اسپشل اسٹوری

ایپسٹین فائلوں کے ذریعہ سعودی عرب کو نشانہ بنا رہے ہیں حوثی باغی

حیدرآباد : 24اکتوبر ( اردو لیکس ڈیسک) سعودی عرب اور حوثی باغیوں کے درمیان حملوں کے باعث مغربی ایشیا میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ سعودی عرب کے بنیادی ڈھانچے کو ڈرون اور میزائلوں سے نشانہ بنانے والے حوثی باغی اب اپنے مخالفین کو بدنام کرنے کے لیے امریکہ کے بدنام زمانہ جنسی جرائم کے ملزم جیفری ایپسٹین کا نام استعمال کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق، حوثی باغیوں نے ایپسٹین سے متعلق دستاویزات کو سعودی عرب کے خلاف مہم کا حصہ بنا لیا ہے۔

 

امریکی محکمۂ انصاف نے جیفری ایپسٹین کے جرائم سے متعلق کئی دستاویزات جاری کی تھیں۔ ان دستاویزات میں انکشاف ہوا کہ سعودی شاہی دربار سے وابستہ افراد نے مبینہ طور پر مکہ مکرمہ کے مقدس مقام پر چڑھایا جانے والا غلاف ایپسٹین کو بھیجا تھا۔ حوثی باغی اسی معاملے کو اٹھاتے ہوئے سعودی عرب کے خلاف ویڈیوز، تقاریر اور سوشل میڈیا پوسٹوں کے ذریعے مہم چلا رہے ہیں۔

 

سعودی عرب اور حوثی باغیوں کے درمیان کئی برسوں سے جاری غیر اعلانیہ جنگ بندی چند ماہ قبل ختم ہوگئی تھی، جس کے بعد دونوں جانب سے حملوں میں شدت آگئی۔ سعودی عرب نے الزام لگایا تھا کہ حوثیوں نے مقدس شہر مکہ مکرمہ پر حملے کی کوشش کی، تاہم حوثیوں نے اس الزام کی تردید کی۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق، حوثی گروپ کے سربراہ مہدی المشاط نے دعویٰ کیا کہ مکہ مکرمہ کے مقدس غلاف کو ایپسٹین کے حوالے کرنے والے ہی مقدس شہر پر حملے کی کوشش کا الزام لگا رہے ہیں۔ ان کا یہ بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا، جبکہ یمن کے ایک مزاحیہ فنکار نے بھی اس معاملے پر ویڈیو جاری کی۔ تاہم ان الزامات اور مقدس غلاف کی تصاویر سے متعلق رپورٹوں پر سعودی عرب کی جانب سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

 

واضح رہے کہ جیفری ایپسٹین پر کم عمر لڑکیوں اور نوجوان خواتین کو دھوکے سے جنسی استحصال کے جال میں پھنسانے اور ایک مجرمانہ نیٹ ورک چلانے کے الزامات تھے۔ اس معاملے میں دنیا بھر کی کئی معروف شخصیات کے نام بھی سامنے آئے۔ امریکی محکمۂ انصاف نے اس سال کے آغاز میں اس معاملے سے متعلق لاکھوں دستاویزات جاری کی تھیں۔ ایپسٹین کی 2019 میں جیل میں موت ہوگئی تھی، تاہم اس کی فائلوں کے انکشافات اب بھی دنیا بھر کی اہم شخصیات کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button