10 روپے کے پھٹے نوٹ پر تنازعہ، ڈیلیوری بوائے سمیر حسین نے کرلی خودکشی ؛ دونوں ملزمین گرفتار
’’میری خودداری کو پوری طرح کچل دیا گیا‘‘، 10 روپے کے پھٹے نوٹ پر تنازعہ کے بعد ڈیلیوری بوائے کی خودکشی، دونوں ملزمین گرفتار
نئی دہلی: دارالحکومت دہلی میں محض 10 روپے کے پھٹے نوٹ پر تنازعہ اور مبینہ مارپیٹ سے دلبرداشتہ ہوکر زہریلا مادہ پینے والے 23 سالہ فلپ کارٹ ڈیلیوری بوائے سمیر حسین کی دوران علاج موت ہوگئی۔ پولیس نے اس معاملے میں گاہک اور اس کے پڑوسی کو گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس نے خودکشی کے لیے اکسانے سے متعلق دفعات بھی ایف آئی آر میں شامل کی ہیں اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔ سمیر کی موت کے اگلے دن اس کی 24ویں سالگرہ تھی۔
کیا واقعہ پیش آیا؟
یہ واقعہ 4 اکتوبر کو مشرقی دہلی کے ونود نگر علاقے میں پیش آیا۔ فلپ کارٹ منٹس میں ڈیلیوری ایگزیکٹیو کے طور پر کام کرنے والا سمیر حسین کافی کا جار پہنچانے 65 سالہ رامپال سنگھ کے گھر گیا تھا۔ آرڈر کی رقم ادا کرتے وقت رامپال سنگھ نے اسے 10 روپے کا پھٹا ہوا نوٹ دیا۔ سمیر نے نوٹ تبدیل کرکے دینے کی درخواست کی، جس پر دونوں کے درمیان بحث ہوگئی۔
سمیر نے اس واقعہ سے متعلق اپنے موبائل فون میں چند ویڈیوز بھی ریکارڈ کی تھیں۔ اس کے مطابق، گاہک نے کہا کہ ’’پیسے لینے ہیں تو لے لو، ورنہ یہاں سے چلے جاؤ۔‘‘ سمیر نے یہ الزام بھی لگایا کہ رامپال سنگھ نے اپنے سیاسی روابط کا حوالہ دیتے ہوئے اسے مارنے کی دھمکی دی۔
پڑوسی پر مارپیٹ کا الزام
سمیر کے الزام کے مطابق، رامپال سنگھ کا پڑوسی راکیش عرف بنٹی (30) وہاں پہنچا اور اس نے سمیر کو تین سے چار مرتبہ تھپڑ مارے۔ سمیر کا کہنا تھا کہ اس کی معاشی حالت کا حوالہ دیتے ہوئے بھی اس کی توہین کی گئی۔اس واقعہ کے بعد سمیر نے پولیس میں شکایت درج کروائی تھی۔ تاہم، اس نے اپنی ویڈیو میں کہا تھا کہ اسے یقین نہیں ہے کہ اسے انصاف ملے گا یا نہیں۔
ویڈیو میں خودداری مجروح ہونے کا اظہار
سمیر کی ریکارڈ کردہ ایک ویڈیو میں اس کے ہاتھ میں ایک بوتل دکھائی دیتی ہے، جس میں موجود مادے کو اس نے دوا بتایا تھا۔ ویڈیو میں اس نے کہا تھا کہ اگر اگلے 24 گھنٹوں میں اسے انصاف نہیں ملا تو وہ یہ مادہ پی لے گا۔سمیر نے اپنی ماں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا تھا، ’’میری خودداری کو پوری طرح کچل دیا گیا ہے۔ امی، آپ کا بیٹا بہت مضبوط ہے، لیکن یہ سماج اسے جینے نہیں دے گا۔‘‘ایک دوسری مبینہ ویڈیو میں سمیر کو بوتل میں موجود مائع مادہ پیتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس کے بعد وہ کہتا ہے کہ ’’میں مرنے والا ہوں۔‘‘
5 اکتوبر کو ہاسپٹل میں شریک
سمیر کے چچا محمد شمیم کے مطابق، سمیر نے 5 اکتوبر کو چوہوں کو مارنے کے لئے استعمال ہونے والا زہریلا مادہ پی لیا تھا۔ اس کے بعد اسے مشرقی دہلی کے لال بہادر شاستری ہاسپٹل میں شریک کروایا گیا۔
محمد شمیم نے بتایا، ’’5 اکتوبر کو ہمیں فون آیا کہ سمیر نے زہریلا مادہ پی لیا ہے اور اسے ہاسپٹل میں شریک کروایا گیا ہے۔ جب ہم وہاں پہنچے تو اس کی حالت تشویشناک تھی۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ سمیر کے والد ذاکر علیل ہیں، اسی وجہ سے سمیر نے ملازمت اختیار کی تھی۔ وہ اپنی تعلیم کے لیے رقم جمع کرنا چاہتا تھا۔ علاج کے دوران 20 اکتوبر کو سمیر کی موت ہوگئی۔
دونوں ملزمین گرفتار، پولیس کی کارروائی
مشرقی دہلی کے ڈپٹی کمشنر پولیس راجیو کمار نے بتایا کہ شکایت موصول ہوتے ہی پولیس نے ایف آئی آر درج کرلی تھی۔ اس معاملے میں دونوں ملزمین کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ ایک سینئر پولیس عہدیدار کے مطابق، سمیر کی موت کے بعد خودکشی کے لیے اکسانے سے متعلق دفعات بھی ایف آئی آر میں شامل کی گئی ہیں۔
پولیس کے مطابق، رامپال سنگھ کی ایک دکان ہے، جبکہ راکیش بے روزگار ہے۔ واقعہ کے وقت رامپال سنگھ کے خاندان کے افراد گھر پر موجود نہیں تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بحث کی آواز سن کر راکیش باہر آیا تھا۔ اس نے مبینہ طور پر سمیر سے کہا کہ ایک بزرگ شخص سے بحث کرنے پر اسے شرم آنی چاہیے، جس کے بعد اس نے سمیر کو تھپڑ مارے۔
پولیس اس معاملے کی مزید تحقیقات کررہی ہے۔ سمیر کے افراد خاندان اور اس کے ساتھی ڈیلیوری ملازمین نے مطالبہ کیا ہے کہ اسے انصاف دلایا جائے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔




