نلگنڈہ لیڈی پرنسپل قتل واقعہ۔ اسکول کا طالب علم ہی قاتل نکلا،مقتولہ کے جسم پر خنجر کے 27 وار۔تحقیقات میں چونکا دینے والے انکشاف

حیدرآباد: نلگنڈہ ضلع کے کونڈاملی پلی میں واقع ناگرجنا اسکول کی پرنسپل روپاریڈی کے سنسنی خیز قتل کیس میں نلگنڈہ ضلع کے ایس پی شرت چندر پوار نے اہم تفصیلات بتائی ہیں۔
ایس پی کے مطابق دو طلبہ عیش و عشرت کے عادی تھے اور پرنسپل کے گھر چوری کرنے گئے تھے۔ دونوں نے پہلے سے چوری کا منصوبہ بنایا تھا کیونکہ اسکول میں فیس وصولی کی جاری تھی اور انہیں گمان تھا کہ پرنسپل کے گھر میں بڑی رقم موجود ہوگی۔انہوں نے بتایا کہ دونوں طلبہ نے تقریباً پانچ دن پہلے ہی چوری کی منصوبہ بندی شروع کردی تھی۔
11 اگست کو اسکول سے واپس آنے کے بعد دونوں پرنسپل کے گھر پہنچے۔ ان میں سے ایک نے ماسک پہن کر دیوار پھاندی اور گھر میں داخل ہوا۔ اسی دوران ماسک اتر گیا اور پرنسپل روپاریڈی نے اسے پہچان لیا۔ شناخت ظاہر ہوجانے کے خوف سے اس نے اپنے ساتھ لائی ہوئی چھری سے پرنسپل پر حملہ کردیا اور 27 مرتبہ چاقو مار کر قتل کردیا۔
اس دوران پرنسپل کا موبائل فون زمین پر گر گیا جسے ملزمین اپنے ساتھ لے گئے۔ایس پی نے نلگنڈہ میں منعقدہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ کیس کی تفتیش کے لیے پانچ خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں۔ مختلف زاویوں سے تحقیقات کی گئیں اور یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کی گئی کہ آیا اس واردات کے پیچھے پرانے مجرم یا دیگر افراد تو نہیں ہیں۔
پولیس نے علاقے کے تقریباً 70 سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ کا جائزہ لیا جس کی مدد سے فرار ہونے والے ملزمین کی شناخت ہوئی۔روپاریڈی نے آخری مرتبہ اپنی پھوپھی سے بات کرتے ہوئے ’’بابو‘‘ کا لفظ استعمال کیا تھا۔ پولیس نے اسی بنیاد پر تحقیقات آگے بڑھائیں اور اسکول میں بھی اس حوالے سے معلومات حاصل کیں۔
قتل کے بعد اسکول میں چار دن کی تعطیلات دی گئی تھیں۔ اسکول دوبارہ کھلنے کے بعد غیر حاضر رہنے والے 13 طلبہ کے بارے میں پولیس نے معلومات حاصل کیں۔ ان میں پانچ دسویں جماعت کے طلبہ تھے۔ ان میں سے دو طلبہ کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ گزشتہ دو تین دنوں سے بڑی رقم خرچ کرتے ہوئے عیش کر رہے تھے۔
پولیس نے انہیں حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی۔تفتیش کے دوران ایک ملزم کے پاس سے 1.54 لاکھ روپے نقد اور ایک آئی فون برآمد ہوا۔ رقم کے بارے میں پوچھنے پر اس نے بتایا کہ یہ رقم اس کے والدین نے دی تھی تاہم نوٹوں پر خون کے دھبے پائے گئے۔ خون کے نمونے لیبارٹری بھیجے گئے جہاں ان کے انسانی خون ہونے کی تصدیق ہوئی۔ایس پی کے مطابق ملزمان میں سے ایک طالب علم اسی اسکول کے ہاسٹل میں رہتا تھا۔
ماضی میں اس کے بیاگ سے کچھ رقم اور موبائل فون ملنے پر پرنسپل روپاریڈی اور اساتذہ نے اسے سرزنش کی تھی اور اسے ہاسٹل سے نکال دیا گیا تھا۔ اس وقت والدین کے سامنے بھی اسے ڈانٹا گیا تھا جس کے بعد اس کے دل میں پرنسپل کے خلاف رنجش پیدا ہوگئی تھی۔پولیس کے مطابق مذکورہ طالب علم کو شراب نوشی کی عادت اور بائیکس کا شوق تھا
اور وہ ایک ماہ قبل گوا بھی گیا تھا۔ زیادہ سے زیادہ رقم حاصل کرنے کی خواہش میں دونوں نے پانچ دن پہلے سے پرنسپل کے گھر چوری کا منصوبہ بنایا۔ انہوں نے قریبی سی سی ٹی وی کیمروں کا جائزہ لیا اور واردات کے لیے مناسب وقت کے بارے میں بھی آپس میں بات کی۔پولیس نے ملزمین کے قبضے سے 1.54 لاکھ روپے نقد
آئی فون اور روپاریڈی کا موبائل فون برآمد کرلیا ہے۔ ایس پی نے بتایا کہ چونکہ دونوں ملزمین نابالغ ہیں اس لیے انہیں جووینائل جسٹس بورڈ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔



