حوثیوں کا سعودی عرب پر بڑا حملہ، 73 افراد زخمی؛ توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا
ریاض: یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے شہری اور اقتصادی مقامات پر کئے گئے سلسلہ وار میزائل اور ڈرون حملوں میں کم از کم 73 افراد زخمی ہوگئے۔ سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق ملک کے جنوبی صوبے میں واقع توانائی کے متعدد مراکز اور تنصیبات کو حوثیوں نے نشانہ بنایا۔
یہ حملے ایسے وقت میں کئے گئے جب یمن میں لڑائی شدت اختیار کرگئی ہے۔ سعودی عرب کی حمایت یافتہ اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت نے ایران نواز حوثیوں کے قبضے سے علاقوں کو واپس لینے کے لئے جوابی کارروائی شروع کر رکھی ہے۔ دوسری جانب حوثیوں نے ریاض پر حملوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی فضائی حملوں میں ایک جیل کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس میں 11 افراد ہلاک ہوئے۔
حوثیوں نے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ، کنگ خالد ایئربیس اور سعودی سرکاری تیل کمپنی آرامکو کی ابہا اور جیزان میں واقع تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ جیزان سعودی عرب اور یمن کی مشترکہ سرحد کے قریب واقع ہے۔
سعودی عرب نے تازہ حملوں کا سخت جواب دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ سعودی حکام اور سرکاری میڈیا کے مطابق حملوں کے نتیجے میں متعدد مقامات پر آگ لگ گئی اور کچھ کارروائیاں عارضی طور پر روکنا پڑیں۔ سوشل میڈیا پر جاری ویڈیوز میں بھی حوثی ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات سے دھواں اٹھتا دکھائی دیا۔
یمن میں جاری خانہ جنگی کے دوران چار سالہ جنگ بندی جولائی میں ختم ہونے کے بعد حوثیوں کا یہ سعودی عرب پر سب سے بڑا حملہ قرار دیا جارہا ہے۔
سعودی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ سعودی عرب اپنی خودمختاری کے دفاع کے لئے ’’تمام ضروری اقدامات‘‘ کرے گا۔ بیان میں حوثیوں سے سعودی عرب پر حملے اور بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا۔
سعودی قیادت میں قائم اتحاد، جو 2015 سے یمنی حکومت کی حمایت میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں کررہا ہے، نے بھی تازہ حملوں کا جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔
اتحاد کی مشترکہ افواج کی کمان کے مطابق حوثیوں کے ’’بے مقصد دہشت گردانہ حملوں‘‘ میں، جن میں تازہ حملے شہری اور اقتصادی مقامات پر کئے گئے، 73 شہری زخمی ہوئے۔
کمان نے کہا کہ خطرے کے ذرائع کے خلاف کارروائی اور اس کے خطرے کو ختم کرنے کے لئے تمام ضروری اقدامات کئے جائیں گے۔
سعودی پریس ایجنسی کی جانب سے وزارتِ توانائی کے ایک عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا کہ آج صبح مملکت کے جنوبی علاقے میں توانائی کے شعبے کی متعدد تنصیبات اور مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
عہدیدار کے مطابق حملوں کے نتیجے میں کئی مقامات پر آگ بھڑک اٹھی، جس کے باعث کچھ کارروائیاں عارضی طور پر روکنی پڑیں، جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔
حوثی باغی جولائی میں سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کرنے کے بعد سے سعودی اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کے حملوں میں بحیرہ احمر میں سعودی عرب سے متعلق بحری جہاز بھی شامل ہیں۔
یمن میں سعودی قیادت والے اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے منگل کو کہا کہ دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ اور اوپیک کے عملاً قائد سعودی عرب کے شہری اور اقتصادی مقامات پر حوثیوں کے حملے انتہائی خطرناک ہیں۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ اتحاد اس ’’دہشت گرد ملیشیا‘‘ کو روکنے اور اس کے جارحانہ طرزِ عمل کا سختی سے مقابلہ کرنے کے لئے تمام ضروری عملی اقدامات کرے گا۔




