ایسے مطالبات کئے گئے جو جنگ کے ذریعہ بھی حاصل نہیں کئے جاسکتے تھے۔ ایران

نئی دہلی: امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات ناکام ہو گئے۔ امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران نے ان کی شرائط قبول نہیں کیں اسی وجہ سے کوئی معاہدہ طے نہیں پا سکا۔ تاہم ایران نے الزام لگایا کہ
امریکہ کی بے معنی مطالبات ہی مذاکرات کی ناکامی کی اصل وجہ ہیں۔ ایران نے کہا کہ امریکہ نے ایسی چیزیں مطالبہ کیں جو جنگ کے ذریعے بھی حاصل نہیں کی جا سکتیں۔ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق
عوامی قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ایرانی وفد نے 21 گھنٹے تک مذاکرات کیے۔ معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایرانی نمائندوں نے ہر ممکن کوشش کی۔ لیکن امریکہ کے بے بنیاد مطالبات کی وجہ سے مذاکرات ناکام ہو گئے۔
گھانا میں موجود ایرانی سفارت خانے نے کہا کہ امریکہ نے مذاکرات میں وہ مطالبات رکھے جو وہ جنگ کے ذریعے بھی حاصل نہیں کر سکا۔ ایران نے واضح کیا کہ اس نے ان تمام مطالبات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
مزید یہ بھی کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بند ہی رہے گی جس کے باعث جے ڈی وینس خالی ہاتھ واپس لوٹ گئے۔ ایران نے طنزیہ انداز میں کہا کہ امریکہ کے پاس اپنی ساکھ بچانے کا کوئی اور راستہ نہیں بچا۔ایران کے
وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کئی معاملات پر اتفاق رائے ہو گیا تھا لیکن دو اہم نکات پر اختلافات کی وجہ سے معاہدہ نہیں ہو سکا۔ تاہم انہوں نے ان نکات کی وضاحت نہیں کی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز اور ایران کے جوہری حقوق سے متعلق تنازعات ہی مذاکرات کی ناکامی کی اصل وجہ ہیں۔



