جنرل نیوز

 تلنگانہ انٹلیکچول فورم کی جانب سے لندن کی معروف بیرسٹر ڈاکٹر مریم کامل کی تہنیت

قانون کے علم کو انسانی حقوق کے تحفظ کا وسیلہ بنایا جائے : پروفیسر وی بالاکستا ریڈی

 تلنگانہ انٹلیکچول فورم کی جانب سے لندن کی معروف بیرسٹر ڈاکٹر مریم کامل کی تہنیت

حیدرآباد(راست)قانون محض کتابوں اور عدالتوں تک محدود علم نہیں بلکہ انسانی حقوق کے تحفظ، معاشرتی انصاف کے قیام اور کمزور طبقات کو ان کے حقوق سے آگاہ کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ قانون کے طلبہ کو چاہیے کہ وہ اپنی علمی صلاحیتوں کو سماج کے پسماندہ اور معاشی طور پر کمزور طبقات کی رہنمائی اور ان کے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے استعمال کریں۔ ان خیالات کا اظہارپروفیسر وی بالاکستا ریڈی (چیئرمین تلنگانہ اسٹیٹ کونسل فار ہائر ایجوکیشن)نے کیا۔تلنگانہ انٹلیکچول فورم (TIF) کے زیرِ اہتمام تلنگانہ اسٹیٹ کونسل فار ہائر ایجوکیشن، مانصاحب ٹینک میں لندن میں پریکٹس کرنے والی ممتاز بیرسٹر ڈاکٹر مریم کامل کی تہنیتی تقریب منعقد ہوئی۔

 

اس موقع پر انہیں قانون اور بالخصوص میڈیا و انفارمیشن لا کے شعبہ میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں شال، گلپوشی، مومنٹو اور توصیفی سند پیش کی گئی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر وی بالاکستا ریڈی نے قانون کے طلبہ پر زور دیا کہ وہ انسانی حقوق، ان کے صحیح استعمال اور تحفظ سے متعلق گہری واقفیت حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں ایسے افراد اور خاندانوں کی بڑی تعداد موجود ہے جو اپنے بنیادی قانونی حقوق سے ناواقف ہیں۔ ایسے میں قانون کے طلبہ اور نوجوان قانونی ماہرین کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام میں قانونی شعور بیدار کریں اور ضرورت مندوں کی رہنمائی کریں۔انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی پاسداری کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے

 

اور قانون کی تعلیم کا حقیقی مقصد اس وقت پورا ہوتا ہے جب اس کے ذریعے انصاف، مساوات اور انسانی وقار کا تحفظ ممکن ہو۔اس موقع پر ڈاکٹر مریم کامل کی علمی و پیشہ ورانہ خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا گیا کہ انہوں نے عثمانیہ یونیورسٹی سے ایل ایل بی امتیاز کے ساتھ مکمل کیا۔ بعد ازاں انہوں نے ایک سال تک چیف جسٹس آف انڈیا کے جوڈیشل اسسٹنٹ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اعلیٰ قانونی تعلیم کے لیے انہوں نے یونیورسٹی آف آکسفورڈ سے BCL، MPhil اور PhD in Law کی ڈگریاں حاصل کیں۔ڈاکٹر مریم کامل اس وقت میٹرکس چیمبرس، لندن سے وابستہ بیرسٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہیں

 

اور بالخصوص میڈیا اور انفارمیشن لا، ہتکِ عزت، پرائیویسی، ڈیٹا پروٹیکشن، خفیہ معلومات اور ہراسانی سے متعلق مقدمات میں قانونی مشاورت اور پیروی کرتی ہیں۔ ڈاکٹر مریم کامل کا شمار ان قانونی ماہرین میں ہوتا ہے جنہوں نے ہندوستان اور برطانیہ، دونوں کے قانونی نظام کا قریب سے مطالعہ اور عملی تجربہ حاصل کیا ہے۔ وہ مختلف اہم میڈیا مقدمات میں بھی قانونی خدمات انجام دے چکی ہیں۔ ان کی علمی و قانونی صلاحیتوں کے اعتراف میں انہیں مختلف اعزازات اور اسکالرشپس سے بھی نوازا جا چکا ہے۔تقریب کا ایک اہم پہلو قانون کے مختلف کالجوں سے آئے ہوئے طلبہ کے ساتھ ڈاکٹر مریم کامل کاسوال و جواب کا خصوصی سیشن تھا۔

 

طلبہ نے لندن کے قانونی نظام، وہاں عدالتوں کے طریقہ کار، قانونی پیشہ کے عملی تقاضوں اور ہندوستان و برطانیہ کے قانونی نظام میں پائے جانے والے فرق سے متعلق سوالات کیے۔

 

ڈاکٹر مریم کامل نے طلبہ کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے اپنے عملی تجربات سے انہیں واقف کرایا اور قانونی شعبہ میں تحقیق، مطالعہ اور پیشہ ورانہ دیانت داری کی اہمیت پر زور دیا۔اس موقع پر ڈاکٹر راج نارائن مدیراج(صدر تلنگانہ انٹلیکچول فورم)، ڈاکٹر محمد اختر علی(سکریٹری)، پروفیسر دھرم پال، ایڈوکیٹس وصی الدین اور ڈاکٹر ساجد علی خان، کوآرڈینیٹر جی وینوگوپال کے علاوہ وکلا، ماہرین تعلیم اور مختلف قانون کالجوں کے طلبہ موجود تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button