مرکزی حکومت کی مردم شماری میں بی سی کی ذیلی ذاتوں کو بھی شامل کرکے گنتی کی جائے : کے کویتا

بی سی ذاتوں کی آبادی کم دکھانے کی سازش
مرکزی حکومت کی مردم شماری میں بی سی کی ذیلی ذاتوں کو بھی شامل کرکے گنتی کی جائے
ذات کے لئے الگ کالم لازمی طور پر ہونا چاہئے
ہماری سوچ میں تبدیلی آئے گی تو ہی ذات پات کے امتیاز کا خاتمہ ممکن : کے کویتا
حیدرآباد: تلنگانہ رکشنا سینا کی چیف کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ بی سی ذاتوں کی آبادی کو کم دکھا کر انہیں متحد ہوکر جدوجہد کرنے سے روکنے کے لئے مرکزی حکومت کی جانب سے سیاسی سازش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مردم شماری میں او بی سی کالم کو ذاتوں کے لحاظ سے ظاہر نہ کرتے ہوئے پسماندہ طبقات کو ذاتوں کے گروپوں میں تقسیم کرکے متحدہ جدوجہد کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بنجارہ ہلز کی ایک ہوٹل میں آج دی یونائیٹڈ فورم فار ایس سی، ایس ٹی ایمپلائز اور سکل جن سیوا سنستھان کے زیر اہتمام منعقدہ ’’پولیٹکس بیونڈ کاسٹ‘‘ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کویتا نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ذات پر مبنی مردم شماری میں بی سی آبادی کے معاملے میں کسی بھی قسم کی الجھن پیدا نہ ہو، اس کے لئے ضروری اقدامات کئے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ صرف ذات کا کالم شامل کرکے ذمہ داری سے بری الذمہ ہونے کی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہر ریاست میں موجود ذاتوں کی فہرست کو درست طور پر اپ لوڈ کیا جائے اور اسی طرح ذیلی ذاتوں کو بھی شامل کرکے ان کی گنتی کی جائے بصورت دیگر بی سی کی آبادی کم دکھائی دینے کا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہی ذات کو ملک کی مختلف ریاستوں میں الگ الگ حیثیت حاصل ہے، اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے بی سی ذاتوں کی ذیلی ذاتوں کو بھی شامل کرکے گنتی کرنا ضروری ہے۔ بصورت دیگر ذیلی ذاتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا
اور انہیں بھی ایک ہی ذات کے طور پر اعداد و شمار میں ظاہر کئے جانے کا خطرہ رہے گا۔ کویتا نے کہا کہ ایس سی اور ایس ٹی میں شامل 57 ذیلی ذاتوں کی وجہ سے ذیلی ذاتوں سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ انصاف نہیں ہو پا رہا ہے، یہ بات سبھی جانتے ہیں۔ اس کے باوجود ہزاروں کروڑ روپئے خرچ کرتے ہوئے بی سی مردم شماری میں بھی کوئی حل فراہم نہ کرنا درست نہیں ہے۔
کویتا نے کہا کہ ریاستی حکومت نے پہلے ہی ذات پر مبنی مردم شماری کے نام پر بی سی آبادی کو کم ظاہر کیا ہے۔ یہ سمجھا جا رہا تھا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے کرائی جانے والی ذات پر مبنی مردم شماری کے ذریعہ یہ مسئلہ حل ہوجائے گا لیکن اس مسئلہ کو مزید پیچیدہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذات پر مبنی مردم شماری کے لئے مزید چار ماہ کا وقت باقی ہے، اس دوران مرکز کو اس مسئلہ کے حل پر توجہ دینی چاہئے۔
کویتا نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ذات پات کا امتیاز ہمارے ڈی این اے میں ہی گہری جڑیں پکڑ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر جمہوریہ اور اسپیکر جیسے عہدوں پر فائز افراد کو بھی ذات پات کے امتیاز کا سامنا ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پیچیدہ مسئلہ کے لئے کثیر جہتی حل کی ضرورت ہے۔ ذات پات کے معاملہ کومتاثرہ فرد کے نقطۂ نظر سے دیکھنے پر ہی صحیح حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماروجو ویرنا کے کہنے کے مطابق ہر ذات کو بااختیار بنانے کی ضرورت ہے۔ ذاتوں کو سیاسی نمائندگی کے ساتھ ساتھ معاشی طور پر بھی مضبوط بنایا جائے اور اقتدار میں موجود جماعتوں کو ہی اس کی ذمہ داری قبول کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ قانونی طور پر کتنے ہی اقدامات کیوں نہ کئے جائیں، جب تک سوچ میں تبدیلی نہیں آئے گی، ذات پات کے امتیاز کا خاتمہ ممکن نہیں ہے
۔کویتا نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مردوں کے برابر کام کرنے کے باوجود خواتین کی اجرت میں فرق ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مساوی کام کے لئے مساوی اجرت کے قوانین موجود ہونے کے باوجود 2026 میں بھی اجرت میں تفریق کی جا رہی ہے۔ جمعہ کو بین الاقوامی مساوی اجرت کے دن کے موقع پر انہوں نے اس موضوع پر ایکس پر ٹویٹ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی محنت کو مساوی قدر دی جائے گی، تب ہی حقیقی ترقی ممکن ہوگی۔



