مضامین

چراغِ حق بجھانے سے روشنی نہیں بجھتی – مساجد کی شہادتیں اور آئینی انصاف کا سوال

تحریر: سید سرفراز احمد

بھارت ایک ایسا ملک ہے جس کا آئین مذہبی آزادی، مساوات اور قانون کی حکمرانی کی ضمانت دیتا ہے۔ اسی آئینی تصور کے تحت مختلف مذاہب کی عبادت گاہوں کا تحفظ محض کسی ایک مذہبی طبقے کا مسئلہ نہیں بلکہ ہندوستان کے سیکولر اور جمہوری ڈھانچے سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ ایسے میں جب کسی مسجد کی تعمیر، موجودگی، ملکیت یا مذہبی حیثیت کو سیاسی تنازع کا موضوع بنایا جاتا ہے، یا کسی عبادت گاہ کو منہدم کیا جاتا ہے، تو سوال صرف ایک عمارت کے باقی رہنے یا گرنے کا نہیں رہتا۔ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا مذہبی مقامات کو سیاسی کشمکش کا میدان بنایا جا رہا ہے؟

 

یہاں یہ فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ ہر مسجد کا انہدام لازماً مذہبی فرقہ واریت کا نتیجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ بعض معاملات میں حکومت یا مقامی ادارے زمین، غیر مجاز تعمیر، سڑک کی توسیع، عوامی منصوبے یا دوسرے قانونی اسباب پیش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ستمبر 2026 میں اجین کی ایک مسجد کے بعض حصوں کو سڑک کی توسیع سے متعلق کارروائی کے تناظر میں ہٹایا گیا، جسے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے قانونی اور عوامی مفاد سے متعلق قرار دیا۔ دوسری طرف بعض معاملات میں مسجد انتظامیہ نے قانونی طریقۂ کار کی پابندی نہ ہونے کا اعتراض بھی اٹھایا ہے۔

 

اس لیے اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ کیا قانون سب کے لیے یکساں طریقے سے نافذ ہو رہا ہے؟ اگر کسی مذہبی عمارت کے خلاف کارروائی ضروری سمجھی جاتی ہے تو کیا نوٹس، سماعت، اپیل، عدالتی نگرانی اور قانونی طریقۂ کار کی مکمل پابندی کی گئی؟ اور کیا اسی نوعیت کے معاملات میں مختلف مذہبی برادریوں کے ساتھ یکساں معیار اختیار کیا جاتا ہے؟ یہی وہ سوالات ہیں جن کے جواب کسی بھی سنجیدہ تجزیے کو جذباتی الزام تراشی سے الگ کرتے ہیں۔ لیکن زمینی صورت حال دیکھتے ہیں تو اس طرح کا قانونی اطلاق ہو یا حکومتی کاروائی صرف ایک مذہب کے ارد گرد ہی گھومتی نظر آتی ہے۔

 

یہاں عبادت گاہوں کے تحفظ کے قانون کی بات کی جاۓ تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس قانون پر سرے سے عمل آواری نہیں ہورہی ہے۔ چوں کہ اس قانون کا بنیادی مقصد عبادت گاہوں کی مذہبی شناخت کو اس حیثیت میں برقرار رکھنا ہے جو 15 اگست 1947 کو موجود تھی۔ قانون کی دفعہ 3 کسی عبادت گاہ کو ایک مذہبی شناخت سے دوسری مذہبی شناخت میں تبدیل کرنے سے روکتی ہے، جبکہ دفعہ 4(1) 15 اگست 1947 کی مذہبی حیثیت برقرار رکھنے کا اصول بیان کرتی ہے۔ اس قانون سے صرف رام جنم بھومی بابری مسجد مقدمے کو مستشنیٰ رکھا گیا تھا۔

 

ابھی تک کئی مساجد پر منادر ہونے کے دعوے پیش کیئے گئے۔ اور کئی مساجد کو سیاسی طاقت کی بناء پر غیر مجاز بتاکر شہید کیا گیا۔ تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا مساجد کی شہادت سیاسی ہتھکنڈہ ہے؟ اگر کسی مسجد کو غیر قانونی تعمیر قرار دے کر منہدم کیا جائے تو اس دعوے کی قانونی بنیاد، ریکارڈ، نوٹس، سماعت اور عدالتی احکامات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ لیکن اگر مذہبی شناخت کو بار بار انتخابی سیاست، اشتعال انگیز بیانات یا تاریخی دعوؤں کے ذریعے سیاسی موضوع بنایا جائے تو اس کے سماجی اثرات ضرور زیرِ بحث آنے چاہئیں۔

 

