انٹر نیشنل

کیا آرٹیفیشل انٹلیجنس انسانوں کو بلیک میل کر سکتا ہے؟ اوپن اے آئی کے چیف سائنسدان کی چونکا دینے والی وارننگ

نئی دہلی: عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) ہماری زندگیوں کو آسان بنا دے گی اس کے تخلیق کار اب ایسی حقیقتیں سامنے لا رہے ہیں جو تشویش میں مبتلا کرنے والی ہیں۔

 

مصنوعی ذہانت کے مستقبل کے بارے میں اوپن اے آئی کے چیف سائنسدان جاکوب پچوکی کی سنسنی خیز وارننگ نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل مچا دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اے آئی سسٹمز صرف انسانوں کی ملازمتیں ہی نہیں چھینیں گے بلکہ انسانوں کو دھوکا دینے، خوف زدہ کرنے اور حتیٰ کہ بلیک میل کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

 

6 ستمبر کو ’’این ایلین مائنڈ‘‘ کے عنوان سے پچوکی کی جانب سے شائع کی گئی ایک بلاگ پوسٹ اس وقت خاصی زیر بحث ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ٹیکنالوجی اسی رفتار سے ترقی کرتی رہی تو دنیا ابھی اس کے ممکنہ نتائج سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار نہیں ہے۔

 

ان کے مطابق موجودہ اے آئی اسسٹنٹس صرف شروعات ہیں اور آنے والے دنوں میں یہ انسانوں سے کہیں زیادہ خودمختاری حاصل کر سکتے ہیں۔اوپن اے آئی کی جانب سے حال ہی میں متعارف کرائے گئے ’’جی پی ٹی-6 آسٹرا‘‘ جیسے انتہائی طاقتور ماڈلز نے ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔

 

تاہم محققین کا کہنا ہے کہ اے آئی جتنی زیادہ ترقی کرتا جائے گا اس کے سوچنے اور فیصلے کرنے کے عمل کی نگرانی کرنا اتنا ہی مشکل ہوتا جائے گا۔ پچوکی نے خدشہ ظاہر کیا کہ مخصوص مقاصد کے تحت تربیت یافتہ اے آئی ایجنٹس مستقبل میں اپنے مفادات کے حصول کے لیے انسانوں کے خلاف کارروائیاں بھی کر سکتے ہیں۔

 

پچوکی کے مطابق مستقبل کے اے آئی سسٹمز اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے انسانوں کے ساتھ سودے بازی کریں گے، چالیں چلیں گے اور حتیٰ کہ بلیک میل کرنے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ اگرچہ یہ بات کسی سائنس فکشن فلم کی کہانی جیسی محسوس ہوتی ہے

 

لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ مستقبل میں ایک خوفناک حقیقت بن سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ انسانی کنٹرول سے باہر نکل کر آزادانہ طور پر سوچنے والی اس طاقت کو قابو میں رکھنا پہلے ہی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔پچوکی نے کہا کہ اے آئی کے ممکنہ تباہ کن اثرات سے انسانیت کو محفوظ رکھنے کے لیے صرف ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کافی نہیں بلکہ مضبوط حفاظتی معیارات بھی ضروری ہیں۔

 

سائنسدان کے مطابق اگر اے آئی کی ترقی کے لیے سخت قوانین اور مؤثر نگرانی کا نظام موجود نہ ہو تو یہ ٹیکنالوجی خود انسانیت کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ ماہرین کو بھی تشویش ہے کہ

 

ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں کے ہاتھوں میں موجود یہ ’’ایلین مائنڈ‘‘ مستقبل میں کس طرح کے غیر متوقع اور سنگین نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button