اب لوک سبھا کی نشستیں 850 ہو جائیں گی؟

نئی دہلی: پارلیمانی حلقوں کی از سر نو حد بندی اور خواتین کے لیے ریزرویشن بل کے لیے راہ ہموار ہو گئی ہے۔ مرکزی حکومت اس ماہ کی 16 تاریخ کو یہ دونوں بل پارلیمنٹ میں پیش کرے گی۔ پارلیمانی امور کی وزارت نے ارکانِ پارلیمنٹ کو اس بارے میں اطلاع دے دی ہے
اور ان کے لیے بلوں کی کاپیاں بھی ارسال کر دی گئی ہیں۔ حلقوں کی از سر نو حد بندی سے متعلق بل کی تجاویز کے مطابق ریاستوں میں لوک سبھا کی نشستیں 815 تک بڑھائی جا سکتی ہیں جبکہ مرکزی زیر انتظام علاقوں میں 35 نشستوں کے اضافے کا امکان ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر لوک سبھا کی
نشستیں 543 سے بڑھ کر 850 تک پہنچ سکتی ہیں۔اطلاعات کے مطابق لوک سبھا میں اس بل کی منظوری کے بعد مرکزی حکومت ڈیلیمٹیشن کمیشن قائم کرے گی اور تیزی سے نشستوں میں اضافے کا عمل مکمل کر کے اسے 2029 کے انتخابات میں نافذ کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔
مزید یہ کہ نشستوں میں اضافے کے تناسب سے ایس سی اور ایس ٹی ریزرویشن بھی بڑھنے کا امکان ہے۔ مردم شماری کے بعد آنے والے اعداد و شمار کی بنیاد پر اگر نشستوں میں اضافہ کیا گیا تو شمالی اور جنوبی ہندوستان کے درمیان فرق پیدا ہونے کا خدشہ ہے
جس پر جنوبی ریاستوں کی سیاسی جماعتیں ابتدا ہی سے تشویش ظاہر کر رہی ہیں۔ اسی تناظر میں اطلاعات ہیں کہ تمام ریاستوں میں لوک سبھا اور اسمبلی کی نشستوں میں اوسطاً 50 فیصد اضافہ کرنے
کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ تمام ریاستوں کی موجودہ سیاسی نمائندگی برقرار رہے۔



