جرائم و حادثات

"بلاتی ہے مگر جانے کا نائی” ورنہ….آندھرا پردیش میں شاطر خواتین کی ٹولی گرفتار

File photo

حیدرآباد: ریاست آندھرا پردیش کے راجمندری میں ہنی ٹریپ کے ذریعے مردوں کو اپنے جال میں پھنسانے والے ایک گروہ کا پولیس نے پردہ فاش کیا ہے۔ پولیس نے چار خواتین کو گرفتار کرلیا۔

 

تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ اس گروہ نے ایک متاثرہ شخص سے پہلے ہی 10 لاکھ روپے بٹور لیے تھے۔پولیس کے مطابق چاروں خواتین نے مل کر ایک گینگ بنا رکھی تھی۔ ان کا طریقۂ واردات یہ تھا کہ وہ ریلوے اسٹیشنوں اور بس اسٹاپس پر تنہا مردوں کو نشانہ بناتیں۔

 

پہلے ان سے دوستانہ انداز میں بات چیت کرتیں، پھر فون نمبر حاصل کرکے روزانہ رابطے میں رہتیں۔کچھ دنوں بعد وہ متاثرہ شخص کو اپنی باتوں میں الجھاتیں اور گھر آنے کی دعوت دیتی۔ جیسے ہی کوئی شخص ان کے گھر پہنچتا مبینہ طور پر اس کی لاعلمی میں قابل اعتراض تصاویر کھینچ لی جاتیں

 

بعد میں انہی تصاویر کو بنیاد بنا کر اسے بلیک میل کیا جاتا اور رقم کا مطالبہ کیا جاتا۔پولیس کے مطابق رقم نہ دینے کی صورت میں خواتین مبینہ طور پر زیادتی کی کوشش کا جھوٹا مقدمہ درج کروانے کی دھمکی دیتی تھیں۔

 

اس طرح کئی مرد اس گینگ کے جال میں پھنس چکے ہیں۔ بعض متاثرین نے ہمت کرکے پولیس سے شکایت کی جبکہ کئی لوگ اپنی عزت متاثر ہونے کے خوف سے خاموش رہے۔

 

متاثرین کی شکایات کی بنیاد پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے راجمندری کے تادی کوٹو علاقے سے تعلق رکھنے والی نوینا، ستیہ وتی، وینکٹا لکشمی اور ایک خاتون کو گرفتار کرلیا۔

 

پولیس نے بتایا کہ اس گینگ کے خلاف پہلے سے بھی مقدمات درج ہیں اور ملزمین ضمانت پر رہا ہونے کے بعد دوبارہ مبینہ طور پر ہنی ٹریپ کی وارداتوں میں ملوث ہوگئے تھے۔

 

ضروری ہے کہ سوشل تعلقات یا اچانک ہونے والی دوستی کے معاملے میں احتیاط ضروری ہے۔ کسی اجنبی کے اصرار پر ذاتی معلومات، فون نمبر یا تصاویر شیئر کرنے اور اس کے گھر جانے سے پہلے اچھی طرح سوچنا چاہیے۔

 

اگر کوئی شخص بلیک میلنگ یا جھوٹے مقدمے کی دھمکی دے تو خوفزدہ ہونے کے بجائے فوراً پولیس سے رابطہ کرنا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button