشان، بیلٹ پیپر، پولنگ مراکز، بیلٹ باکس اور ووٹوں کی گنتی—یہ سب مراحل اس انتخاب کو عام جمہوری انتخابات سے کسی حد تک مماثل بناتے ہیں۔

 

اب نظریں صرف ایک سوال پر ہیں:

25 مساجد کے بیلٹ باکس سے کس کے حق میں سب سے زیادہ ووٹ نکلیں گے؟

کیا موجودہ صدر ایم اے باری دوبارہ اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے یا پانچ چیلنجرز میں سے کوئی نیا چہرہ جگتیال کے مسلمانوں کی قیادت سنبھالے گا؟اس کا جواب آج شام کمیونٹی ہال میں بیلٹ باکس کھلنے کے بعد ملے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button