نیشنل

سڑک حادثہ میں پاوں ٹوٹ جانے پر ڈاکٹرس نے پلاسٹر کے بجائے اٹے کے ٹکڑے باندھ دیئے

نئی دہلی: بہار میں دو نوجوان موٹر سائیکل حادثے میں زخمی ہوگئے جس کے نتیجے میں دونوں پاوں ٹوٹ گئے،انہیں فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا جہاں مبینہ طور پر لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی ٹوٹی ہوئی ٹانگوں پر پلاسٹر کے بجائے بڑے کے ٹکڑے باندھ دئیے۔

 

اس واقعے پر ریاست کے اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ریاست کا محکمہ صحت خود آئی سی یو میں ہے۔یہ حادثہ جمعرات کو ہلاس گنج میں پیش آیا جہاں دو موٹر سائیکلیں آپس میں ٹکرا گئیں۔ حادثے میں زخمی ہونے والے دونوں نوجوانوں کو جہان آباد صدر اسپتال لایا گیا۔بعد میں اسپتال نے دونوں کو مزید علاج کے لیے پٹنہ میڈیکل کالج اینڈ اسپتال ریفر کردیا۔

 

تاہم پٹنہ بھیجنے سے پہلے ان کی ٹوٹی ہوئی ٹانگوں پر مبینہ طور پر ابتدائی علاج کے نام پر اٹے کے ٹکڑے باندھ دئیے گئے۔تیجسوی یادو نے اس واقعے کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ دارالحکومت پٹنہ سے صرف کچھ فاصلے پر واقع ضلع اسپتال میں مریضوں کو فریکچر پر پلاسٹر جیسی بنیادی طبی سہولت بھی دستیاب نہیں ہے۔انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر حکومت سے سوال کیا کہ کیا بہار کی مالی حالت اتنی خراب ہوگئی ہے کہ ضلع اسپتال میں ٹوٹی ہوئی ٹانگ پر پلاسٹر لگانے کے لیے بھی پیسے نہیں ہیں؟

 

انہوں نے مزید کہا کہ پٹنہ سے محض 45 کلومیٹر دور جہان آباد کے ضلع صدر اسپتال میں مریض کی ٹوٹی ٹانگ کو کارڈ بورڈ سے باندھ کر معمولی علاج کے لیے بھی پٹنہ ریفر کیا جا رہا ہے۔تیجسوی یادو نے کہا کہ اپنے 17 ماہ کے مختصر دورِ حکومت میں انہوں نے عزم اور جذبے کے ساتھ ریاست کے صحت کے نظام میں کئی تبدیلیاں کی تھیں لیکن اب محکمہ صحت ان اصلاحاتی پالیسیوں اور فیصلوں کو نافذ کرنے سے قاصر ہے۔

 

انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا”محکمہ صحت خود ہی ICU میں ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ کسی ریاست کے لیے اس سے زیادہ شرمناک بات کیا ہوگی کہ کسی مریض کو پلاسٹر جیسی بنیادی اور ضروری ابتدائی طبی امداد بھی نہ مل سکے۔تیجسوی یادو نے بہار میں طویل عرصے سے اقتدار میں موجود این ڈی اے حکومت پر بھی تنقید کی اور الزام لگایا کہ انتخابات کے دوران

 

وزیراعظم بہار آکر ’جنگل راج‘ کی بات کرتے ہیں جبکہ انتخابات نہ ہونے کی صورت میں انہیں ریاست کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں۔ جہان آباد صدر اسپتال کے انچارج سپرنٹنڈنٹ چندر شیکھر آزاد نے بتایا کہ ضلع مجسٹریٹ نے قائم مقام سول سرجن مینا کماری اور دیگر افسران کو طلب کیا ہے۔ان سے اس واقعے پر وضاحت طلب کی گئی ہے اور معاملے کی تحقیقات کا حکم بھی دیا گیا ہے۔اس معاملے پر بی جے پی لیڈر مریتیونجے تیواری نے تیجسوی یادو پر جوابی حملہ کیا۔

 

انہوں نے کہا کہ یہ ریاست کا محکمہ صحت نہیں بلکہ تیجسوی یادو کی سیاست ہے جو آئی سی یو میں وینٹی لیٹر پر چل رہی ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ تیجسوی یادو اپنی سیاست کو بچانے کے لیے سوشل میڈیا پر ہر معاملے کی مخالفت کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔مریتیونجے تیواری نے کہا کہ سمراٹ چودھری کی قیادت والی این ڈی اے حکومت کا ہر محکمہ حساسیت کے ساتھ کام کر رہا ہے اور اگر اس معاملے میں کسی قسم کی لاپرواہی ثابت ہوئی تو سخت کارروائی کی جائے گی۔

 

انہوں نے یہ بھی کہا کہ سمراٹ چودھری صحت اور تعلیم کے شعبوں کی کارکردگی کی ذاتی طور پر نگرانی کر رہے ہیں تاکہ اصلاحات کو یقینی بنایا جا سکے۔آخر میں بی جے پی لیڈر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ

 

"تیجسوی یادو کے علاوہ سب کو ترقیاتی کام نظر آ رہے ہیں کیونکہ ان کی سیاست وینٹی لیٹر پر چل رہی ہے۔”

 

متعلقہ خبریں

Back to top button