جرائم و حادثات

پہلی بیوی اچانک نکاح کے وقت پہنچ کر کردیا ہنگامہ ، دوسری شادی رک گئی، دولہا پولیس کی تحویل میں

کانپور: اترپردیش کے شہر کانپور میں دوسری شادی کرنے جا رہے ایک نوجوان کا نکاح اس وقت رک گیا جب اس کی پہلی بیوی اچانک فنکشن ہال پہنچ گئی اور شدید احتجاج شروع کر دیا۔

 

خاتون کا کہنا تھا کہ اس کی ابھی تک شوہر سے طلاق نہیں ہوئی، اس لئے دوسری شادی غیر قانونی ہے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی، دولہے کو تحویل میں لے کر دونوں فریقین سے پوچھ تاچھ شروع کر دی، جبکہ خاتون نے ایف آئی آر درج کرنے کے لئے تحریری شکایت بھی دی ہے۔

 

یہ واقعہ چکیری پولیس اسٹیشن حدود کے شیام نگر علاقے میں واقع ایک میرج لان میں پیش آیا۔ متاثرہ خاتون کے مطابق اس کی 2022 میں عاشف نامی نوجوان سے محبت کی شادی ہوئی تھی۔ دونوں کی ملاقات 2018 میں فیس بک کے ذریعہ ہوئی، بعد ازاں واٹس ایپ پر رابطہ بڑھا اور دونوں خاندانوں کی رضامندی سے نکاح انجام پایا۔ اس وقت عاشف کا گھر چھوٹا ہونے کی وجہ سے رخصتی مؤخر کر دی گئی تھی، جبکہ جنوری 2024 میں نیا گھر بننے کے بعد رخصتی ہوئی۔

 

خاتون کا الزام ہے کہ شادی کے چند ماہ بعد ہی شوہر اور سسرال والوں نے جہیز اور رقم کا مطالبہ شروع کر دیا۔ انکار پر اس کے ساتھ مارپیٹ کی گئی اور گھر سے نکالنے کی دھمکیاں دی گئیں، جس کے بعد وہ اپریل 2024 میں اپنے میکے واپس آ گئی۔ جون 2025 میں اس نے جہیز کے لئے لیے ہراسانی کا مقدمہ درج کرایا، جو اس وقت عدالت میں زیر سماعت ہے۔

 

خاتون کا کہنا ہے کہ عدالتی مقدمہ چلنے کے باوجود شوہر مسلسل اس سے واٹس ایپ پر رابطے میں تھا اور اکثر ملاقات بھی کرتا تھا، اسی لئے اسے دوسری شادی کا کوئی شبہ نہیں ہوا۔ جمعہ کی رات اسے شوہر کے ایک پڑوسی نے اطلاع دی کہ عاشف شیام نگر کے ایک میرج لان میں دوسری شادی کر رہا ہے۔ اس نے شوہر اور اس کے گھر والوں سے رابطہ کی کوشش کی، مگر کسی نے فون نہیں اٹھایا، جس پر وہ اپنی بہن کے ساتھ سیدھے فنکشن ہال پہنچ گئی۔

 

خاتون کے پہنچتے ہی شادی کی تقریب میں افرا تفری مچ گئی اور اس نے نکاح رکوانے کا مطالبہ کرتے ہوئے شدید احتجاج کیا۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر دولہے کو تحویل میں لے لیا، جس کے بعد نکاح روک دیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ دوسری دلہن اعظم گڑھ کی رہنے والی تھی اور یہ طے شدہ شادی تھی۔

 

چکیری پولیس اسٹیشن کے انچارج اجے پرکاش مشرا نے بتایا کہ دونوں فریقین سے تحریری شکایت طلب کی گئی ہے۔ دستیاب شواہد اور شکایت کی بنیاد پر تحقیقات کی جا رہی ہیں، جس کے بعد قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button