نیشنل

80 کے دہائی کے فوٹو ٹرینڈ نے پکڑایا چور۔ 45 سال پہلے چوری کرنے والی خاتون گرفتار

نئی دہلی: سوشل میڈیا پر اس وقت 80 کی دہائی کا ٹرینڈ زوروں پر ہے۔ لوگ AI کی مدد سے اپنی موجودہ تصاویر کو اس انداز میں تبدیل کروا رہے ہیں کہ اگر وہ 1980 کی دہائی میں رہتے تو اس وقت کیسے دکھائی دیتے۔ پھر ان تصاویر کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پوسٹ کر رہے ہیں۔

 

انسٹاگرام، فیس بک یا ایکس کھولیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وقت اچانک کئی دہائیاں پیچھے چلا گیا ہو کیونکہ لوگوں کی سوشل میڈیا وال پر 80 کی دہائی کی تصاویر ہی نظر آ رہی ہیں۔پورے بھارت میں مقبول ہونے والے اسی 80 کی دہائی کے ٹرینڈ نے 45 سال سے حل نہ ہونے والے ایک چوری کے کیس کو حل کر دیا۔

 

سننے میں حیرت انگیز لگتا ہے لیکن سوشل میڈیا کے اس ٹرینڈ نے تقریباً چار دہائیوں پرانے کیس کو انجام تک پہنچا دیا۔انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی اطلاعات کے مطابق مدھیہ پردیش کے اجین شہر میں تقریباً 45 سال قبل ایک نوجوان خاتون نے ایک چھوٹی سی سنار کی دکان سے سونے کا ہار چوری کیا اور وہاں سے فرار ہوگئی۔

 

اس کے بعد پولیس نے اسے تلاش کرنے کی بہت کوشش کی لیکن اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ یوں یہ سوالات کہ وہ خاتون کون تھی کہاں چلی گئی اور کیسے غائب ہوگئی لا جواب ہی رہ گئے۔وقت گزرتا گیا اس خاتون نے اپنا نام تبدیل کر لیا اور کسی کو شک نہ ہو اس طرح ایک نئی شناخت کے ساتھ زندگی گزارنے لگی۔

 

45 سال تک پولیس کی گرفت سے دور رہنے والی اس خاتون کو لگتا تھا کہ معاملہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے۔ لیکن 2026 میں بنائی گئی ایک AI تصویر نے اس کی زندگی بدل کر رکھ دی۔80 کی دہائی کے ٹرینڈ کے تحت خود کو اس دور کے انداز میں دیکھنے کے شوق میں اس خاتون نے AI کی مدد سے اپنی ایک پرانے زمانے کی تصویر بنوائی

 

اور اسے یادگار کے طور پر سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیا۔اتفاق سے یہ تصویر 45 سال قبل اس دکان کے مالک کی نظر سے گزر گئی جہاں سے سونے کا ہار چوری ہوا تھا۔45 سال پہلے دکان پر نظر آنے والی نوجوان لڑکی کے چہرے اور اب سوشل میڈیا پر نظر آنے والے چہرے میں غیر معمولی مماثلت دیکھ کر دکان کا مالک حیران رہ گیا۔

 

اس نے فوراً پولیس سے رابطہ کیا۔پولیس نے تحقیقات شروع کیں تو خاتون نے بالآخر 45 سال قبل ہونے والی سونے کے ہار کی چوری کا اعتراف کر لیا۔اس طرح 45 سال پرانے اس کیس کا معمہ 80 کی دہائی کے AI فوٹو ٹرینڈ کی بدولت بلآخر حل ہوگیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button