ہم دیکھتے ہیں آسام میں حالیہ دنوں کے دوران مسماری کی کارروائیوں نے ایک بار پھر ملک میں مذہبی آزادی، شہری حقوق اور حکومتی اختیارات کے استعمال سے متعلق کئی اہم سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ 17 اور 18 اکتوبر 2026ء کو آسام کے ناگون، ہوجائی اور گولاگھاٹ اضلاع میں محفوظ جنگلاتی اراضی سے مبینہ تجاوزات ہٹانے کے لیے بڑے پیمانے پر انہدامی کارروائی کی گئی۔ مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس دوران ایک ہزار سے زائد خاندان بے دخل ہوئے، جن میں اکثریت بنگالی بولنے والے مسلمانوں کی تھی۔ اس کارروائی میں مساجد کے شہادت کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

 

روزنامہ اسکرول کی 18 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق ناگون ضلع کے لوٹوماری لونگجاپ ریزرو فاریسٹ میں سینکڑوں خاندانوں کے مکانات منہدم کیے گئے۔ متاثرہ باشندے عبدالنور نے دعویٰ کیا کہ اس علاقے میں دس سے زائد مساجد بھی منہدم کی گئیں، جن میں بعض پچاس سال سے زیادہ قدیم تھیں۔ دوسری جانب، دی ٹیلی گراف کی رپورٹ میں آل آسام مائنارٹیز اسٹوڈنٹس یونین کے حوالے سے اتوار کی کارروائی میں پانچ مساجد سمیت متعدد عمارتوں کے انہدام کا دعویٰ کیا گیا۔ تاہم، مساجد کی حتمی تعداد کی تصدیق تاحال واضح نہیں ہے۔ لیکن آسام سرکار نے جنگلاتی اراضی کا بہانہ کر ہزاروں مسلمانوں کی تعمیرات اور مساجد کو زمین بوس کردیا۔ کیا یہ جانب دارانہ ظلم نہیں کہلاۓ گا؟ جب ایک عوامی سرکار جانب دارانہ کاروائی کے ذریعہ ایک ہی مذہب کے طبقے اور اس کے مساجد کو نشانہ بناتی رہے تو کیا یہ کاروائی انصاف پر مبنی ہوگی؟کیا آسام میں جنگلاتی اراضی پر غیر مجاز ہندو طبقے کے منادر اور ان کی آبادی موجود نہیں ہے اگر ہے تو پھر کاروائی صرف مسلمانوں پر کیوں؟ کیا یہ کاروائی اکثریت اور اقلیت میں تفریق نہیں کہلاۓ گی؟

 

پورے ملک کو پتہ ہے کہ آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما کس قدر مسلمانوں سے نفرت کی سیاست کرتے ہیں۔ لیکن آسام حکومت نہایت ہی چالاکی اور شاطرانہ چال بازیوں سے مسلمانوں کی املاک اور مساجد کو نشانے پر رکھ کر کمزور کرنا چاہتی ہے۔ اس ضمن میں آسام حکومت کا مؤقف ہے کہ کارروائی محفوظ جنگلاتی اراضی کو غیر قانونی قبضوں سے آزاد کرانے کے لیے کی گئی۔ اور یہ عدالتی احکامات کے مطابق تھی۔ دوسری طرف، متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ ان کے آبا و اجداد کئی دہائیوں سے ان علاقوں میں آباد تھے اور بعض خاندانوں کو ماضی میں حکومت نے ہی زمین فراہم کی تھی۔ مقامی مسلمانوں کے مطابق ان کے خاندانوں کو 1974ء میں زمین دی گئی تھی۔ یہ دعوے اس معاملے کو تجاوزات کے سوال سے آگے لے جاتے ہیں۔ یہاں یہ بنیادی سوال اٹھتا ہے کہ جب حکومت کی طرف سے ہی یہ اراضی فراہم کی گئی تو آج انھیں کس بناء پر غیر مجاز قرار دیا جارہا ہے؟ کیا حکومت نے مسماری سے قبل ہر متاثرہ خاندان کی آبادکاری کی تاریخ، دستاویزات اور قانونی حیثیت کا منصفانہ جائزہ لیا تھا؟

 

آئینِ ہند کی دفعہ 25 مذہبی آزادی کا حق دیتی ہے۔ دفعہ 14 قانون کے سامنے مساوات اور دفعہ 21 زندگی اور شخصی آزادی کے تحفظ سے متعلق ہے۔ ان دفعات کا تقاضا ہے کہ حکومتی کارروائی میں امتیاز نہ ہو۔ اور انسانی وقار کا تحفظ کیا جائے۔ تاہم، مذہبی آزادی کا حق بھی کسی مخصوص زمین پر غیر مشروط ملکیت کا متبادل نہیں، ہر معاملے کا فیصلہ متعلقہ حقائق اور قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔ آسام میں بلڈوزر کاروائی صرف مساجد کی شہادت تک محدود نہیں۔ یہ ان بے گھر خاندانوں کے مستقبل، بچوں کی تعلیم، روزگار اور بنیادی ضروریات کا مسئلہ بھی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ متاثرین کی قانونی حیثیت اور شکایات کی شفاف جانچ کرے، امتیازی سلوک کے الزامات کا جواب دے۔

