نانڈیر میں جلسۂ تکمیلِ تفسیرِ قرآن کا روح پرور انعقاد

ناندیڑ میں
جلسۂ تکمیلِ تفسیرِ قرآن کا روح پرور انعقاد
خادمینِ اُمّت کی جانب سے مولانا سعد عبداللہ ندوی کو ’’ترجمان القرآن‘‘ ایوارڈ پیش*
ناندیڑ، 3 /اکتوبر(پریس نوٹ) مسجد نور محمدی، قیوم پلاٹ، ناندیڑ میں جمعہ کی شب بعد نمازِ عشاء ایک عظیم الشان اور روح پرور جلسۂ تکمیلِ تفسیرِ قرآنِ کریم منعقد ہوا، جس میں معروف عالمِ دین و مفسرِ قرآن حضرت مولانا ڈاکٹر محمد سعد عبداللہ ندوی صاحب نے قرآنِ کریم کی تفسیر کے سلسلے میں خصوصی خطاب فرمایا، جلسے میں علماءِ کرام، ائمۂ مساجد، خدامِ ملت اور شہر کے مختلف علاقوں سے بڑی تعداد میں مرد و خواتین نے شرکت کی.
حضرت مولانا سعد عبداللہ ندوی نے اپنے خطاب میں قرآنِ کریم کی عظمت، اس کی تعلیمات کو سمجھنے اور انہیں عملی زندگی میں نافذ کرنے کی ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی،انہوں نے کہا کہ قرآنِ کریم محض تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ پوری انسانی زندگی کے لیے ہدایت اور رہنمائی کا سرچشمہ ہے. مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ قرآنِ کریم کی تلاوت کے ساتھ اس کے معانی و مفاہیم کو سمجھیں اور اس کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں.
اس موقع پر امام و خطیب مکہ مسجد(قدیم مرکز)، چوک بازار ناندیڑ، حضرت مفتی وقایت اللہ صاحب قاسمی دامت برکاتہم نے اپنے خطاب میں حفظِ قرآن کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ اگر انسان روزانہ کم از کم ایک آیت یاد کرنے کا معمول بنا لے تو دس سال کے عرصے میں پورے قرآنِ کریم کو حفظ کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے عوام کو قرآنِ کریم سے مضبوط تعلق قائم کرنے اور حفظ و تلاوت کا اہتمام کرنے کی ترغیب دی. محدث ڈاکٹر مفتی سید عمیر احمد ندوی صاحب نے اپنے خطاب میں تفسیرِ قرآن کی اہمیت اور ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قرآنِ کریم کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے مستند تفسیری روایت اور اہلِ علم کی رہنمائی سے استفادہ ضروری ہے،انہوں نے طویل عرصے تک عوام میں درسِ قرآن و تفسیر کا سلسلہ جاری رکھنے پر مولانا سعد عبداللہ ندوی کی خدمات کو قابلِ قدر قرار دیا.
جلسۂ تکمیلِ تفسیر کے اختتام پر خادمینِ اُمّت کی جانب سے حضرت مولانا ڈاکٹر محمد سعد عبداللہ ندوی کی طویل علمی و دینی خدمات، بالخصوص خدمتِ قرآن اور درسِ تفسیر کے اعتراف میں خصوصی سپاس نامہ اور ’’ترجمان القرآن حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ‘‘ ایوارڈ پیش کیا گیا.
اس موقع پر مولانا موصوف کی شال پوشی کی گئی اور انہیں یادگاری مومنٹو بھی پیش کیا گیا۔ خادمینِ اُمّت کے ذمہ داران محمد داؤد ، اسماعیل احمد اور نور پاشا سمیت علماءِ کرام، ائمہ، معززینِ شہر اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی.
خادمینِ اُمّت کے ذمہ داران نے اس موقع پر مولانا سعد عبداللہ ندوی کی علمی، دینی اور قرآنی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ طویل عرصے تک عوام میں قرآنِ کریم کی تعلیم و تفسیر کا سلسلہ جاری رکھنا ایک اہم دینی خدمت ہے، اور ایسی خدمات کی پذیرائی نئی نسل کو قرآنِ کریم سے وابستہ کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے.
جلسے میں خواتین کے لیے بھی خصوصی انتظام کیا گیا تھا۔ پروگرام کے اختتام پر امتِ مسلمہ کی سربلندی، قرآنِ کریم سے مسلمانوں کی مضبوط وابستگی، ملک و ملت کی سلامتی اور تمام مسلمانوں کے لیے خیر و عافیت کی خصوصی دعا کی گئی.
خادمینِ اُمّت کی جانب سے مولانا سعد عبداللہ ندوی کی پذیرائی اور انہیں ’’ترجمان القرآن حضرت عبداللہ بن عباس‘‘ ایوارڈ سے نوازے جانے کو علمی و دینی خدمات کے اعتراف کی ایک قابلِ قدر کاوش قرار دیا گیا.



