جرائم و حادثات

دہلی میں 16 سالہ آیان سیفی کو گھیر کر بے دردی سے قتل، ماں نے کیا انصاف کا مطالبہ

مشرقی دہلی کے تریلوک پوری علاقے میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں 16 سالہ آیان سیفی کو جمعہ، یکم مئی کو مبینہ طور پر چاقو کے پے در پے وار کر کے قتل کر دیا گیا۔

 

آیان اپنی ماں مینا کا اکلوتا بیٹا تھا، جس کی پرورش انہوں نے تنہا کی۔ وہ تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ گھریلو کاموں میں بھی اپنی والدہ کی مدد کرتا تھا۔

 

خاندانی ذرائع کے مطابق آیان ایک دوست کے ساتھ پارک میں کھیل رہا تھا کہ اسی دوران 30 سے 35 سال عمر کے 8 تا 10 افراد نے اسے گھیر کر حملہ کر دیا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ حملہ آور نوجوان نہیں بلکہ مضبوط جسم والے بالغ افراد تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ ملزمان نے آیان کا پیچھا کر کے اس کی پیٹھ، پیٹ اور ٹانگوں پر کئی وار کیے جبکہ اس کا ہاتھ بھی شدید زخمی کر دیا۔

 

گھر والوں کا دعویٰ ہے کہ یہ حملہ منصوبہ بند تھا اور اس کی وجہ ایک مقامی شخص “وکیل” سے متعلق پرانا تنازع تھا، حالانکہ آیان کا اس معاملے سے براہ راست کوئی تعلق نہیں تھا۔ شدید زخمی حالت میں اسے پہلے لال بہادر شاستری ہاسپٹل منتقل کیا گیا اور بعد میں نازک حالت کے باعث ایمس ریفر کیا گیا۔

 

خاندان کے مطابق آیان کو کچھ دیر ہوش آیا تو پولیس نے اس کا ویڈیو بیان ریکارڈ کیا، جس میں اس نے کئی حملہ آوروں کے نام بھی لیے۔ اہل خانہ نے یہ بھی الزام لگایا کہ آیان کو پہلے سے دھمکیاں مل رہی تھیں اور اسے فرقہ وارانہ الفاظ سے نشانہ بنایا جاتا تھا، جس پر اس نے پولیس میں شکایت بھی درج کرائی تھی، تاہم کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔

 

آیان کی والدہ مینا انصاف کے لیے فریاد کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئیں اور انتظامیہ پر تاخیر کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ پولیس کے مطابق کچھ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، تاہم مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

 

اس واقعہ کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور گھر والوں کا کہنا ہے کہ یہ قتل مذہبی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنا کر کیا گیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button