جنرل نیوز

حضرت غوثِ اعظمؒ کی تعلیمات علم، عمل اور خدمتِ خلق کا درس دیتی ہیں،مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب 

حضرت غوثِ اعظمؒ کی تعلیمات علم، عمل اور خدمتِ خلق کا درس دیتی ہیں،مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب

حیدرآباد، 18 ستمبر (پریس ریلیز):

اولیائے کرام کی پاکیزہ زندگیاں امتِ مسلمہ کے لیے رشد و ہدایت، تزکیۂ نفس اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب ہیں۔ ان مقدس ہستیوں نے اپنی زندگیاں رضائے الٰہی، اتباعِ شریعت، محبتِ رسول اکرم ﷺ اور خدمتِ خلق کے لیے وقف کردیں۔ انہی برگزیدہ ہستیوں میں سلطان الاولیاء، غوثِ اعظم دستگیر حضرت سیدنا محی الدین عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی ذاتِ گرامی کو نمایاں مقام حاصل ہے، جن کی علمی، روحانی اور اصلاحی خدمات صدیوں سے اہلِ ایمان کے لیے مشعلِ راہ بنی ہوئی ہیں۔

خطیب و امام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز، نامپلی، حیدرآباد، مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے آج اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے دور میں علم و عرفان، وعظ و نصیحت، عبادت و ریاضت اور اصلاحِ احوال کے ذریعے بے شمار انسانوں کی رہنمائی فرمائی۔ آپ کی خانقاہ اور مدرسہ علم و تربیت کا مرکز بن گئے تھے، جہاں دور دراز سے لوگ دینی علوم حاصل کرنے اور اپنی روحانی و اخلاقی اصلاح کے لیے حاضر ہوتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ حضرت غوثِ اعظمؒ کی حیاتِ مبارکہ کا سب سے نمایاں پہلو علم کے ساتھ عمل، عبادت کے ساتھ اخلاص اور روحانیت کے ساتھ خدمتِ خلق ہے۔ آپ نے طلبہ کی سرپرستی فرمائی، ضرورت مندوں کی مدد کی اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت، توبہ، تقویٰ، ذکر و فکر اور حسنِ اخلاق کی طرف متوجہ کیا۔

مولانا صابر پاشاہ قادری نے کہا کہ حضرت غوثِ اعظمؒ کی سیرت کا مطالعہ کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ حقیقی روحانیت انسان کو معاشرے سے کاٹتی نہیں بلکہ اسے مخلوقِ خدا کی خیر خواہی اور خدمت کے لیے تیار کرتی ہے۔ آپ نے اپنی تعلیمات کے ذریعے انسان کو نفس کی اصلاح، دل کی پاکیزگی اور کردار کی بلندی کا درس دیا۔

انہوں نے کہا کہ حضرت غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب کرامات و مناقب صدیوں سے کتبِ تذکرہ میں بیان ہوتے آئے ہیں، تاہم ان کی حیاتِ مبارکہ کا سب سے بڑا پیغام یہ ہے کہ بندہ اپنے رب سے تعلق مضبوط کرے، شریعت و سنت کی پابندی اختیار کرے اور اپنی زندگی کو خیر، بھلائی اور خدمتِ انسانیت کا ذریعہ بنائے۔

انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں نوجوان نسل کو حضرت غوثِ اعظمؒ کی زندگی سے علم، تقویٰ، صبر، استقامت، حسنِ اخلاق اور نیک صحبت کا سبق حاصل کرنا چاہیے۔ محض عقیدت کا اظہار کافی نہیں بلکہ بزرگوں کی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانا ہی محبت کا حقیقی تقاضا ہے۔

مولانا نے مزید کہا کہ صالحین کی صحبت انسان کے اخلاق و کردار کو سنوارتی ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کی یاد، نیکی اور خیر کے راستے پر قائم رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ اس لیے والدین اور سرپرستوں کو چاہیے کہ وہ نئی نسل کو دینی تعلیم، اسلامی تہذیب اور صالح صحبت سے وابستہ کریں۔

آخر میں مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات سے صحیح معنوں میں استفادہ کرنے، علم و عمل میں اخلاص پیدا کرنے، شریعت و سنت کی پابندی کرنے اور مخلوقِ خدا کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے اور اولیائے صالحین کی محبت و نسبت کے فیوض و برکات سے ہمارے قلوب کو منور فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button