حمل ساقط کرنے کی گولیاں بنی موت کا سبب

حیدرآباد ۔ ناجائز تعلقات کے نتیجہ میں ایک خاتون حاملہ ہوگئی اور مانعِ حمل گولیاں استعمال کرنے کے بعد خاتون کی موت ہوگئی۔ یہ واقعہ حیدرآباد کے کے پی ایچ بی پولیس اسٹیشن کے حدود میں پیش آیا۔
ایس آئی ششی دھر کے مطابق آندھرا پردیش کے راجمندرعلاقے سے تعلق رکھنے والی 30 سالہ خاتون گزشتہ 6 ماہ سے کے پی ایچ بی میں واقع ایک خانگی لیب میں کام کر رہی تھی اور سردار پٹیل نگر کے ایک ہاسٹل میں رہتی تھی۔
اس کی اپنے دوست وینکٹ کے ذریعے وہیں رہنے والے کرشنا ضلع کے 26 سالہ ناگاسائی سے دوستی ہوئی ہوئی۔ ناگاسائی شادی شدہ اور ایک بچی کا باپ ہے۔تقریباً 5 ماہ قبل ناگاسائی اور خاتون کے درمیان قائم ہونے والی شناسائی جنسی تعلقات میں تبدیل ہوگئی۔ اس دوران خاتون حاملہ ہوگئی۔
بتایا گیا ہے کہ ناگاسائی نے اسے حمل ضائع کرنے کے لیے مانعِ حمل گولیاں دیں۔ گولیوں کے مضر اثرات کے باعث خاتون کی حالت بگڑ گئی جس پر ہاسٹل میں رہنے والے ساتھیوں نے 26 اگست کو اسے نظام پیٹ روڈ پر واقع ایک خانگی ہاسپٹل میں داخل کرایا۔
27 اگست کو خاتون کے ماموں کی شکایت پر پولیس نے مقدمہ درج کیا۔ علاج کے اخراجات کا بوجھ زیادہ ہونے کے باعث ارکان خاندان نے یکم ستمبر کو اسے علاج کے لیے کاکیناڈا کے سرکاری ہاسپٹل منتقل کیا۔ علاج کے دوران 14 ستمبر کو خاتون کی موت ہوگئی۔
کے پی ایچ بی پولیس کو اس کی اطلاع دی گئی۔دوسری جانب پولیس نے ناگاسائی کو 9 ستمبر کو گرفتار کرکے عدالتی تحویل میں دے دیا تھا۔



