بچپن کی یادیں زندگی کا وہ خزانہ ہیں جو وقت گزرنے کے بعد اور بھی قیمتی ہوجاتا ہے: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری

بچپن کی یادیں زندگی کا وہ خزانہ ہیں جو وقت گزرنے کے بعد اور بھی قیمتی ہوجاتا ہے: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری
حیدرآباد، 8 ستمبر (پریس ریلیز):
ہندوستان کی سرزمین صدیوں سے تہذیبوں، ثقافتوں، زبانوں، روایتوں اور انسانی رشتوں کی رنگا رنگی کا حسین گہوارہ رہی ہے۔ یہاں کے دریا، پہاڑ، میدان، کھیت، باغات اور بستیاں صرف قدرتی مناظر ہی نہیں بلکہ نسلوں کی یادوں، تہذیبی روایات اور معاشرتی زندگی کے خاموش امین بھی ہیں۔ گنگا، جمنا، گوداوری، کرشنا، کاویری، نرمدا اور تاپتی سمیت ہندوستان کے مختلف دریا صدیوں سے انسانی زندگی، زراعت، تہذیب اور معاشرت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے آئے ہیں۔
اسی تہذیبی پس منظر میں بچپن زندگی کا وہ سنہرا باب ہے جس کے حروف وقت گزرنے کے ساتھ اگرچہ دھندلا جاتے ہیں، مگر دل کے صفحات سے کبھی محو نہیں ہوتے۔ انسان عمر کی شاہراہ پر جتنا آگے بڑھتا جاتا ہے، ماضی کی پگڈنڈیاں اتنی ہی واضح ہوتی جاتی ہیں۔ بچپن کی گلیاں، مٹی کی خوشبو، درختوں کی چھاؤں، کھیتوں کی ہریالی، دوستوں کی بے تکلف ہنسی، بزرگوں کی شفقت اور والدین کی محبت بھری آوازیں آج بھی یادوں کے دریچوں سے جھانکتی محسوس ہوتی ہیں۔
خطیب و امام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز، نامپلی حیدرآباد، مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے "بیتے لمحے بچپن کے” کے زیرِ عنوان اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انسانی زندگی صرف دنوں، مہینوں اور برسوں کا نام نہیں بلکہ یادوں، تجربات، جذبات اور تعلقات سے تشکیل پانے والی ایک ایسی داستان ہے، جس کا سب سے حسین، معصوم اور بے غرض باب بچپن ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستانی معاشرت میں دریاؤں اور پانی کے ذخائر کو ہمیشہ زندگی اور تہذیب کے ساتھ جوڑ کر دیکھا گیا ہے۔ دریا کے کنارے آباد ہونے والی بستیاں وقت کے ساتھ تہذیبی مراکز میں تبدیل ہوتی رہیں، کھیتوں نے لوگوں کو رزق فراہم کیا، باغات نے فطرت سے محبت سکھائی اور ان ہی ماحول میں نسلوں نے اپنے بچپن کے حسین لمحات گزارے۔
مولانا صابر پاشاہ قادری نے کہا کہ دریائے چناب بھی برصغیر کی اسی تہذیبی اور معاشرتی روایت کا ایک خوب صورت حوالہ ہے۔ سرزمینِ جھنگ کے لیے یہ محض پانی کا ایک بہتا ہوا دھارا نہیں بلکہ وہاں کی تہذیب، ثقافت، محبت، روایات اور یادوں کا ایک زندہ استعارہ ہے۔ اس کا ٹھنڈا، میٹھا، صاف اور شفاف پانی صدیوں سے اس خطے کی زندگی کو سیراب کرتا آیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دریائے چناب کی گہرائیوں سے وہاں کے لوگوں نے غواصی کے ساتھ عاجزی اور دوراندیشی سیکھی، اس کے وسیع دامن سے وسیع القلبی، فراخ دلی، فیاضی اور مہمان نوازی کے اوصاف پائے، جبکہ اس کی موجوں کے تلاطم نے ان کے اندر جوش، جذبہ، مہم جوئی اور شجاعت پیدا کی۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے مختلف علاقوں میں بچپن کی یادوں کا رنگ اگرچہ جدا جدا ہے، مگر ان میں سادگی، اپنائیت اور فطرت سے قربت ایک مشترک قدر رہی ہے۔ کہیں گاؤں کی پگڈنڈیوں پر دوڑتے بچے، کہیں کھیتوں کی منڈیر پر بیٹھے دوست، کہیں درختوں کی چھاؤں میں کھیلتے ننھے وجود، کہیں ندی کے کنارے گزرتی شامیں اور کہیں بزرگوں کی کہانیاں—یہ سب ہندوستانی معاشرت کے اس حسین ماضی کی تصویریں ہیں جس میں زندگی کم وسائل کے باوجود زیادہ خوش گوار محسوس ہوتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ وہ زمانہ بھی کیا زمانہ تھا جب خوشیاں خریدی نہیں جاتی تھیں بلکہ خود پیدا کی جاتی تھیں۔ کھیل کے لیے کھلے میدان کافی تھے، تفریح کے لیے دوست کافی تھے اور خوش ہونے کے لیے کسی بڑی چیز کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ مٹی کا گھروندہ محل بن جاتا، کاغذ کی کشتی جہاز کا روپ دھار لیتی، درخت کی شاخ جھولا بن جاتی اور دوستوں کی محفل پوری دنیا محسوس ہوتی۔
مولانا نے کہا کہ آج جدید ٹیکنالوجی نے زندگی کو سہل ضرور بنایا ہے، مگر اس کے ساتھ بچوں کی زندگی سے بہت سی سادہ خوشیاں بھی دور ہوتی جارہی ہیں۔ موبائل فون، سوشل میڈیا اور اسکرین کی مصروفیات نے کھیل کے میدان، محلے کی گلیاں، درختوں کی چھاؤں اور باہمی ملاقاتوں کی جگہ بڑی حد تک لے لی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئی نسل کو جدید تعلیم اور ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنا ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ اسے اپنی مٹی، اپنی زبان، اپنی تہذیب، اپنے بزرگوں، اپنی روایات اور اپنی فطرت سے جوڑنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ بچپن کی یادیں انسان کو اپنی جڑوں سے وابستہ رکھتی ہیں۔ جو شخص اپنے ماضی کو یاد رکھتا ہے، وہ اپنی شناخت کو محفوظ رکھتا ہے، اور جو قوم اپنی تہذیبی جڑوں سے وابستہ رہتی ہے، اس کی شناخت آنے والی نسلوں تک منتقل ہوتی رہتی ہے۔
مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے کہا کہ دریاؤں کا پانی اپنی منزل کی طرف رواں رہتا ہے، موسم بدلتے ہیں، بستیاں بدلتی ہیں، نسلیں بدل جاتی ہیں، مگر یادوں کے دریچے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔ بچپن کے وہ لمحے دوبارہ لوٹ کر نہیں آتے، لیکن ان کی خوشبو عمر بھر انسان کے دل میں بسی رہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی تہذیبی تاریخ میں دریا، مٹی، کھیت، گاؤں، بستیاں اور انسانی رشتے ہمیشہ ایک دوسرے سے جڑے رہے ہیں۔ اسی رشتے میں بچپن کی وہ دنیا بھی آباد ہے جہاں زندگی سادہ تھی، مگر خوشیاں بے شمار تھیں؛ وسائل محدود تھے، مگر محبت وسیع تھی؛ اور وقت کم نہیں بلکہ بہت تھا۔
انہوں نے اپنے تاثرات کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ وقت کی ندی آگے بڑھتی رہتی ہے، مگر یادوں کا دریا کبھی خشک نہیں ہوتا۔ بیتے لمحے لوٹ کر نہیں آتے، مگر ان کی روشنی انسان کے حال کو منور اور ماضی کو زندہ رکھتی ہے۔ یہی بچپن ہے، یہی ماضی کی دولت ہے اور یہی زندگی کی وہ متاع ہے جس کی قدر وقت گزرنے کے بعد اور بھی بڑھ جاتی ہے۔



