تلنگانہ

اکیڈمی فار سکسیس اینڈ ایچیومنٹ کے مرکزی دفتر کا افتتاح، تلنگانہ کے سات اضلاع میں پولیس ریکروٹمنٹ ٹریننگ کی مفت کوچنگ کا انتظام

اکیڈمی فار سکسیس اینڈ ایچیومنٹ کے مرکزی دفتر کا افتتاح، تلنگانہ کے سات اضلاع میں پولیس ریکروٹمنٹ ٹریننگ کی مفت کوچنگ کا انتظام

پولیس محکمہ میں خدمات ملک و ملت کی بڑی خدمت کا ذریعہ : امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند حلقہ تلنگانہ محمد اظہر الدین کا خطاب

حیدرآباد، 24 ستمبر : تلنگانہ میں پولیس بھرتیوں کے لیے حکومت کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کیے جانے اور پریلیمنری ٹیسٹ کی تاریخوں کے اعلان کے پس منظر میں پولیس محکمہ میں ملازمت کے خواہش مند نوجوانوں کی رہنمائی اور تربیت کے لیے قائم کی گئی اکیڈمی فار سکسیس اینڈ ایچیومنٹ کے مرکزی دفتر کا افتتاح امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند تلنگانہ جناب محمد اظہر الدین صاحب کے ہاتھوں عمل میں آیا۔

 

تقریب کا آغاز جناب ایم این بیگ زاہد بیگ صاحب کے افتتاحی کلمات سے ہوا۔ انہوں نے اکیڈمی کے قیام کے پس منظر، اس کے مقاصد اور نوجوانوں کو سرکاری خدمات میں آگے بڑھنے کے لیے رہنمائی فراہم کرنے کی ضرورت پر اظہارِ خیال کیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے امیر حلقہ تلنگانہ جناب محمد اظہر الدین صاحب نے کہا کہ مختلف سرکاری محکموں میں مسلمانوں کی نمائندگی کم ہے، بالخصوص پولیس محکمہ میں تعلیم یافتہ اور باصلاحیت مسلم نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ ضروری ہے

 

۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی حکمرانی مضبوط جمہوری معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے، جبکہ امن و امان کے بغیر کسی بھی ملک اور معاشرے میں پائیدار ترقی اور خوشحالی کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ امن و امان کے قیام اور قانون کے نفاذ میں پولیس کا بنیادی کردار ہے۔انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پولیس محکمہ میں ملازمت کو محض روزگار کا ذریعہ نہ سمجھا جائے بلکہ اسے ملک و ملت کی خدمت اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کا ایک مؤثر وسیلہ سمجھتے ہوئے اس شعبے میں آگے بڑھنے کی کوشش کی جائے۔

 

سابق آئی ایف ایس اور سابق سی ای او مائنارٹیز ویلفیئر ڈپارٹمنٹ جناب محمد عبدالوحید صاحب نے اپنے خطاب میں کہا کہ پولیس محکمہ میں اپنی خدمات پیش کرنے کے لیے نوجوانوں کو ابھی سے منظم انداز میں تیاری شروع کر دینی چاہیے۔ انہوں نے پولیس ریکروٹمنٹ کے تین بنیادی مراحل پریلیمنری امتحان، فزیکل ٹیسٹ اور مینز امتحان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہر مرحلے کے تقاضے مختلف ہیں اور امیدواروں کو ان کے مطابق اپنی صلاحیتیں پروان چڑھانے کی ضرورت ہے

 

۔انہوں نے بالخصوص پریلیمنری امتحان کی تیاری کے سلسلے میں وقت کے مؤثر استعمال، سوالات کو تیزی اور درستگی کے ساتھ حل کرنے، مسلسل مطالعہ، پریکٹس اور امتحانی حکمتِ عملی جیسی مہارتوں کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔سابق اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس جناب محمد تاج الدین صاحب نے کہا کہ پولیس کی ملازمت معاشرے کی خدمت کا ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے۔ پولیس اہلکار قانون کے نفاذ کے ساتھ معاشرے میں موجود برائیوں کو کم کرنے اور امن و سلامتی کے فروغ میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھائیں اور پوری سنجیدگی کے ساتھ اس شعبے میں اپنے مستقبل کی تیاری کریں۔

