انٹر نیشنل

مشّیت ایزدی کچھ اور تھی۔ مدینہ کا مسافر ملک عدم کے سفر پر چلاگیا۔ تقدیر کے آگے تدبیر بے بس

ریاض/انسان سوچتا کچھ ہے اور ہوتا کچھ اور ہے۔ مشیّت الہٰی کے آگے انسان کی تدبیر بے بس ہے۔ ایسا ہی کچھ معاملہ حیدرآباد کے مہدی پٹنم سے تعلق رکھنے والے 46 سالہ سعودی برٹش بینک کے شعبہ آئی ٹی (IT) سے تعلق رکھنے والے محمد یوسف علی کے ساتھ ہوا جو زیارت مدینہ منورہ اور روزہ رسولٌٖ پر حاضری کی خوہش لیکر ریاض میں اپنے گھر سے چلے تھے لیکن مشّیت ایزدی میں ان سفر ملک عدم تھا۔ سعودی برٹش بینک اب “بینک الاوّل کہلاتا ہے۔ ریاض میں کئی سال سے مقیم محمد یوسف ایک ہفتہ قبل ہی حیدرآباد سے فیملی کے ساتھ ریاض پہنچے تھے۔

 

محمد یوسف کے آخری سفر کی ساری تفصیلات تو آچکی کہ اتوار کے روز ان انتقال ہو گیا۔ وہ ہفتے کے روز ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے ایک میزائل یا پروجیکٹائل حملے میں شدید زخمی ہو گئے تھے۔یوسف تقریباً ایک ہفتہ قبل اپنی اہلیہ، دو بیٹوں اور بیٹی کے ساتھ عمرہ کی ادائیگی کے لیے حیدرآباد سے روانہ ہوئے تھے۔ یہ خاندان 10 اکتوبر کو مقامی ایئرپورٹ پر چیک اِن کیو کے پاس موجود تھا اور مدینہ روانگی کی تیاری کر رہا تھا کہ اسی دوران ایر پورٹ پر حملہ ہوا۔ عمارت کا ملبہ یا فسافریں پر آ گرا جن میں محمد یوسف علی اور ان کے اہل و عیال بھی شامل تھے۔ ملبہ گرنے سے یوسف کی پیروں پر شدید چوٹیں آئیں۔ اور بعد ازاں ہسپتال میں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

 

ان کے بڑے بیٹے کے گھٹنے کی سرجری ہوئی، جبکہ چھوٹے بیٹے کے پاؤں کی تین انگلیاں کاٹ دی گئی ہیں اور وہ ہسپتال میں زیرِ علاج ہے۔ بتایا گیا ان کی اہلیہ اور بیٹی جو معمولی طور پر زخمی ہوئے تھے محفوظ ہیں۔سعودی عرب میں ہندوستانی سفارت خانے نے ایک ہندوستانی شہری کی ہلاکت کی تصدیق بھی کی ہے اور کہا کہ وہ اس خاندان کے ساتھ رابطے میں ہے۔ وزیر خارجہ ہند ایس جے شنکر نے تعزیت کا اظہار کیا اور ریاض میں ہندوستانی مشن کی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

 

حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اور اے آئی ایم آئی ایم (AIMIM) کے سربراہ اسد الدین اویسی نے متوفی کی شناخت کی اور بتایا گیا کہ وہ سفارت خانے ہند ریاض کے ڈپٹی چیف آف مشن DCM جناب بصیر احمد کے ساتھ رابطے میں بھی ہیں۔ انہوں نے وزارت خارجہ سے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی اپیل کی۔اطلاعات کے مطابق ریاض ایرپورٹ پر ہفتے کے روز ہونے والے اس حملے کی ذمہ داری یمن کے حوثی باغیوں نے قبول کی ہے۔ اس حملے میں حیدرآباد کے یوسف سمیت 13 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے، جن میں کم از کم 11 ہندوستانی شامل تھے۔ سفارت خانے کی تازہ ترین اطلاع کے مطابق، تین زخمی ہندوستانی انتہائی نگہداشت (ICU) میں ہیں لیکن ان کی حالت مستحکم ہے، جبکہ دیگر کو ڈسچارج کر دیا گیا ہے یا ان کا عام وارڈز میں منتقل کرکے علاج کیا جارہا ہے۔

 

اطلاع ہے کہ اتوار کے روز ریاض ایئرپورٹ پر ایک اور میزائل حملہ ہوا جس میں تلنگانہ کے ضلع کاماریڈی سے تعلق رکھنے والے نوجواں شیخ سعید شدید زخمی ہوئ۔ان کی حالت انتہائی تشویش ناک بتائی گئی ہے۔ وہ پچھلے کوئی 15 سال سے ایرپورٹ کی اسٹاربگ کافی شاپ کی ملازم تھے۔ہندوستان کی وزارت خارجہ کے علاوہ قطر، کینڈا وغیرہ نے شہری بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی شدید مذمت کی، سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ایسے حملوں کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔

 

ریاض کے ایک مقامی صحافی کے مطابق سعودی عرب میں ہندوستانیوں سمیت سارے عوام اپنی روزمرّہ کے معاملات میں حسب معمول مصروف ہیں۔ کسی قسم کی وحشت کا شکار نہیں ہیں ہاں سفارت خانہ ہند ریاض کی جاری ہدایت کے مطابق محتاط ضرور ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button