 

آسام سرکار کو مسلمانوں کی مساجد اور ان کے گھروں کو مسمار کرنے کی بہت جلدی ہے۔ تاکہ ریاست کی اکثریتی عوام کو یہ دکھایا جاسکے کہ ہم ہندو راشٹر کے قیام کے لیئے کتنی محنتیں کر رہے ہیں۔ لیکن ان فاشسٹ حکمرانوں کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ عمارتیں گرائی جاسکتی ہیں، لیکن کسی عقیدے کی روشنی کو محض مادی انہدام سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ ہاں مذہبی ٹھیس، مذہبی جذبات سے کھلواڑ اور ظلم کے حدود کو پار کیا جاسکتا ہے۔ لیکن چراغِ حق کو ہرگز بجھایا نہیں جاسکتا۔ یہ فطرت کا قانون ہے کہ ظالم کو ڈھیل دی جاتی ہے۔ پھر ایک وقت آتا ہے کہ ایسے ظالموں کے پیر اکھڑتے ہوۓ دنیا دیکھتی رہ جاۓ گی۔ دنیا ایسی مثالیں ماضی کے دور میں دیکھ چکی ہے۔ ایک بات اہم ہے کہ انصاف کا تقاضا ہم صرف چیخ کار کرکے یا جذباتی نعروں سے پورا نہیں کرسکتے۔ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر حقائق اور قانونی جنگ کے علاوہ مزاحمت کے راستے کو اختیار کرنا پڑتا ہے۔

 

یہاں ایک اہم سوال بار بار یہ نکل کر آرہا ہے کہ عدلیہ سے مسلمانوں کو عدالتوں سے فوری یا مطلوبہ انصاف نہیں مل رہا تو پھر کیا کیا جائے؟

اس کے لیئے ایک چار نکاتی کام کا ایجنڈہ تیار کیا جاۓ۔جس میں پہلا کام یہ ہونا چاہیے کہ ہر مسجد، قبرستان، وقف کی زمین اور تاریخی مذہبی مقام کے متعلق دستاویزات محفوظ کی جائیں۔ ملکیت کے کاغذات، وقف ریکارڈ، قدیم نقشے، رجسٹری، میونسپل ریکارڈ، تصاویر اور عدالتی فیصلوں کو باقاعدہ ڈیجیٹل آرکائیو میں رکھا جائے۔ یہ مستقبل کے قانونی تنازعات میں دستاویزات کے طور پر کام آئیں گی۔

 

دوسرا ہر کارروائی کے خلاف فوری طور پر قانونی ماہرین سے رجوع کیا جائے۔ نوٹس ملنے کے بعد خاموش رہنے کے بجائے وقت پر اعتراض، اپیل، نظرثانی یا مناسب عدالتی درخواست دائر کی جائے۔ مقامی سطح پر ایسے وکلاء اور قانونی ماہرین کا نیٹ ورک بنایا جاسکتا ہے جو عبادت گاہوں سے متعلق مقدمات کو مسلسل مانیٹر کرے۔

 

تیسرا، مسلمان اپنی جدوجہد کو صرف مذہبی تنظیموں تک محدود نہ رکھیں۔ آئینی حقوق، قانون کی حکمرانی اور مذہبی آزادی صرف مسلمانوں کے مسائل نہیں ہیں۔ ہندو، سکھ، عیسائی، بدھ، جین اور دیگر مذہبی و سماجی حلقوں میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو قانون کی بالادستی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے حامی ہیں۔ ان کے ساتھ آئینی بنیادوں پر تعاون لیا جاسکتا ہے۔ جو ایک وسیع تر شہری جدوجہد پیدا کرسکتا ہے۔

 

چوتھا اور آخری کام احتجاج کا راستہ پرامن، آئینی اور قانونی ہونا چاہیے۔ یہ راستہ مسلم تنظیموں کے اندر ابھی فی الحال نہ کے برابر ہے۔ جب آپ کا حق آپ سے چھینا جارہا ہے تو جمہوریت میں مزاحمت کا راستہ اختیار کرنا جمہوری اصول ہے۔ یہ ایک ایسا راستہ ہے جس سے وقت کے حکمرانوں کے اندر لرزہ پیدا کرتا ہے۔ اس کے لیئے ملت اسلامیہ ہند کی ملی تنظیموں کو منظم لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ مسلسل جدوجہد، نصرتِ خداوندی کے حصول کا ذریعہ ہوتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button