انٹر نیشنل

اور جب ٹرمپ انٹرویو درمیان میں ہی چھوڑ کر چلے گئے

نئی دہلی: امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایک بار پھر میڈیا کے ساتھ تلخ بحث کے لئے سرخیوں میں ہیں۔ اس بار انھوں نے ’این بی سی نیوز‘ کی صحافی کے ساتھ انٹرویو کے دوران نہ صرف تلخ بحث کی بلکہ انٹرویو بیچ میں ہی چھوڑ کر چلے گئے۔

 

ٹرمپ نے صحافی اور میڈیا اداروں پر جانبدار اور بے ایمان ہونے کا الزام لگایا۔ اتوار کو نشر ہوئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کیلیفورنیا کے گورنر انتخابات کا معاملہ اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انتخابی نتائج آنے میں اس لئے تاخیر ہورہی ہے کیونکہ الیکشن میں دھاندلی کی جا رہی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ ووٹنگ کے 4 دن بعد بھی نتائج کا اعلان نہیں کیا گیا جو کہ ان کے مطابق انتخابی گڑبڑی کا اشارہ ہے۔ٹرمپ نے 2020 میں امریکی صدارتی انتخابات کو لے کر اپنے پرانے الزامات بھی دہرائے۔ انہوں نے کہا کہ 2020 کا الیکشن دھاندلی سے بھرا تھا

 

اور اب کیلیفورنیا میں بھی ویسا ہی ہو رہا ہے۔ جب صحافی کرسٹن ویلکر نے ان سے ان الزامات کی حمایت میں ثبوت مانگے تو ٹرمپ نے کہا کہ ’’مجھے صرف دیکھنا ہے، وہی کافی ہے‘‘۔ وہیں صحافی نے جب انہیں یاد دلایا کہ عدالتوں اور انتخابی افسران نے ایسے الزامات کی تصدیق نہیں کی ہے

 

تو ٹرمپ بھڑک گئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سبھی بدعنوان ہیں، ٹھیک آپ کی طرح، آپ کا پریس بدعنوان ہے اور ’میٹ دی پریس‘ بھی بدعنوان ہے۔اس دوران صحافی نے اپنا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ بدعنوان نہیں ہیں لیکن ٹرمپ نے کہا کہ ’’یا تو آپ بدعنوان ہیں یا پھر احمق ہیں۔‘‘ آپ جانتی ہیں کہ انتخابات میں دھاندلی ہو رہی ہے اور آپ کا نیٹ ورک بھی جانتا ہے۔

 

بحث بڑھنے کے ساتھ ہی ٹرمپ نے این بی سی کے علاوہ اے بی سی، سی بی ایس اور سی این این جیسے مشہور امریکی میڈیا اداروں کو بھی ’یک طرفہ‘ اور ’بدعنوان‘ بتایا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ انتخابی انتظامات کے معاملے میں ’تیسری دنیا کا ملک‘ جیسا بن گیا ہے۔ کچھ دیر بعد ٹرمپ نے واضح طور سے کیا کہ اب وہ انٹرویو جاری رکھنا نہیں چاہتے۔

 

انہوں نے کہا کہ ’بس، اب بہت ہو گیا۔ یہیں ختم کرتے ہیں۔ شکریہ۔‘ اس کے بعد وہ انٹرویو چھوڑ کر چلے گئے۔حالانکہ ویلکر نے انہیں روکنے اور بات چیت جاری رکھنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس انٹرویو کے لئے خاص طور سے

 

وسکونسن تک آئی ہیں۔ اس پر ٹرمپ نے جواب دیا کہ انہوں نے بارش میں ایک گھنٹے تک انٹرویو دیا ہے اور اب کافی وقت دے چکے ہیں۔ انہوں نے میڈیا کو سُدھرنے کی بھی صلاح دی۔ انٹرویو کے دوران 6 جنوری 2021 کو امریکی پارلیمنٹ ہاؤس

 

(کیپیٹل) پر ہوئے حملے کا بھی معاملہ اٹھا۔ ویلکر نے پوچھا کہ کیا پولیس افسران پر حملہ کرنے کے الزام میں جرم قبول کرنے والے لوگوں کو ٹرمپ کے مجوزہ ’ اینٹی ویپنائزیشن فنڈ‘ سے فائدہ مل سکتا ہے۔ اس سوال پر بھی ٹرمپ گھبرائے

 

نظر آئے اور انہوں نے سیدھا جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ کئی لوگوں نے طویل جیل کی سزا کے ڈر سے جرم قبول کیا تھا۔اس کے بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ کیا کسی نے

 

کیلیفورنیا میں جاری اس دھاندلی والے الیکشن پر نظر رکھی ہے؟ 2 بڑْے ریپبلیکن امیدوارں کے ساتھ دھوکہ ہورہا ہے اور امریکہ کے ساتھ بھی۔ اگر ڈیمو کریٹس اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے

 

تو بہت بڑی مصیبت اور افرا تفری مچ جائے گی۔ اس ’الیکشن‘ پر باریکی سے نظر رکھیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button