ایم ایل سی مرزا رحمت بیگ کو بلیک میلنگ ۔ خاتون سمیت 6 ملزمین گرفتار

حیدرآباد: مجلس سے برطرف ایم ایل سی مرزا رحمت بیگ کو بلیک میل کرکے رقم وصول کرنے کے الزام میں نارسنگی پولیس نے چھ افراد کو گرفتار کرلیا۔
ملزمین پر الزام ہے کہ انہوں نے مرزا رحمت بیگ کی تبدیل شدہ تصاویر (Morphed Photos) اور ڈیپ فیک ویڈیوز سوشل میڈیا پر پھیلانے کی دھمکی دے کر ان سے رقم وصول کرنے کی کوشش کی۔28 اگست کو مرزا رحمت بیگ کو اے آئی ایم آئی ایم پارٹی سے خارج کردیا گیا تھا۔
ان کی پارٹی سے معطلی سے ایک دن قبل ہی انہوں نے پولیس میں شکایت درج کروائی تھی کہ کچھ نامعلوم افراد ان کی تبدیل شدہ تصاویر اور ویڈیوز آن لائن پھیلانے کی دھمکی دے کر انہیں بلیک میل کر رہے ہیں۔اس سلسلے میں حیدرآباد سائبر کرائم پولیس نے 27 اگست کو مقدمہ درج کیا تھا۔بعد ازاں ایم ایل سی کی جانب سے درج کروائی گئی ایک الگ شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے
نارسنگی پولیس نے جمعرات کی رات چھ افراد کو گرفتار کرلیا۔گرفتار ملزمین کی شناخت محمد محسن خان (35 سال) فاطمہ بیگم (29 سال) محمد سمیر (20 سال) محمد ضمیر (20 سال) محمد عمران (18 سال) سید ریحان (20 سال) کو گرفتاررکرلیا۔ یہ تمام افراد بنڈلہ گوڑہ اور چندرائن گٹہ کے رہنے والے ہیں۔
نارسنگی پولیس کے مطابق ملزمین نے مرزا رحمت بیگ کی تبدیل شدہ تصاویر اور ڈیپ فیک ویڈیوز سوشل میڈیا پر پھیلانے کی دھمکی دے کر ان سے 5 کروڑ روپے کا مطالبہ کیا تھا۔
ملزمین نے ایک درمیانی شخص کے ذریعے 5 لاکھ روپے وصول کیے تھے اور مزید 5 لاکھ روپے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ایم ایل سی کی شکایت پر پولیس نے جمعرات کی رات ابراہیم باغ میں واقع ان کے دفتر میں جال بچھایا
جب فاطمہ بیگم اور دیگر ملزمین 4 لاکھ روپے نقدی سے بھرا ہوا باکس وصول کرنے پہنچے تو پولیس نے انہیں گرفتار کرلیا۔پولیس نے ملزمین کے قبضے سے 4 لاکھ 70 ہزار روپے نقدی،دو آٹو رکشے،چھ موبائل فون،ایک لیپ ٹاپ ضبط کیا ہے۔
پولیس نے مزید آٹھ مفرور ملزمین کو گرفتار کرنے کے لیے تلاش شروع کردی ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے تبدیل شدہ تصاویر اور ویڈیوز حاصل کرنے اور انہیں سوشل میڈیا پر پھیلانے میں کردار ادا کیا تھا۔



