اسپشل اسٹوری

22 سال پرانے جنین سے نئی زندگی ، 54 سال کی عمر میں ماں بن گئی خاتون

یونان میں ایک 54 سالہ خاتون نے 22 سال قبل منجمد کیے گئے جنین (Frozen Embryo) کی مدد سے ایک بچی کو جنم دیا ہے۔ طبی دنیا میں اسے طویل عرصے تک محفوظ رکھے گئے جنین سے کامیاب حمل اور پیدائش کا ایک قابلِ ذکر واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔

 

تفصیلات کے مطابق خاتون کے 21 سالہ بیٹے کی گزشتہ اکتوبر میں سڑک حادثے میں موت ہوگئی تھی۔ بیٹے کی موت کے صدمہ کے بعد اس جوڑے نے ایک اور بچے کی خواہش ظاہر کی اور 22 سال قبل منجمد کئے گئے جنین سے حمل کی کوشش شروع کی۔

 

یونان کے قوانین کے مطابق 54 سال کی عمر میں آئی وی ایف کے ذریعہ ماں بننے کی اجازت نہیں ہے۔ تاہم مقررہ عمر کی حد پوری ہونے میں صرف دو ماہ باقی رہنے کے باعث 54 سالہ کرسٹینا راپٹی ٹیلیپی نے اپنے شوہر کے ساتھ اہم فیصلہ کیا اور 22 سال قبل منجمد کئے گئے جنین سے بچے کی پیدائش کی کوشش کی۔

 

آخرکار اجازت ملنے کے بعد کرسٹینا نے گزشتہ چہارشنبہ کو دارالحکومت ایتھنز میں 3.49 کلوگرام وزن کی صحت مند بچی کو جنم دیا۔ 22 سال قبل منجمد کئے گئے جنین سے حمل ٹھہرنا اس واقعہ کی سب سے اہم خصوصیت ہے۔

 

واضح رہے کہ گزشتہ سال امریکہ کی ریاست اوہائیو میں ایک جوڑے نے تقریباً 30 سال قبل منجمد کئے گئے جنین سے بچے کو جنم دیا تھا۔ اس جوڑے نے اس حوالے سے گنیز ورلڈ ریکارڈز میں بھی جگہ بنائی تھی۔

جنین (Embryo) کیا ہوتا ہے؟

جنین حمل کے بالکل ابتدائی مرحلے میں بننے والی نئی زندگی کو کہا جاتا ہے۔ جب مرد کے اسپرم اور عورت کے بیضے (Egg) کو ملا کر فرٹیلائز کیا جاتا ہے تو ایک ابتدائی خلیہ بنتا ہے، جو تقسیم ہو کر جنین کی شکل اختیار کرتا ہے۔

آئی وی ایف (IVF) میں یہ عمل عام طور پر اس طرح ہوتا ہے:

عورت سے بیضے حاصل کیے جاتے ہیں۔

مرد کے اسپرم کے ساتھ لیبارٹری میں بیضے کو فرٹیلائز کیا جاتا ہے۔

چند دنوں میں فرٹیلائزڈ بیضہ ابتدائی جنین بن جاتا ہے۔

اسے عورت کے رحم میں منتقل کیا جاسکتا ہے، یا مستقبل کے لیے انتہائی کم درجۂ حرارت پر فریز (منجمد) کرکے محفوظ کیا جاسکتا ہے۔

بعد میں مناسب وقت پر اسے پگھلا کر رحم میں منتقل کیا جاتا ہے، جہاں کامیاب حمل کی صورت میں بچے کی نشوونما شروع ہوتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button