لندن کے لگژری ہوٹل میں سعودی شہزادے کی موت، کئی ماہ بعد حقیقت سامنے آگئی

لندن: برطانیہ کے دارالحکومت لندن کے ایک لگژری ہوٹل میں گزشتہ سال انتقال کرنے والے 29 سالہ سعودی شہزادے کی موت کی تفصیلات کئی ماہ بعد منظر عام پر آئی ہیں۔ سعودی شہزادہ عبداللہ بن فہد بن عبداللہ بن عبدالعزیز بن جلوی آل سعود گزشتہ سال 25 نومبر کو لندن کے علاقے کینسنگٹن میں واقع میریئٹ ہوٹل میں مردہ پائے گئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق شہزادہ 19 نومبر کو سگریٹ خریدنے کے لیے ہوٹل سے باہر گئے تھے اور واپس آنے کے بعد ایک ہفتے تک اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلے۔ بعد میں جب ہوٹل کا عملہ صفائی کے لیے کمرے میں داخل ہوا تو وہ باتھ روم کے فرش پر بے ہوش پڑے ہوئے ملے۔ فوری طور پر ایمرجنسی طبی خدمات کو اطلاع دی گئی، مگر ڈاکٹروں کی تمام کوششوں کے باوجود انہیں بچایا نہ جا سکا۔
لندن پولیس نے واقعے کی تحقیقات کے دوران خون کے نمونے حاصل کیے۔ تازہ فرانزک رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ شہزادے نے ضرورت سے زیادہ منشیات، شراب اور مختلف ادویات استعمال کی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق انہی اشیا کے امتزاج کے باعث انہیں دل کا دورہ پڑا، جو موت کی وجہ بنا۔
تحقیقاتی حکام نے انر ویسٹ لندن کورونر کورٹ کو بتایا کہ شہزادے کی موت کے پیچھے کسی سازش یا کسی دوسرے شخص کے ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے۔
دوسری جانب سعودی شاہی عدالت نے بھی شہزادہ عبداللہ بن فہد بن عبداللہ بن عبدالعزیز بن جلوی آل سعود کے انتقال کی سرکاری طور پر تصدیق کی ہے۔ عدالت کے مطابق ان کی نمازِ جنازہ اور تدفین ریاض کی وی آئی پی امام ترکی بن عبداللہ مسجد میں انجام دی گئی۔



