گوگل جیمنی اے آئی نے 3 کمپنیوں کو کیا ہیک

نئی دہلی: ماہرین مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ جدید ترین اے آئی ماڈلز سے سائبر سکیورٹی کے لیے نئے خطرات پیدا ہونے کا امکان ہے۔ پہلے ہی اوپن اے آئی کے ایک مصنوعی ذہانت پر مبنی ایجنٹ کی جانب سے سائبر حملہ کیے جانے کی اطلاع سامنے آچکی ہے۔
اب گوگل کے اے آئی ماڈل ’جیمنی اے آئی‘ نے بھی تین کمپنیوں کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم میں غیر مجاز طور پر داخل ہوکر انہیں ہیک کرلیا۔ گوگل نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے۔گوگل نے اے آئی ایجنٹس کی سائبر حملے کی صلاحیتوں کا جائزہ لینے کے لیے حال ہی میں ایک سائبر سکیورٹی نظام تیار کیا تھا۔
اس نظام کی آزمائش کے دوران جیمنی نے اپنی مقررہ حدود سے تجاوز کرتے ہوئے تین دیگر کمپنیوں کی ڈیجیٹل معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کرلی۔ کمپنی کے مطابق اس غلطی کا پتہ چلتے ہی اس کا اے آئی سائبر سکیورٹی نظام خودکار طور پر کام کرنا بند ہوگیا۔
گوگل کی سکیورٹی انجینئرنگ کی نائب صدر ہیدر ایڈکنز نے بتایا ’’سائبر سکیورٹی ٹیسٹ کے دوران جیمنی اے آئی نے دیگر پاس ورڈز کا اندازہ لگاتے ہوئے عوامی ویب کے ذریعے تین مزید کمپنیوں کے ڈیجیٹل پلیٹ فارموں میں غیر مجاز طور پر داخل ہونے کی کوشش کی۔ ہم نے تصدیق کی ہے کہ اس ہیکنگ کے نتیجے میں متاثرہ کمپنیوں کے ڈیٹا کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
اس معاملے میں ہمارے اے آئی نے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا۔ ہم نے ہیکنگ سے متاثرہ اداروں سے پہلے ہی رابطہ کرلیا ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ متعلقہ اداروں کی جانب سے کمزور پاس ورڈز استعمال کیے جانے کی وجہ سے پیدا ہوا۔
اس واقعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ طاقتور اے آئی ماڈلز کو ذمہ دارانہ انداز میں کام کرنے کی تربیت دینا کس قدر اہم ہے۔



