حیدرآباد میں 5 سالہ بچی کے قتل میں سنسنی خیز انکشاف، ملزم کو کس طرح پولیس نے پکڑا جانیں تفصیل

حیدرآباد: کاوکور کے آرکیڈ ولا میں پانچ سالہ بچی آریلیا کے قتل کیس میں دلچسپ اور چونکا دینے والی تفصیلات سامنے آرہی ہیں۔ بچی کے قتل کے ملزم سکیورٹی گارڈ وکرم کمار کو مَلکاجگیری پولیس نے پیر کے روز گرفتار کیا تھا۔
قتل کے بعد ملزم کو پکڑنے کے لیے پولیس کی کارروائی کے دوران کئی اہم انکشافات ہوئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق وکرم کمار نے یہ اندازہ لگایا تھا کہ بچی کی لاش دو دن تک سامنے نہیں آئے گی۔ اسی منصوبے کے تحت وہ 10 اکتوبر کی شام تقریباً 6:45 سے 7 بجے کے درمیان آرکیڈ ولا سے نکلا اور کاوکور سبزی مارکٹ پہنچا وہاں
کچھ دیر بیٹھنے کے بعد اس نے بچی کے والدین کو فون کرکے رقم کا مطالبہ کرنا شروع کردیا۔بعد ازاں وہ بس میں سوار ہوکر سکندرآباد ریلوے اسٹیشن پہنچا جہاں سے بہار فرار ہونے کا منصوبہ بنایا تھا تاہم ریلوے اسٹیشن پر پولیس کی سرگرمیاں دیکھ کر اور موبائل فون پر آریلیا کی تصاویر دکھاتے ہوئے لوگوں کو دیکھ کر وہ وہاں سے نکل گیا۔
اس کے بعد دوسری بس میں سوار ہوکر پٹن چیرو پہنچا چونکہ وہ پہلے وہاں کام کرچکا تھا اس لیے رات تقریباً 11 بجے چند سکیورٹی گارڈس سے ملاقات کرکے ملازمت طلب کی بعد میں پٹن چیرو سے کیب بک کرکے اپنے دوست اپیندر کے پاس ایلماں بنڈہ کوکٹ پلی جانے کے لیے روانہ ہوا۔راستے میں ملم پیٹ کے مقام پر رک کر اس نے ایک گیٹیڈ کمیونٹی کے سکیورٹی گارڈس سے بھی ملازمت دینے کی درخواست کی۔
وہاں سے ایلماں بنڈہ پہنچنے کے بعد مزید چند سکیورٹی گارڈس سے ملاقات کی اور صبح تقریباً 4 بجے تک ان کے ساتھ بات چیت کرتا رہا۔بعد ازاں وہ علاقے میں گھومتا رہا اور آخرکار آٹو کے ذریعہ آئی ڈی ایل ٹینک پہنچا جہاں ایک وائنس میں شراب نوشی کی۔ وہاں سے دوبارہ آٹو میں سوار ہوکر بورابنڈہ پہنچا اور اپنے سکیورٹی گارڈ دوستوں کے گھر میں سوگیا۔
اسی دوران پولیس نے اسے گرفتار کرلیا۔ قتل کے بعد وکرم کمار کا چار مقامات پر ملازمت تلاش کرنا پولیس کے لیے حیران کن تھا۔پانچ سالہ بچی کے اغوا اور پھر قتل کے واقعے نے مَلکاجگیری پولیس کو سخت تشویش میں مبتلا کردیا تھا۔ پولیس حکام نے تقریباً 15 ٹیموں کو اس معاملے کی تحقیقات میں لگایا۔ بعض ٹیموں نے موبائل فون ڈیٹا، سی سی ٹی وی کیمروں اور دیگر ٹیکنالوجی کی مدد سے تحقیقات کیں
جبکہ دیگر ٹیمیں میدان میں ملزم کی تلاش میں مصروف رہیں۔کاوکور سے شروع ہونے والی پولیس کی کارروائی تقریباً 24 گھنٹے جاری رہی۔ ملزم جن علاقوں میں گھوم رہا تھا وہاں پولیس کی گاڑیاں زیادہ نظر آنے سے اس کے چوکس ہوکر فرار ہونے کا خدشہ تھا۔ اسی لیے پولیس اہلکاروں نے کرایے کی بائیکس حاصل کیں اور سادہ لباس میں ان علاقوں میں گھومتے ہوئے ملزم کی تلاش جاری رکھی۔
پولیس کی کوشش تھی کہ وکرم کمار کو بہار فرار ہونے سے پہلے حیدرآباد ہی میں گرفتار کرلیا جائے کیونکہ اس کے بہار پہنچنے کے بعد گرفتاری میں تاخیر ہوسکتی تھی۔ بالآخر پولیس نے بورابنڈہ میں اسے گرفتار کرلیا۔ رپورٹ کے مطابق پولیس اہلکاروں نے مسلسل 24 گھنٹے کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کرکے جیل پہنچا دیا۔
وکرم کمار کی گرفتاری کے دوران پولیس کو ایک موقع پر ناکامی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ ملزم ایلمابنڈہ میں موجود ہے جس کے بعد وہاں تلاشی لی گئی۔ اس دوران پولیس نے وکرم کمار کے دوست اپیندر کو اس کی تصویر دکھائی لیکن اس نے خوف کے باعث ملزم کو پہچاننے سے انکار کردیا۔
بعد میں وکرم کمار خود اپیندر کے پاس پہنچا اپیندر کو پہلے ہی معلوم ہوگیا تھا کہ پولیس ملزم کی تلاش کررہی ہے۔ اس نے وکرم کو اس بارے میں بتائے بغیر کہا کہ اس نے کوئی غلط کام کیا ہے اس لیے وہ اس کے پاس نہ آئے اور وہاں سے چلا جائے۔اس طرح وکرم کمار وہاں سے نکل کر بورابنڈہ پہنچ گیا
جہاں مسلسل تلاش اور کارروائی کے بعد پولیس نے بالآخر اسے گرفتار کرلیا۔



