انٹر نیشنل

سعودی آرامکو ریفائنری پر بیلسٹک میزائل حملہ – حوثیوں نے بحیرہ احمر میں ناکہ بندی کا اعلان کردیا

سعودی آرامکو ریفائنری پر مبینہ بلاسٹک میزائل حملہ، حوثیوں نے بحیرہ احمر میں ناکہ بندی کا اعلان، عالمی منڈی میں تشویش بڑھ گئی

 

مغربی ایشیا میں ایک جانب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، تو دوسری جانب سعودی عرب اور ایران نواز حوثی باغیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی نے دنیا بھر میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر میں ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل ریفائنریوں میں شامل سعودی آرامکو کی راس تنورہ ریفائنری کو بلاسٹک میزائل حملے کا نشانہ بنایا ہے۔

 

حوثیوں کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی یمن پر سعودی فضائی حملوں کے جواب میں کی گئی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جب تک یمن پر عائد ناکہ بندی ختم نہیں کی جاتی، وہ بحیرہ احمر میں جہازوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ ڈالتے رہیں گے۔

 

ذرائع کے مطابق حملے کے بعد ریفائنری کے مقام پر شدید آگ بھڑک اٹھی، جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔ بعض اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ احتیاطی طور پر ریفائنری کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا، تاہم بعد میں آگ پر قابو پالیا گیا۔ اس واقعے میں جانی یا مالی نقصان کی سرکاری تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئی ہیں۔

 

ادھر امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں پہلے ہی بلند سطح پر ہیں۔ آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے جہاز رانی متاثر ہونے کے بعد تیل کی ترسیل دباؤ کا شکار ہے۔ اب حوثیوں نے سعودی جہازوں کی آمد و رفت روکنے کے لیے باب المندب آبنائے بند کرنے کی دھمکی بھی دی ہے، جس سے عالمی تیل کی سپلائی مزید متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

 

باب المندب آبنائے بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والا نہایت اہم بحری راستہ ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً 12 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر اس راستے میں رکاوٹ پیدا ہوئی تو عالمی تجارت اور خام تیل کی قیمتوں پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button