چیف منسٹر ریونت ریڈی نے نظام حیدرآباد کو تاریخ کے بہترین حکمرانوں میں شمار کیا

تلنگانہ کے چیف منسٹر اے. ریونت ریڈی نے نظام کو تاریخ کے بہترین حکمرانوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے ان کی قیادت اور انتظامی صلاحیتوں کی تعریف کی۔ تلنگانہ اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نظام نے ایک وسیع خطے پر مؤثر انداز میں حکمرانی کی اور اس کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔
چیف منسٹر نے نظام کے مالیاتی نظام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی آمدنی کا بڑا حصہ عوام کی ملکیت والی 60 فیصد اراضی پر عائد ٹیکس سے حاصل ہوتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس سے حاصل ہونے والی یہ بڑی آمدنی ریاست کے خزانے کی بنیاد تھی، جسے بڑے پیمانے پر عوامی منصوبوں اور اداروں کی تعمیر کے لئے استعمال کیا گیا۔
ریونت ریڈی نے نظام کے دور میں قائم کئے گئے کئی اہم اداروں اور منصوبوں کا بھی ذکر کیا۔ ان میں نظام ساگر پروجیکٹ، نظام شوگر فیکٹری، نظام کالج، عثمانیہ یونیورسٹی، قانون ساز کونسل کی عمارت، ہائی کورٹ، سٹی کالج اور عثمانیہ ہاسپٹل شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ ادارے تعلیم، صحت، زراعت اور انتظامی بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں نظام کے دور کی اہم تعمیرات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان میں سے کئی ادارے آج بھی فعال ہیں اور تلنگانہ کے تعلیمی و انتظامی نظام کا حصہ بن کر عوام کو خدمات فراہم کر رہے ہیں۔




