جرائم و حادثات

سری رام ساگر پراجکٹ سانحہ، کمشنر پولیس سائی چیتنیہ کا اظہارِ افسوس، عوام سے پانی کے پاس سیلفی نہ لینے کی اپیل

نظام آباد، 26 جولائی ( محمد یوسف الدین خان ) کمشنر پولیس نظام آباد پی سائی چیتنیہ نے سری رام ساگر پراجکٹ (ایس آر ایس پی) کے بیک واٹر (لکشمی کینال) میں چار نوجوانوں کے ڈوبنے کے افسوسناک واقعہ پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ برسات کے موسم میں ڈیموں، تالابوں، بیک واٹر علاقوں، نہروں اور دریاؤں کے قریب ریلز بنانے، ویڈیو ریکارڈ کرنے، سیلفیاں لینے یا نہانے کی کوشش ہرگز نہ کریں، کیونکہ ایسی لاپروائی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔

 

انہوں نے بتایا کہ مپکل پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع سری رام ساگر پراجکٹ کے بیک واٹر میں اتوار کو پیش آئے اس المناک حادثے میں چار نوجوان تیز بہاؤ والے پانی میں ڈوب گئے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس، محکمہ مال، این ڈی آر ایف، محکمہ فائر اور ماہر غوطہ خوروں کی ٹیمیں فوری طور پر جائے حادثہ پہنچ گئیں اور بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔

 

کمشنر پولیس پی سائی چیتنیہ بھی جائے حادثہ پہنچے اور امدادی کارروائیوں کی خود نگرانی کی۔ انہوں نے تمام متعلقہ محکموں کو باہمی تعاون کے ساتھ لاپتہ نوجوانوں کی تلاش میں تیزی لانے کی ہدایت دی۔ تیز بہاؤ اور گہرے پانی کے باعث ریسکیو کارروائیوں میں مشکلات پیش آئیں، تاہم ٹیموں نے مسلسل تلاش جاری رکھی۔

 

ریسکیو ٹیموں نے لاپتہ نوجوانوں میں سے تین کی لاشیں برآمد کر لیں، جن کی شناخت نظام آباد کے آٹو نگر کے رہائشی کلیم (24)، امّو عرف نزہت (24) اور عظیم (24) کے طور پر ہوئی ہے، جبکہ مہاراشٹر کے بوکر سے تعلق رکھنے والے 17 سالہ ارہان کی تلاش آخری اطلاعات تک جاری تھی۔ بعد ازاں نعشوں  کو پوسٹ مارٹم کے لیے سرکاری ہاسپٹل منتقل کر دیا گیا۔

 

حادثے کے مقام پر آرمور کے اے سی پی وینکٹیشور ریڈی، آرمور رورل کے سرکل انسپکٹر جان ریڈی، مپکل کی سب انسپکٹر سہاسنی، دیگر پولیس افسران، محکمہ مال کے عہدیدار، این ڈی آر ایف، فائر سروس کے اہلکار اور ماہر غوطہ خور موجود رہ کر امدادی کارروائیوں کو مربوط انداز میں انجام دیتے رہے۔

 

کمشنر پولیس سائی چیتنیہ نے جاں بحق نوجوانوں کے گھر والوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ نوجوان کی تلاش کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے عوام سے ایک بار پھر اپیل کی کہ برسات کے موسم میں ڈیموں، بیک واٹر، نہروں، تالابوں اور دریاؤں کے قریب جانے سے گریز کریں، کیونکہ پانی کی گہرائی اور بہاؤ کا صحیح اندازہ نہ ہونے کی وجہ سے معمولی سی غفلت بھی قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب بن سکتی ہے

 

۔ انہوں نے شہریوں سے پولیس اور متعلقہ محکموں کی ہدایات پر عمل کرنے کی بھی اپیل کی تاکہ ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button