جرائم و حادثات

ہجومی تشدد میں شہید روزہ دار مسلم خاتون کے ملزم کی رہائی پر گاوں میں جشن – درندہ کا پھول پہنا کر ہیرو کی طرح استقبال

بہار میں 25فروری کو پیش آئے دل دہلا دینے والے واقعہ میں ایک مسلم خاتون کو مبینہ طور پر ہجوم نے بے رحمی سے تشدد کر کے ہلاک کر دیا تھا۔  خاتون کو مبینہ طور پر بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اور وہ یکم مارچ کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں اطلاعات کے مطابق، خاتون نے پانی مانگا تو اسے انسانیت سوز سلوک کا نشانہ بناتے ہوئے پیشاب پلانے پر مجبور کیا گیا، وہ بھی ایسے وقت میں جب وہ رمضان کے روزے سے تھیں۔

 

اب اسی کیس میں مرکزی ملزم منگنو سنگھ کو عدالت سے ضمانت ملنے کے بعد نہ صرف رہائی نصیب ہوئی بلکہ گاؤں میں اس کا استقبال بھی کیا گیا، جیسے کوئی مجرم نہیں بلکہ ہیرو واپس لوٹا ہو۔ یہ منظر متاثرہ خاندان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف بن گیا ہے۔ ایک طرف بیٹی کی دردناک موت کا غم، دوسری طرف انصاف کی امیدوں کا ٹوٹنا—یہ سب کچھ خاندان کے لیے ناقابلِ برداشت صدمہ بن چکا ہے۔

 

خاتونِ کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک قتل نہیں بلکہ مذہبی بنیادوں پر کی گئی تذلیل اور ظلم کی انتہا تھی۔ وہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ پہلے ضمانت مسترد ہونے کے بعد اچانک منظوری کیسے مل گئی؟ آخر ایسا کیا بدل گیا کہ انصاف کا رخ بدل گیا؟ سوشل میڈیا پر ملزم کے حامیوں کی جانب سے جشن منانے کی خبریں اس المیہ کو اور بھی گہرا کر رہی ہیں، اور یہ احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ کہیں انصاف واقعی کمزور تو نہیں پڑ رہا؟

متعلقہ خبریں

Back to top button