لٹیری دلہن گرفتار، نقلی رشتہ دار بھی پکڑے گئے۔ فلمی انداز میں شادی کے بعد ہوجاتے تھے فرار

نئی دہلی: اترپردیش کے اعظم گڑھ میں شادی کے نام پر دھوکہ دہی کرنے والے گروہ کا پردہ پولیس نے پردہ فاش کیا ہے۔ یہ گروہ ایسے نوجوانوں کو نشانہ بناتا تھا جن کی شادی نہیں ہو پا رہی تھی۔
پہلے لڑکی کی تصویر دکھا کر رشتہ طے کیا جاتا پھر مندر میں باقاعدہ شادی کی رسومات ادا کروائی جاتیں اس کے بعد دلہن اپنے مبینہ رشتہ داروں کے ساتھ نقد رقم اور زیورات لے کر فرار ہوجاتی تھی۔پولیس نے اس معاملے میں پانچ مرد اور دو خواتین سمیت سات ملزمین کو گرفتار کیا ہے۔
ان کے قبضے سے 19 ہزار 650 روپے نقد رقم، سونے اور چاندی کے زیورات، شادی میں استعمال ہونے والا سامان اور واردات میں استعمال کی گئی دو موٹر سائیکلیں برآمد کی گئی ہیں۔ پولیس کے مطابق برآمد ہونے والی ناک کی کیل وہی ہے جو شادی کے دوران دلہن کو دی گئی تھی۔یہ معاملہ بردہ پولیس اسٹیشن حدود کا ہے۔
ہردوئی کے بلگرام کے رہنے والے رام بلاش نے پولیس میں شکایت درج کروائی تھی کہ ان کے بیٹے راج کمار کی شادی کے لیے واٹس ایپ پر ایک لڑکی کی تصویر بھیجی گئی تھی۔ اس کے بعد انہیں بندھوا مہادیو مندر بلایا گیا جہاں راج کمار کی لڑکی سے شادی کرائی گئی۔ شادی کے دوران دلہن کو ناک کی کیل اور 80 ہزار روپے نقد دیے گئے۔
شادی کے بعد راج کمار دلہن کو لے کر گھر واپس جارہا تھا۔ اسی دوران بندھوا موڑ کے قریب لڑکی کے مبینہ والد بھائی اور ایک دیگر شخص نے اسے گاڑی سے اتار دیا۔ اس کے بعد دلہن اور شادی میں دی گئی رقم سمیت تمام افراد فرار ہوگئے۔ متاثرہ خاندان کی شکایت پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کیں۔تفتیش آگے بڑھی تو اس واردات کے پیچھے ایک منظم گروہ کا انکشاف ہوا۔
ایس پی سٹی مدھوبن کمار سنگھ کے مطابق یہ گروہ ایسے غیر شادی شدہ نوجوانوں کی تلاش کرتا تھا جن کی شادی نہیں ہو پا رہی تھی۔ اس کے بعد درمیانی افراد کے ذریعے ان کے خاندان سے رابطہ کرکے شادی کی پیشکش کی جاتی تھی۔اس گروہ کی خاص بات یہ تھی کہ شادی کے دوران اس کے ارکان لڑکی کے خاندان کے مختلف رشتہ داروں کا کردار ادا کرتے تھے۔
کوئی اس کا والد بنتا، کوئی بھائی اور کوئی دوسرا رشتہ دار۔ اس طرح لڑکے اور اس کے خاندان کا اعتماد حاصل کرنے کے بعد شادی کی تمام رسومات مکمل کرائی جاتیں۔ایس پی سٹی مدھوبن کمار سنگھ نے بتایا کہ یہ ایک منظم گینگ ہے جو درمیانی افراد کے ذریعے غیر شادی شدہ نوجوانوں کو شادی کی پیشکش کرتا تھا۔
شادی کی تمام رسومات مکمل ہونے کے بعد لڑکی اور اس کے ساتھ آنے والے افراد لڑکے کو چھوڑ کر فرار ہوجاتے تھے۔پولیس کے مطابق گینگ میں دو خواتین بھی شامل تھیں۔ ان میں سے ایک خاتون دلہن کا کردار ادا کرتی تھی جبکہ دوسری اس کی ماں بن کر لڑکے کے خاندان کا اعتماد حاصل کرتی تھی۔ دیگر ملزمین لڑکی کے والد، بھائی اور رشتہ دار بن کر شادی میں شریک ہوتے تھے۔
پولیس نے 11 ستمبر کو کودہرا چوراہے کے قریب ناکہ بندی کرکے پانچ مرد اور دو خواتین کو گرفتار کیا۔ تلاشی کے دوران ان کے قبضے سے 19 ہزار 650 روپے نقد ایک جوڑی پائل، منگل سوتر، کانوں کے جھمکے اور ناک کی کیل برآمد ہوئی۔پولیس کو ملزمین کے قبضے سے سندور کی ڈبی، دو ساڑیاں، پینٹ شرٹ کا کپڑا اور واردات میں استعمال کی گئی دو موٹر سائیکلیں بھی ملی ہیں۔
پولیس کے مطابق برآمد ہونے والی ناک کی کیل وہی ہے جو شادی کے دوران راج کمار کی دلہن کو دی گئی تھی۔ایس پی سٹی مدھوبن کمار سنگھ نے بتایا کہ شادی میں دی گئی رقم میں سے 19 ہزار 650 روپے برآمد کرلیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ناک کی کیل، پائل، منگل سوتر، شادی میں استعمال ہونے والا سندور اور دیگر سامان بھی پولیس کے ہاتھ لگا ہے۔
تحقیقات کے دوران گینگ کے بعض ارکان کا سابقہ مجرمانہ ریکارڈ بھی سامنے آیا ہے اب پولیس یہ معلوم کرنے میں مصروف ہے کہ اس گینگ نے اسی طریقہ کار سے مزید کتنے لوگوں کو اپنا شکار بنایا ہے۔