 

سابق کمانڈنٹ جناب موسیٰ بن ابراہیم صاحب نے نوجوانوں کو فزیکل ٹیسٹ کی تیاری کے حوالے سے رہنمائی دی۔ انہوں نے جسمانی صحت، روزانہ ورزش، دوڑ اور مستقل مشق کو فزیکل ٹیسٹ میں کامیابی کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے امیدواروں کو باقاعدہ تربیتی معمول اختیار کرنے کی تلقین کی۔سات اضلاع میں مفت کوچنگ کا انتظام پروگرام کے کنوینر جناب اقبال حسین صاحب نے اکیڈمی کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس ادارے کا مقصد صرف موجودہ پولیس بھرتی تک محدود نہیں بلکہ دفاع، پولیس اور سکیورٹی سے متعلق مختلف شعبوں میں آنے والے روزگار کے مواقع اور بھرتیوں کے نوٹیفکیشن سے نوجوانوں کو بروقت آگاہ کرنا، انہیں تیاری کے لیے متحرک کرنا، کوچنگ اور رہنمائی فراہم کرنا اور ضرورت کے مطابق دیگر سہولتیں مہیا کرنا ہے۔

 

انہوں نے بتایا کہ اکیڈمی کی جانب سے نظام آباد، عادل آباد، کریم نگر، ورنگل، محبوب نگر، سنگاریڈی اور کھمم میں پولیس بھرتیوں کی تیاری کرنے والے نوجوانوں کے لیے مفت کوچنگ کا انتظام کیا گیا ہے۔ خواہش مند امیدوار ان مراکز سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ وادی ہدیٰ میں بھی منتخب نوجوانوں کو رہائش فراہم کرتے ہوئے انہیں کوچنگ اور فزیکل ٹریننگ دی جا رہی ہے۔

 

جناب اقبال حسین نے بتایا کہ اکیڈمی کے قیام سے قبل بھی پولیس بھرتیوں کے سلسلے میں اس نوعیت کے دو تجربات کیے گئے تھے۔ 2014 کی ریکروٹمنٹ کے موقع پر تلنگانہ کے مختلف علاقوں سے امیدواروں کی رہنمائی کی گئی، جس کے نتیجے میں تقریباً 31 امیدوار پولیس محکمہ میں منتخب ہوئے، جن میں ایک سب انسپکٹر اور 30 کانسٹیبل شامل تھے۔اسی طرح 2024 میں کیے گئے دوسرے تجربے میں تقریباً 33 امیدوار منتخب ہوئے، جن میں دو سب انسپکٹرز اور 31 کانسٹیبل شامل تھے۔

 

ان تجربات سے حاصل ہونے والے نتائج کی بنیاد پر اس خدمت کو ایک مستقل، منظم اور وسیع تر پروگرام کی شکل دینے کے لیے اکیڈمی فار سکسیس اینڈ اچیومنٹ قائم کی گئی ہے۔انہوں نے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ پولیس ریکروٹمنٹ کے لیے چند ماہ کی منظم، مسلسل اور بھرپور محنت امیدوار کی کارکردگی میں نمایاں فرق پیدا کر سکتی ہے۔ انہوں نے مختلف کامیاب افراد کی مثالیں پیش کرتے ہوئے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود واضح مقصد، عزمِ صمیم، محنت اور مستقل مزاجی کے ساتھ مسابقتی امتحانات میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے

 

۔سابق ڈی ایس پی جناب عظمت اللہ خان صاحب نے بھی اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے نوجوانوں کو پولیس بھرتیوں کے لیے سنجیدگی سے تیاری کرنے اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد رکھتے ہوئے مسلسل جدوجہد جاری رکھنے کی تلقین کی۔تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات، سابق پولیس افسران، اکیڈمی کے ذمہ داران، طلبہ اور پولیس بھرتیوں کی تیاری کرنے والے نوجوانوں نے شرکت کی۔پروگرام کی نظامت مجاہد پاشا نے انجام دی، جبکہ اختتام پر جناب خالد عبد الرحیم باوزیر، جوائنٹ سکریٹری اکیڈمی نے مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button