الیکشن کمیشن کی ادارہ جاتی خامیوں کی جانچ کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست، ایس آئی آر پر بھی اٹھائے سوال،سابق چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ

نئی دہلی: ہندوستان کے الیکشن کمیشن کی کارکردگی میں ادارہ جاتی خامیوں کی جانچ کے لیے سپریم کورٹ میں مفادِ عامہ کی ایک عرضی داخل کی گئی ہے۔ اس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان خامیوں کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد ماہرین کی کمیٹی تشکیل دی جائے
جس کی سربراہی ملک کے کسی سابق چیف جسٹس یا سپریم کورٹ کے سابق جج کے سپرد کی جائے۔وکیل وشال تیواری کی جانب سے داخل کردہ اس عرضی میں سپریم کورٹ سے یہ ہدایت جاری کرنے کی بھی درخواست کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن انتخابی مہم کے دوران مذہبی شناخت، مذہبی علامات، فرقہ وارانہ اپیلوں، فرقہ وارانہ شناخت یا نفرت انگیز تقاریر کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کرے۔
عرضی میں کہا گیا ہے کہ اس کا مقصد سیاسی جماعتوں سے غیر وابستہ رہتے ہوئے مستقبل کو مدنظر رکھ کر انتخابی اصلاحات کا مطالبہ کرنا ہے۔ درخواست گزار نہ تو کسی سیاسی جماعت یا عہدیدار کے خلاف فیصلہ چاہتا ہے اور نہ ہی کسی انتخابی نتیجے کو چیلنج کررہا ہے۔
یہ عرضی ’دی انڈین ایکسپریس‘ میں 23 ستمبر کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ پر مبنی ہے۔ رپورٹ کے مطابق چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی جانب سے یکطرفہ طور پر کیے گئے فیصلوں پر انتخابی کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ دس ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ تحریری طور پر اعتراضات درج کروائے تھے۔
عرضی کے مطابق ان اعتراضات کا تعلق متعدد معاملات سے تھا جن میں قانونی فارم 6 میں مناسب اجازت کے بغیر تبدیلیاں کرنا، انتخابی ڈیٹابیس کو مرکزی سطح پر یکجا کرنا، مغربی بنگال میں منظوری کے بغیر اپیلیں دائر کرنا اور کاموں کی تقسیم سے متعلق احکامات جاری کرنا شامل ہیں۔عرضی میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے ان اختلافی نوٹوں کو تسلیم تو کیا لیکن انہیں معمول کی تجاویز قرار دے کر مسترد کردیا۔
تاہم کمیشن نے یہ واضح نہیں کیا کہ فارم 6 میں تبدیلیوں کی اجازت کس نے دی تھی۔عرضی میں مغربی بنگال میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی کا معاملہ بھی اٹھایا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے ایک حلف نامے سے متعلق میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ووٹر لسٹوں سے خارج کیے گئے افراد نے تقریباً 38.20 لاکھ اپیلیں دائر کی تھیں
لیکن ان میں سے صرف تقریباً 1.02 لاکھ اپیلوں کی یکسوئی ہوسکی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ کمیشن نے اپیلیٹ ٹریبونلس کی تعداد 19 سے بڑھا کر 42 کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔عرضی میں ایک اور رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مہاراشٹر کی مسودہ ووٹر لسٹ میں 2,70,313 ووٹروں کی عمریں 101 سے 150 سال کے درمیان درج تھیں۔
رپورٹ کے مطابق، ایسا تاریخِ پیدائش کے سال درج کرنے کے نظام میں تکنیکی خرابی کے باعث ہوا تھا۔ان تمام معاملات کے پیش نظر عرضی میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کی کارکردگی میں سامنے آنے والی خامیوں کی جانچ کے لیے ماہرین کی ایک آزاد کمیٹی تشکیل دی جائے۔
درخواست گزار کے مطابق، مجوزہ کمیٹی میں آئینی قانون، انتخابی انتظامیہ، شماریات، ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی اور ڈیٹا کے تحفظ کے ماہرین کو شامل کیا جانا چاہیے، تاکہ انتخابی نظام میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرکے مستقبل کے لیے اصلاحات کی سفارشات پیش کی جاسکیں۔



